پاکستان میں معیارِ تعلیم کو بہتر کرنے کے لئے عملی اقدامات

پاکستان میں معیارِ تعلیم کو بہتر کرنے کے لئے عملی اقدامات

  



نئی حکومت مثبت تعلیمی اصلا حات کرکے معاملات درست کر سکتی ہے

زلیخا اویس

ماہرین تعلیم کے مطابق ملک کے طبقاتی معاشرے نے نظام تعلیم کو بھی طبقاتی بنا دیا ہے،جس سے غریب کے بچے کے لیے حصول تعلیم کی سہولتیں محدود ہوگئی ہیں جب تک طبقاتی معاشرہ ختم نہیں ہو تا طبقاتی نظام تعلیم بھی باقی رہے گا ۔

اعلیٰ معیار کی تعلیم و تربیت کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم اور معاشرہ اپنے مقاصد اور اہداف حاصل نہیں کر سکتا۔ باشعور قوم ہی ایک مثالی معاشرہ قائم کر سکتی ہے اور تعلیم کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ تعلیم کی اہمیت ہمارے پیارے نبی اکرم ؐکی اس حدیث سے بہتر طور پر اجاگر ہوتی ہے ’’علم حاصل کرو چاہئے تمہیں اس کے لئے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔‘‘جنوبی افریقہ کے انقلابی رہنما نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ ’’تعلیم ایک ایسا طاقت ور ہتھیار ہوتا ہے جس کے ذریعے سے آپ دنیا بدل سکتے ہیں۔‘‘

وطن عزیز کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تعلیم کا معیار نہایت پست ہے۔ حالانکہ ہمارے خطے میں واقع دیگر کئی ترقی پذیر ممالک مثلاً سری لنکا وغیرہ تعلیمی میدان میں پاکستان سے بہت آگے ہیں۔ یونیسف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 6 کروڑ سے زائد بچے پرائمری اور دو کروڑ سے زائد بچے سیکنڈری لیول کی تعلیم سے محروم ہیں۔ ہمارے ہاں نظام تعلیم نہ صرف نقائص سے دوچار ہے بلکہ عدم توجہی کا بھی شکار ہے اور جب تک ان نقائص کو دور نہیں کیا جائے گا ، معیارِ تعلیم بہتر نہیں ہو گا۔ اگر تعلیمی نقائص کی طرف ایک نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ

یکساں تعلیمی نصاب نہ ہونے کی وجہ سے ہر ایک صوبے میں الگ الگ نصابی کتب اور الگ الگ تعلیمی معیار ہے اورایک اہم بات نصاب کی زبان ہے۔ ہر صوبہ اپنی اکثریتی زبان میں مضامین کو اہمیت دیتا ہے اور اسی میں طلبہ کو جانچتاہے‘ جس کی وجہ سے طلبہ کو دوسرے صوبوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور غیرملکی پلیٹ فارم پر بھی اپنے آپ کوپیش کرنا ایک مشکل عمل ہوتا ہے۔ اس لئے اگر پورے ملک میں یکساں نصاب کے تحت نظام تعلیم رائج کر دیا جائے تو اس مسئلے پر نہ صرف قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ قوی امکان ہے کہ وہ طلبا و طالبات جو دوہرے نظام تعلیم کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کا بہتر طریقے سے اظہار نہیں کر سکتے ان کو آگے آنے کا زیادہ موقع میسر ہو جائے گا۔

ہمارے معاشی نظام میں جس طرح امیر ‘ امیر تر ہورہا ہے اور غریب غریب تر‘ اسی طرح ایک ہی جماعت میں بیٹھے دو طلبہ میں بھی یہی فرق ہے۔ اس کا تعلق اساتذہ کی قابلیت اور ہمارے تعلیمی نظام دونوں سے ہے۔ اگر کوئی طالب علم ایک مضمون میں کمزور ہے اور دوسرے میں نہیں تو یہ قصور طالب علم کا نہیں ہے‘ اسے اپنی مرضی اور پسند کا مضمون چننے کا اختیار ہونا چاہئے تاکہ وہ اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکے۔

پاکستان میں اچھی تعلیم کا معیار صرف پرائیویٹ اداروں تک محدود ہے جس کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم سوچتے ہی رہ جاتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ تعلیمی بجٹ میں کم از کم دوگنا اضافہ کرے تاکہ ہر پاکستانی نوجوان کم از کم بی اے تک مفت تعلیم حاصل کرسکے۔

پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کا منہ بولتا ثبوت ہمارا تعلیمی بجٹ ہے۔ ہماری قومی آمدن کا صرف دو سے تین فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے اس بات سے اندازہ لگا نا مشکل نہیں کہ ہماری حکومتوں کی ترجیحات میں تعلیم کو کتنی کم اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ حکومتی سطح پر کوئی مربوط نظامِ تعلیم نہیں ہے امیروں اور غریبوں کے لئے الگ الگ تعلیمی نظام ہے۔ غریب آدمی کے بچے تعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔ سرکاری سکول نہایت فرسودہ نظام کے تحت چلائے جاتے ہیں۔ اساتذہ کو کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ ہمارے ملک میں اساتذہ کو اْن کے شایان شان عزت نہیں دی جاتی۔ ہمارے ملک کے نوجوانوں میں تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ تو ہے مگر اس شعبے کو کئی مسائل درپیش ہونے کی وجہ سے مایوسی نظر آتی ہے لہٰذا اس شعبے کی جانب خصوصی توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

