اوپن یونیورسٹی جیل کے قیدیوں ، معذور طلبہ اور خواجہ سراؤں کومفت تعلیم فراہم کرتی ہے

اوپن یونیورسٹی جیل کے قیدیوں ، معذور طلبہ اور خواجہ سراؤں کومفت تعلیم فراہم ...

  



فاٹا اور بلوچستان کے لوگوں کو بھی میٹرک کی تعلیم مفت دی جا رہی ہے

ملک بھر میں موجود غریب، مستحق اور ضرورت مند طلباء و طالبات کو سکالرشپ اور فیس میں رعائیت فراہم کرنے کے لئے 9 اسکیمیں بھی موجود ہ ہیں 

رپورٹ ........عزیز الرحمن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا شماراِس وقت دنیا کی چار میگا)سب سے بڑی(یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔پاکستان میں اوپن یونیورسٹی کے قیام کا بنیادی مقصد فاصلاتی نظام تعلیم کے ذریعے اُن لوگوں کو جو بوجوہ رسمی تعلیم سے استفادہ حاصل نہیں کرسکے یا جن کا سلسلہ تعلیم منقطع ہوگیا تھا ٗ اُن کے گھروں کی دہلیز پر تعلیمی سہولیات مہیا کرنا ہے۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی وطن عزیز کے دیہاتوں ٗ قصبوں اور دور افتادہ علاقوں میں مقیم افراد کو جہاں روایتی تعلیم کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں یا ایسی خواتین کو جو سماجی پابندیوں کے سبب سکول/کالج جانے سے قاصر ہیں یا وہ ملازم پیشہ افراد جو اپنی ملازمتی ترقی کے لئے تعلیمی استعداد بڑھانے کے خواہشمند ہیں ٗان سب کو تعلیمی سہولتیں سہولتیں مہیا کرکے یہ فریضہ بہ طریق احسن سرانجام دے رہی ہے۔اوپن یونیورسٹی غیر رسمی طریقہ تعلیم کے ذریعے مختلف تعلیمی پروگرام پورے ملک میں عام کرکے قومی یونیورسٹی کی صورت میں اُبھری ہے۔گذشتہ کم و بیش چار سال کے عرصے میں ہر سمسٹر میں طلبہ کی تعداد پچھلے سمسٹر کی نسبت بڑھتی گئی اور اب یہ تعداد 13لاکھ سالانہ سے تجاوز کرچکی ہے اورطلبہ کی یہ تعداد پبلک سیکٹر کی تمام یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبہ کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے دور دراز اور نظر انداز شدہ علاقوں کے عوام کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے لئے کوششیں اور اقدامات کی ہوئی ہیں اور اُن کی ذاتی کوششوں سے یہ ممکن ہوا ہے کہ اوپن یونیورسٹی ملک کی واحد جامعہ ہے جو ملک کے چار طبقات جن میں ڈراپ آؤٹ گرلز ٗ معزور افراد ٗ خواجہ سراء اور جیل کی قیدی شامل ہیں کو مفت تعلیم فراہم کرتی ہے ٗ اسی طرح فاٹا اور بلوچستان کے لوگوں کو میٹرک کی مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ ملک بھر میں موجود غریب ٗ مستحق اور ضرورت مند طلباء و طالبات کو سکالرشپ اور فیس میں رعائیت فراہم کرنے کے لئے 9 اسکیمیں متعارف کی گئیں ہیں۔وائس چانسلر ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کے مطابق اِن اسکیموں کابنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تعلیمی نیٹ میں لانا ہے اور کوشش ہے کہ علم حاصل کرنے کا ایک بھی خواہشمند محض داخلہ فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے محروم نہ رہے۔اِن سہولتوں اور اسکیموں کی تفصیلات جاننے اور اِن سے مستفید ہونے کے لئے خواہشمند طلبہ و طالبات یونیورسٹی کی ویب سائٹ www.aiou.edu.pkپر وزٹ کرے یا قریب ترین ریجنل کیمپس سے رابطہ کرے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی کے مطابق جیل ایجوکیشن منصوبے کا اصل مقصد زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو تعلیمی نیٹ میں لانا ہے تاکہ سزا مکمل ہونے کے بعد وہ پرامن اور عزت کی زندگی گزارسکیں اور معاشرے کے لئے مفید شہری بن سکیں۔ 

