پولنگ کے بعد اب سویلین بالادستی کو توجہ کا مرکز بنایا جائے ،ایچ آرسی پی

پولنگ کے بعد اب سویلین بالادستی کو توجہ کا مرکز بنایا جائے ،ایچ آرسی پی

  



لاہور ( این این آئی) پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق(ایچ آرسی پی) نے انتخابات کے بروقت اورمجموعی طورپرپرامن انعقاد پراطمینان کا اظہار کیا ہے کہ تاہم انتخابات سے قبل تشدد کے نتیجے میں متعدد جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا گیا ہے ،ایچ آرسی پی انتخابات کے دوران تشدد کا نشانہ بننے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہارکرتا ہے۔ایک بیان میں ایچ آرسی پی نے کہا کہ اگرچہ انتخابات کا انعقاد مجموعی طورپرمنظم اورپرامن رہا،پولنگ کے بعد کی کاروائیوں کے متعلق سیاسی جماعتوں اورایچ آرسی پی کے اپنے مبصرین کی شکایات تشویش کا باعث ہیں۔ ووٹوں کی گنتی کے انتہائی ناقص طریقہ کار، کئی جگہوں پرپولنگ ایجنٹوں کو ووٹوں کی گنتی کے مشاہدے سے روکے جانے اورنتائج کے اعلان میں بہت زیادہ تاخیرہونے کی کئی اطلاعات موصول ہوئیں جنہوں نے انتخابی عمل پرشکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں۔ ان شکوک و شبہات کا مکمل ازالہ کیا جائے تاکہ انتخابات کی ساکھ کو متاثرہونے سے بچایا جا سکے۔ایچ آرسی پی کو فیلڈ سے ملنے والی رپورٹس سے ظاہرہوتا ہے کہ مبصرین کو پولنگ سٹیشنوں تک رسائی کے حوالے سے شدید مشکلات درپیش رہی ہیں، ان انتخابات میں جو مثبت چیزیں دیکھنے کو ملیں وہ یہ تھیں کہ دیہی سندھ اور خیبرپختونخوا میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اورمذہبی اقلیتوں کے کئی نمائندوں کو منتخب ہونے کا موقع ملا ہے۔ تاہم، ان مثبت پیش رفتوں کے باوجود یہ افسوسناک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ احمدیہ کمیونٹی کو موجودہ امتیازی انتخابی قوانین کے تحت ووٹنگ کے عمل سے باہررہنے پرمجبورکیا گیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اجتماع کے حق کا احترام کرتے ہوئے خیبرپختونخوا اوردیگرعلاقوں میں لوگوں کو پرامن احتجاج کی اجازت دے تاکہ وہ اپنے تحفظات کا اظہارکرسکیں۔ایچ آرسی پی نے اپنے دیرینہ مطالبے کو ایک بارپھردہرایا ہے کہ پاکستان کی اندرونی و بیرونی سلامتی کے خدوخال طے کرتے وقت شفافیت کے اصول کو مدنظررکھا جائے اورہندوستان و افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات سیمت تمام پالیسیاں جمہوری انداز میں تشکیل دی جائیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ، پالیسی سازی سے متعلق تمام اہم فیصلوں پرپارلیمانی و جمہوری بالادستی کے بغیران میں سے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی قانونی حدود میں رہ کرکام کریں اوراپنے اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرائے جائیں۔

ایچ آرسی پی

مزید : صفحہ آخر


loading...