غیر ملکی مبصرین نے جو سوالات اٹھائے الیکشن کمیشن ان کا جواب کیوں نہیں دے رہا

غیر ملکی مبصرین نے جو سوالات اٹھائے الیکشن کمیشن ان کا جواب کیوں نہیں دے رہا
غیر ملکی مبصرین نے جو سوالات اٹھائے الیکشن کمیشن ان کا جواب کیوں نہیں دے رہا

  



تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

الیکشن کمیشن کے سیکرٹری بابر یعقوب فتح نے مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں بلائی گئی ملٹی پارٹیز کانفرنس کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے دوسرے ارکان اپنے عہدوں سے مستعفی ہوں۔ انہوں نے اس کانفرنس میں سیاسی رہنماؤں کے بیانات کو قابل مذمت قرار دیا اور جواباً یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ نتائج کو تسلیم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پورے ملک سے دھاندلی کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ عوام نے آزادانہ حق رائے دہی استعمال کیا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اپنا یہ بیان کمیشن کے دفتر کے باہر میڈیا کے نمائندوں کے سامنے پڑھا اور چلے گئے۔ صحافیوں کو کسی سوال کا موقع نہیں دیا گیا۔ ایسا ہوتا رہتا ہے کہ بعض اوقات میڈیا سے بات کرنے والے سیاست دان یا دوسری شخصیات سوالات کے جواب کے لئے تیار نہیں ہوتے یا اس کام کو کسی اگلے وقت کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں، لیکن الیکشن کمیشن کے سیکرٹری تو ان سوالات کا جواب دینے یا باالفاظ دیگر ان الزامات کی صفائی دینے کے لئے آئے تھے جو 25 جولائی کو الیکشن کے نتائج آنے کے ساتھ ہی اٹھنا شروع ہوگئے تھے۔ یہ تو ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ پولنگ پرامن طور پر انعقاد پذیر ہوئی اور بعض پولنگ سٹیشنوں پر سست روی کی شکایات تو ملتی رہیں، لیکن عمومی طور پر کسی بڑی رکاوٹ کا تذکرہ نہیں ہوا۔ اسی سست روی کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) سمیت کئی جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ پولنگ کا وقت بڑھایا جائے لیکن یہ مطالبہ بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ اصل شکایات تو گنتی شروع ہونے کے ساتھ ہی سامنے آئیں۔ جب پولنگ ایجنٹوں کو گنتی کے وقت پولنگ سٹیشنوں سے باہر نکال دیا گیا۔ ماضی میں کسی نہ کسی سٹیشن پر پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالنے کی شکایات تو ملتی رہتی تھیں، لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ ہر کوئی یہ شکایت کر رہا ہو کہ گنتی اس کے سامنے نہیں ہوئی۔ عین ممکن ہے گنتی درست ہوئی ہو اور اس میں کوئی بے قاعدگی بھی نہ ہو، لیکن جب بغیر کسی وجہ کے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالا گیا تو شکایات پیدا ہوئیں۔ اگر ان پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکالنے کا عمل اتنا ہی معصومانہ تھا اور یہ کوئی ایسی بے قاعدگی نہ تھی، جس کا الیکشن کمیشن نوٹس لیتا یا پریزائیڈنگ افسر اس کے ازالے کی کوئی معمولی سی کوشش کرتا تو پھر اس کار بے خیر کے کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ خواہ مخواہ مخالفین کے ہاتھوں میں ایک ہتھیار دے دیا گیا جس کا استعمال کرکے وہ پورے انتخابی عمل کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے۔ دوسری شکایت یہ سامنے آئی کہ پولنگ ایجنٹوں کو ان کی غیر حاضری میں کی جانے والی گنتی کا جو نتیجہ بھی تھمایا گیا وہ مقررہ فارم (فارم 45) پر نہیں تھا۔ یہ نتیجہ سادہ کاغذ پر تھا اور اس پر پریزائیڈنگ افسر کی مہریں لگی ہوئی تھیں۔ یہ طریق کار کیوں اختیار کیا گیا۔ مقررہ فارم پر نتیجہ کیوں نہیں دیا گیا۔ ماضی میں بہت سے الیکشن ایسے تھے، جن پر دھاندلی کے الزام لگتے رہے لیکن پولنگ اسٹیشن پر نتیجہ عموماً درست فارم پر ہی دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے حکام بار بار غیر ملکی مبصرین کا حوالہ دیتے ہیں کہ انہوں نے انتخابات کو شفاف قرار دیا لیکن اس بات کا کوئی جواب نہیں دیتے کہ انہی مبصرین نے اپنی رپورٹ میں 35 ایسے حلقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں ووٹ ہزاروں کی تعداد میں مسترد ہوئے اور جیتنے اور ہارنے والے ووٹوں کا فرق سینکڑوں میں رہا۔ یہ ہزاروں ووٹ کیوں مسترد کئے گئے اور اس میں ایک ہی جماعت کے ووٹ کیوں مسترد ہوئے۔ لگتا ہے یہ ووٹ ایک تیکنیک کے تحت مسترد کئے گئے اور جس بیلٹ پیپر پر ایک امیدوار کے حق میں درست مہر لگی ہوئی تھی، اس پر دوسری مہر کسی طریقے سے لگا دی گئی اور یہ کام کن لوگوں نے کیا؟ جو ووٹر گھر سے ووٹ ڈالنے نکلتا ہے اور بعض صورتوں میں کئی کئی میل دور سے آتا ہے، وہ کیونکر ایک بیلٹ پیپر پر مشکوک مہر لگا سکتا ہے یا ایک سے زیادہ امیدواروں کو ووٹ دے سکتا، سیکرٹری الیکشن کمیشن کو اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ غیر ملکی مبصرین نے جو 35 حلقے ایسے بتائے ہیں کیا ان کا جائزہ لیا گیا کہ ووٹوں کے مسترد ہونے کی کیا وجہ تھی؟ مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھی جو الزامات لگا رہے ہیں، وہ تو بہت سنگین ہیں اور ان کی گفتگو میں تلخی بھی اسی وجہ سے ہے کہ ان کے پاس ایسی شکایات کا انبار ہے، ان کو نظر انداز کرکے اگر الیکشن کمیشن کے سیکرٹری اپنی صفائی میں گھسے پٹے فقروں پر مشتمل بیان پڑھ دیں گے تو اس سے ان سوالات کا جواب تو نہیں مل جائے گا جو اب اٹھ رہے ہیں۔