منصوبے کے تحت قیدیوں کو داخلہ فارم اور پراسپکٹس جیل کے اندر ہی مفت فراہم کئے جاتے ہیں اور ان کے لئے تدریسی ورکشاپس ٗ ٹیوٹوریل میٹنگز اور فائنل امتحانات بھی جیل کی حدود کے اندر ہی منعقدکئے جاتے ہیں۔معذور افراد کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا مقصد اُن کو یکساں تعلیمی مواقع کی فراہمی ہے تاکہ وہ احساس کمتری میں نہ رہے اور وہ تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کے لئے کچھ کرنے کے قابل بن سکیں۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ جیل ایجوکیشن پاکستان میں کسی تعلیمی ادارے کا پہلا اقدام ہے اور یقیناََ اس اقدام کے بہت مفید اثرات مرتب ہوں گے ٗ جب یہ قیدی اپنی سزا مکمل کرکے باہر نکلیں گے تو اُن کے پاس اسناداور ڈگریاں ہوں گی اور یہ لوگ بہتر روزگار کی تلاش شروع کریں گے جس سے جرائم میں نمایا کمی آئے گی اور اِس بات کا کریڈٹ اوپن یونیورسٹی کے نام ہوگا۔ خواجہ سراؤں کے لئے مفت تعلیم کا مقصد اُن کو معاشرے میں باعزت مقام دلانا اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔اسکالرشپس اسکیموں کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تعلیمی نیٹ میں لانا ہے اور کوشش ہے کہ علم حاصل کرنے کا ایک بھی خواہشمند محض داخلہ فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے محروم نہ رہے۔اِن سہولتوں اور اسکیموں سے مستفید ہونے کے لئے ملک بھر کے معذور افراد ٗ ڈراپ آؤٹ گرلز ٗ جیلوں میں مقید افراد ٗ خواجہ سراء اوپن یونیورسٹی کے نزدیک ترین علاقائی دفتر سے رابطہ کریں ۔ داخلوں کی آخری تاریخ 5۔ستمبر مقرر ہوگی۔علاوہ ازیں سعودی عرب ٗ متحدہ عرب امارات ٗ کویت ٗ قطر ٗ بحرین ٗ عمان اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے لئے بھی تعلیمی پروگرامز متعارف کی جارہی ہے۔اِن تعلیمی پروگرامز میں اللسان العربی )ابتدائی عربی کورس(ٗ عربی بول چال ٗ سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ)میٹرک(ٗ ہائر سیکنڈری)انٹرمیڈیٹ جنرل گروپ ٗ آئی کام(ٗ بیچلرز)بی اے جنرل گروپ ٗ بی کام ٗ بی اے ماس کمیونکیشن اور بی اے لائبریری سائنس(ٗ بی ایڈ)ڈیڑھ سالہ پروگرام(ٗ ایم بی اے)کامن ویلتھ آف لرننگ(کے علاوہ درس نظامی ٗ شارٹ کورسسز وغیرہ شامل ہیں۔بیرون ملک طلبہ ان تعلیمی پروگرامز کے داخلہ فارم اور پراسپکٹس یونیورسٹی کی ویب سائٹ http://del.aiou.edu.pkسے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔اندرون ملک پیش کئے جانے والے تعلیمی پروگرامز میں پی ایچ ڈی کیمسٹری ٗ فزکس ٗ شماریات ٗ فوڈ اینڈ نیوٹریشن اور ہسٹری شامل ہوں گےُ ایم ایس /ایم فل پروگرامز میں عربیک ٗ ماس کمیونکیشن ٗ کیمسٹری اور کمیونٹی ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن شامل ہوں گے۔ایم ایس سی پروگرامز میں فزکس ٗ پبلک نیوٹریشن ٗ شماریات ٗ معاشیات ٗ جینڈر اینڈ ویمن اسٹڈیز اور پاکستان اسٹڈیز جبکہ ایم اے پروگرامز میں اسلامک سٹڈیز ٗ عربیک ٗ اردو اور ایم کام شامل ہوں گے۔بزنس ایڈمنسٹریشن پروگرامز میں چار سالہ بی بی اے ٗ اڑھائی اور ساڑے تین سالہ ایم بی اے ٗکامن ویلتھ آف لرننگ ایم بی اے /ایم پی اے پیش کئے جائیں گے۔چار سالہ بی ایس پروگرامز میں فزکس ٗ کمپیوٹر سائنس اور اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس شامل ہیں۔ یکم اگست سے شروع ہونے والے سمسٹر خزاں 2018ء کے داخلوں میں ٹیچر ٹریننگ پروگرامز کے ذیل میں ایسوسی ایٹ ڈگری اِن ایجوکیشن ٗ ایک سالہ ایم ایڈ ٗ ڈیڑھ ٗ اڑھائی اور چار سالہ بی ایڈ پروگرامز شامل ہیں۔تمام پروگرامز کے پراسپکٹس اور داخلہ فارم یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر دستیاب یکم اگست سے دستیاب ہوں گے۔

***

مزید : ایڈیشن 1


loading...