ملکی گردشی قرضہ566ارب روپے تک پہنچ گیا، سینیٹ خصوصی کمیٹی میں انکشاف

ملکی گردشی قرضہ566ارب روپے تک پہنچ گیا، سینیٹ خصوصی کمیٹی میں انکشاف

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے گردشی قرضے میں انکشاف کیا گیا ہے پاکستان کا گردشی قرضہ566ارب کی سطح پر پہنچ گیا ہے، صرف 2018ء کے دوران گردشی قرضوں میں 450ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، گھریلو صارفین بجلی کی کل پیداوار کا 72 فیصد جبکہ کمرشل صارفین 38فیصد استعمال کرتے ہیں،گرمیوں کے اندر ایئر کنڈیشنر کے استعمال کے باعث 4ہزار900میگاوات اضافی بجلی استعمال ہوتی ہے،مالی سال 2017کے دوران لائن لاسز کی مد میں پیسکو کو 78،حیسکوکو 27، کیسکوکو 18.7، سیسکو19.6ارب کا نقصا ن ہوا ہے، سینیٹر سراج الحق نے کہا ہمارا بجلی کی ترسیل کا نقصان 70سال پرانا ہے اب ہم 21ہزار میگاواٹ بجلی بھی پیدا کر رہے ہیں لیکن جب تک وہ بجلی ترسیل کرنے کا نظام ہی فرسودہ ہے تب تک اس 21ہزار میگا واٹ بجلی کا کوئی فائدہ نہیں ، سینیٹر شبلی فراز نے کہا ملک کے اندر توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے بڑھتے جا رہے ہیں، گردشی قرضے اورتوانائی کے شعبے میں397ارب کے واجب الادا قرضے ملا کر یہ رقم ایک کھرب سے تجاوز کر گئی ہے، بجلی مہنگی ہوگی تو گردشی قرضے بڑھیں گے ، ان گردشی قرضوں کو کم کرنے کیلئے بجلی کی قیمت کو کم کرنا ہوگا ۔ بدھ کو سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے گردشی قرضے کا اجلاس سینیٹر شبل فراز کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر سراج الحق ، بہرامند خان تنگی، سجاد حسین حسین طوری، جہانزیب جمالدینی،عائشہ رضا فاروق، ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژِن، جوائنٹ سیکرٹری پاور ڈو یژ ن اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی چیئرمین سینیٹر شبلی فراز نے کہا پیسکو کی بجلی کی وصولی اور بجلی کی تقسیم میں 40ارب ر و پے کا فرق آیا ہے۔ اس پر پیسکو کے چیف فنانشل افسر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ہم نے صوبائی حکومت کی ہدایات پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم کیا تھا، جن علاقوں میں 90فیصد بجلی کی چوری کی جاتی ہے وہاں بھی ہمیں پوری بجلی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی جس کے باعث مالی سال 2017کے پہلے چار ماہ میں 40ارب اور اگلے چار ماہ میں 38ارب روپے کا نقصان ہوا۔ بجلی کی پیداوار اور طلب کی سطح پر اصلاحات لانے ،بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں میں بورڈ بنانے کی ضرورت ہے جن کے اندر پیشہ ور افراد کو بھرتی کی جائے جو ان کمپنیوں کے معاملات ٹھیک کر سکیں، اس ضمن میں وفاقی کابینہ نے فیصلہ بھی لیا تھا،اس پر سینیٹر شبلی فراز نے کہا ایسا لگتا ہے کابینہ نے فیصلہ الیکشن سے پہلے لیا تھا تاکہ اپنے اپنے علاقوں میں لوگوں سے ووٹ حاصل کر سکیں، عجیب ہے اگر کابینہ غلط فیصلہ بھی کرے تو بھی بیوروکریسی نے اس حکم پر عملد ر آمد کرنا ہوتا ہے۔این ٹی ڈی سی کے نمائندے نے کمیٹی کو آگاہ کیا ہمارا کام بجلی کو تقسیم کار کمپنیوں تک پہنچانا ہے،آگے اس کی ترسیل کا کام ڈسکوز کی ذمہ داری ہے، ڈسکوز کو اپنا نظام خود اپڈیٹ کرنا ہوگا۔ بلوچستان کو جتنی بجلی کی ضرورت ہے وہ ہم فراہم کر رہے ہیں۔ سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا فاٹا اور قبائلی علاقوں میں تمام ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے کیونکہ ٹیوب ویلز فراہم کردا بجلی کا78فیصد استعمال کرتے ہیں۔ فاٹا میں 22,22گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔غریب آدمی بل ادا نہ کرے تو اس کی بجلی کاٹ دی جاتی ہے لیکن با اثر شخصیات اربوں روپے کی مقروض ہیں پھر بھی ان کو بجلی دی جا رہی ہے۔

گردشی قرضے

مزید : صفحہ آخر


loading...