سپریم کورٹ، صدیق الفاروق کی نظر ثانی درخواست خارج، مصطفی کمال کی حلقہ بندیوں کیخلاف درخواست پر اعتراضات کا لعدم قرار

سپریم کورٹ، صدیق الفاروق کی نظر ثانی درخواست خارج، مصطفی کمال کی حلقہ بندیوں ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ میں مختلف کیسوں کی سماعت ہوئی ،تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے سابق چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق کی نظر ثانی درخواست خارج کردی‘ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ صدیق الفاروق اپنی ملازمت کا عرصہ مکمل کرچکے۔صدیق الفاروق نے عہدے سے ہٹائے جانے کیخلاف درخواست دائر کی تھی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس معاملے میں سیاسی اور اقربا پروری ملوث رہی ہے صدیق الفاروق نے کوئی کام نہیں کیا۔صدیق الفاروق اپنی ملازمت کا عرصہ مکمل کرچکے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نئی حکومت چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کی تقرری کا فیصلہ کرے گی۔ دوسرے کیس میں چیف جسٹس نے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کی کراچی کی حلقہ بندیوں کیخلاف درخواست پر رجسٹرار کے اعتراضات کالعدم قرار دے دیئے اور درخواست ستمبر میں سماعت کیلئے مقرر کردی۔سپریم کورٹ نے چرچ حملہ متاثرین معاوضہ کیس نمٹا دیا،چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں سارے متاثرین کو معاوضہ مل گیا،بڑی مہربانی ہے اتنے عرصے بعد معاوضہ دیا جائے۔

سپریم کورٹ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے کہاکہ حکومت کے کام میں مداخلت نہیں کریں گے سپریم کورٹ نے ڈیم نہیں بنانا صرف حکم جاری کرنا تھا۔ ڈیم بنانے کی زمہ داری حکومت کی ہی ہے سپریم کورٹ صرف فنڈز کی نگرانی کرے گی۔ ڈیمز فنڈ کی ایک ایک پائی کی خفاظت کریں گے ۔ سیمنٹ فیکٹریوں کے وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ ہر شہری سے پانی کی فیس نہیں لی جاسکتی ۔غریب عوام کو پانی مفت میں دینا پڑے گا۔عدالت نے مخدوم علی خان سے پانی کی قلت اور ضیاع روکنے سے متعلق تحریری تجاویز طلب کرتے ہوئے کمشنر سندھ طاس اتھارٹی کو بھی نوٹس جاری کردیا اور کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کٹاس راج مندر خشک تالاب کیس کی سماعت کی تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پانی قوم کے لیے بے انتہا قیمتی ہے۔ اربوں روپے کا پانی ہم نے ضائع کر دیا۔ بھارت کا موقف ہے ہمیں پانی کی ضرورت نہیں۔بھارت کے موقف کی وجہ ہمارے پانی کا ضیاع ہے۔ چکوال اور لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح نیچے گر گئی ہے۔ کوئٹہ میں زیر زمین پانی خطرناک حد تک نیچے چلا گیا ہے۔ چکوال میں سمینٹ فیکٹریوں نے اربوں روپیہ کا زیر زمین پانی استعمال کیا۔ کراچی میں بھی پانی کا مسلہ پیدا ہو رہا ہے ۔ سمجھ نہیں آتی کل ہمیں پینے کے لیے پانی کہاں سے ملے گا پانی ایک رحمت ہے اس کی قدر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس دوران سیمنٹ فیکٹریوں کے وکیل مخدوم علی خان نے کہاکہ بھارت دریائے جہلم کے استعمال کا پانی روک نہیں سکتاڈیمز کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ سے پاکستان کے مسائل پیدا ہوئے۔بگلیہار ڈیم کے معاملے پر عالمی سطح پر رجوع کرنے میں تاخیر ہوئی۔چیف جسٹس نے کہاکہ کسی نے ہمارے ساتھ زیادتی نہیں کی۔۔زیادتی ہم نے اپنے ساتھ خود کی ہے۔اس زیادتی کا ذمہ دار کون ہے؟ دنیا میں لوگوں کے قبروں سے نکال کر ٹرائل ہوئے کون ہیں وہ لوگ جنہوں نے ڈیمز نہیں بننے دیئے ؟چیف جسٹس نے کہاکہ ماضی میں جاکر دیکھنا پڑے گا ڈیمز کے بننے میں رکاوٹ کون لوگ بنے زیر زمین پانی بھی سرکار کا ہوتا ہے ہم بے دریغ پانی کا ضائع کر رہے ہیں۔ مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ پانی کے معاملے پر قومی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا عدالت کوئی پالیسی بنا سکتی ہے؟ معاملہ پارلیمنٹ کو جائے گا یا حکومت خود پالیسی بنائے گی۔ پنجاب حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیمنٹ فیکٹریوں پر واٹر میٹر لگائے جائیں گے ، مخدوم علی خان نے کہاکہ صرف سیمنٹ فیکٹریوں کیساتھ زیادتی کیوں ہو رہی ہے ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں پر بھی میٹر لگائے جائیں۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ آخر


loading...