لاہور میں عمران خان سات سو سے بھی کم ووٹوں سے خواجہ سعد رفیق سے جیت گئے جبکہ کہا یہ جا رہا تھا کہ پورا ڈیفنس جس کے 80 ہزار ووٹ ہیں، خان صاحب کا دیوانہ ہے۔ یہ ووٹ کہاں چلے گئے؟ اور کیا چند سو ووٹوں کی برتری سے جیت عمران خان کے شایان شان ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ نشست خالی ہوئی اور ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا امیدوار یہاں سے جیت گیا تو اس حلقے سے کیا خان صاحب کی جیت مشکوک نہیں ہو جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے نادرا سے مل کر جو آر ٹی ایس سسٹم بنایا تھا، وہ کام ہی نہیں کر سکا، حالانکہ الیکشن سے پہلے اس سسٹم کے بڑے چرچے کئے گئے تھے۔ اس سسٹم کے ذریعے پولنگ سٹیشنوں سے نتیجہ الیکشن کمیشن کو ملنا تھا، جو نہ مل سکا۔ الیکشن کمیشن نے پابندی لگائی تھی کہ کوئی نیوز چینل سات بجے سے پہلے نتیجے کا اعلان نہیں کرے گا، لیکن کم از کم تین چینلوں نے ڈنکے کی چوٹ پر اس پابندی کو ہوا میں اڑایا اور دھڑا دھڑ نتیجہ بتانا شروع کر دیا۔ کیا ان چینلوں کو بھی کسی نے پوچھا یا یہ الیکشن کمیشن کی پابندی کے احکامات سے بے نیاز تھے؟

مزید : تجزیہ


loading...