مال روڈ کو اصل حالت میں بحال کرنے کیلئے کارروائی آج تک ملتوی

مال روڈ کو اصل حالت میں بحال کرنے کیلئے کارروائی آج تک ملتوی

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے مال روڈ کو اصل حالت میں بحال کرنے کے لئے کارروائی آج 2 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ تاریخی عمارتیں لاہور شہر کا حسن ہیں ،انہیں ہر صورت مین اصل حالت میں بحال کرنا ہے ۔فاضل جج کے روبرو درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے موقف اختیار کیاکہ مال روڈ پر انتظامیہ توجہ نہیں دے رہی جس سے مال روڈکا حسن برباد ہورہا ہے ،عدالت کے روبرو مئیر لاہور کرنل ریٹائرڈ مبشر نے پیش ہوکربتایاکہ مال روڈ سے تمام غیرقانونی سائن بورڈ اتار دئیے گئے ،مال روڈ کو اصل حالت میں بحال کرنے کے لئے چیف سیکرٹری نے اجلاس میں منظور ی دے دی ،مال روڈ پر مجموعی طور پر 92تاریخی عمارتیں ہیں 92میں سے 12عمارتیں سرکاری اور80عمارتیں پرائیویٹ مالکان کے پاس ہیں ۔دوران سماعت مال روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن نے مال روڈ کو اصل حالت میں بحال کرنے کے لئے تعاون کی یقین دہانی کرادی ۔انہوں نے کہاکہ مال روڈ پر موجود تاریخی عمارتوں کی بحال کے لئے 50فیصد فنڈز تاجر برادری دے گی ،اس موقع پر لاہور ہائیکورٹ بار کے صدرانوار الحق پنوں نے عدالت کو تعاون کی یقین دہانی کرادی ،انہوں نے کہاکہ مال روڈ پر وکلا کے بورڈز سے متعلق خود عدالتی حکم پر عمل کراؤں گا ،وکلا ء برادری قانون پر عمل کرتی ہے ،وکلا ء کے بارے میں تاثر غلط ہے ،فاضل جج نے مئیر لاہوراورانوار الحق پنوں کی تعریف کی ،انہوں نے کہاکہ مئیر لاہور کرنل ریٹائرڈ مبشر محنت اور لگن سے کام کررہے ہیں ،فاضل جج نے مزید کہاکہ صدر لاہور ہائیکورٹ بار انوار الحق پنوں انتہائی قابل احترام شخصیت ہیں ،وکلاء ان کی بات پر فوری عمل کرتے ہیں ،عدالت نے تاجربرادری اور ضلعی گورنمنٹ کو ایم او یو سائن کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ایم او یو سائن کرکے تاریخی عمارتوں کو فوری بحال کرنے کے لئے کام شروع کیاجائے۔

کاروائی ملتوی

مزید : صفحہ آخر