خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا فیصلہ تاحال نہ ہوسکا

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا فیصلہ تاحال نہ ہوسکا

  



پشاور(سٹی رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے خیبر پختونخوامیں وزیر اعلیٰ کا حتمی فیصلہ نہ کرسکے،تاہم اکثریت ایم پی ایز اور پشاور کے شہریوں نے وزارت اعلیٰ کیلئے قابل اور اہلیت رکھنے والے تیمور جھگڑاکے حق میں فیصلہ دیدیاہے ،تیمور جھگڑاکے وزیر اعلیٰ بننے کے امکانات روشن ہوگئے،1988سے2018تک صوبے کے منتخب وزرائے اعلیٰ کا انتخاب پشاور کے بجائے دیگر اضلاع سے رہا،پشاور یوں نے تبدیلی کا مطالبہ کیا۔حالیہ انتخابات کے نتیجے میں خیبر پختونخوامیں پی ٹی آئی کلین سویپ کرگئی،اور اس بار صوبے میں انتہائی کمزور اپوزیشن رہے گی،تاہم پی ٹی آئی کے قائدین کیلئے خیبر پختونخوامیں وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلئے انتخاب کر نامشکل ہوگیاہے گزشتہ دو دن سے خبریں گردش کر رہی ہے کہ نو منتخب رکن اسمبلی خیبرپختونخوا عاطف خان کا نام وزیراعلی ٰ کے امیدواروں میں سرفہرست ہے اور اس دوڑ میں سابق وزیر اعلیٰ پرویزخٹک بھی شامل ہیں،تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی اعلان نہ ہوسکا۔دوسری جانب تحریک انصاف کی اکثریت اراکین اسمبلی نے تیمور جھگڑاکے نام پر متحد ہیں ،جبکہ پشاور کے شہریوں نے بھی تیمور جھگڑاکے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے پرزور مطالبہ کیاہے کہ ایک طویل عرصہ سے پشاور سے کسی بھی شخصیت کوصوبے میں وزارت اعلیٰ کے عہدے پر تعینات نہیں کیا ہے اور امید ہے کہ عمران خان تبدیلی لاکر ا س بار قابل اور اہلیت رکھنے والے پشاور کے تیمور جھگڑاکوخیبر پختونخواکے وزیراعلیٰ کی ذمہ داری سونپ کر پشاور کی ترقی اور خوشحالی میں کلیدی رول اداکرینگے۔واضح رہے کہ 188کے وزیراعلیٰ افتاب احمد خان شیرپاؤ کا تعلق ضلع چارسدہ سے تھا،1990کے وزیراعلیٰ میر افضل خان مردان کے تھے ،1993کاوزیر اعلیٰ پیر صابر شاہ ہری پور کے تھے،1994میں بھی افتاب خان شیرپاؤ وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔1997میں ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے مہتاب احمد خان وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے اور 2002میں اکرم خان درانی صوبے کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں،جن کا تعلق ضلع بنوں سے ہے 2008میں ہونیوالے انتخابات کے بعدآمیر حیدرخان ہوتی وزیر اعلیٰ رہے اور اسی طرح 2013میں پرویزخٹک وزیر اعلیٰ رہے ہیں جن کا باالترتیب ضلع مردان اور نوشہرہ سے ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...