ہمارے نظامِ تعلیم میں بہت بڑی تفریق نظر آتی ہے جو انگلش اور اْردو میڈیم کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ گورنمنٹ کے اداروں میں تعلیم کا نظام نہایت پست ہے جس کی وجہ سے غریب اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم نہیں دے پاتا۔ بعض علاقوں میں تو سکولوں پر جاگیردار اور وڈیرے قابض ہیں اور وہ سکولوں کو اپنے مویشی باندھنے کے لئے یا گوداموں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں نصاب کی کتابیں لمبے عرصے تک نہیں بدلی جاتیں جس کی وجہ سے بچے نئی اور جدید معلومات سے محروم رہتے ہیں۔

*پاکستان میں تعلیمی مسائل پر قابو پانے کے لئے نجی شعبہ اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ مثبت اقدام کے ساتھ ساتھ بہت سے اقدام منفی بھی ہیں۔ مثلاً عام طور پر نجی سکول کسی چھوٹی سی رہائشی عمارت میں قائم کر دیئے جاتے ہیں۔ ایک یا دو گھرانوں کے لئے تو یہ عمارت ٹھیک ہے مگر سکول کے لئے بالکل ناکافی ہوتی ہے۔ اس میں کھیل کا میدان نہیں ہوتا جس کی وجہ سے بچوں کی مناسب جسمانی نشوونما نہیں ہو پاتی۔ نجی شعبہ نے تعلیم کو مشن کے بجائے کاروبار سمجھا ہوا ہے۔ اس وجہ سے بہت زیادہ فیسیں لی جاتی ہیں جو عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے غریب والدین اپنے بچوں کو اچھے سکول میں داخل نہیں کروا سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ سکول اپنے رزلٹ کو بہتر دکھانے اور والدین کو مطمئن کرنے کے لئے کتب کے منتخب ابواب پڑھاتے ہیں اور امتحانات کے دوران بچوں کے ساتھ خاص رعایت کی جاتی ہے اور مرضی کے نتائج مرتب کئے جاتے ہیں۔

* ملک میں رائج نظام تعلیم عملی کم ہے اس میں طالب علم کے ذہنی رجحان کو مدنظر رکھ کر تعلیم نہیں دی جاتی۔ عملی تعلیم دینے والے ادارے بہت کم ہیں۔ 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں دو لاکھ تیس ہزار سے زائد اسکول ہونے کے باوجود اب بھی بائیس ملین سے زائد بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ اس کی وجوہات میں سے اہم وجہ غربت اور نا مناسب نصاب ہے۔جب تک نظام تعلیم اور نصاب میں بہتری نہیں آئے گی، تب تک پورے ملک میں بہتری آنا ممکن نہیں۔پاکستان کے سکولوں کو پرائمری اور سیکنڈری درجوں میں تقسیم کرکے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ بچے اسکولوں میں داخل تو ہو رہے ہیں تاہم ان کے سکول چھوڑنے کی شرح بھی بہت زیادہ ہے اورسکول میں داخلہ نہ لینے کے پیچھے دقیانوسی سوچ سے زیادہ نظامِ تعلیم کی خرابیوں اور مناسب سہولیات کے فقدان کا ہاتھ ہے۔ دوسری جانب تعلیم اتنی مہنگی ہے کہ وہ غریب لوگ جو اپنا گزر بسر مشکل سے کر سکتے ہوں وہ بچوں کوتعلیم کیسے دلائیں؟

فرسودہ نظامِ تعلیم، غیر معیاری نصاب،غیر تربیت یافتہ اساتذہ اوراسکولوں میں سہولیات کا فقدان،ایسے ماحول میں بچے کیسے تعلیم حاصل کرسکتے ہیں ؟ والدین بچوں کو سکول بھیج دیتے ہیں لیکن جب بچہ میٹرک تک پہنچتا ہے تو والدین کو اندازہ ہوتا ہے کہ بچے کو ملنے والی تعلیم سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہورہا اور وہ کچھ سیکھ بھی نہیں رہا تو وہ بچے کو تعلیم دلانے کے اپنے فیصلے پر پچھتانا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب والدین کو اندازہ ہوتا ہے کہ بچوں کو دی جانے والی تعلیم مستقبل میں بچوں کے کام نہیں آئے گی تو وہ بچوں کو اسکول سے نکال کر ایسے کام پر لگانے کی کوشش کرتے ہیں جوکہ مالی لحاظ سے فائدہ مند ہو۔

حکومت کو چاہیے کہ نظام تعلیم میں بہتری لانے کیلئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نصاب میں تبدیلیاں لائے تاکہ بچے آج کے دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکیں۔ہمارے ملک کے سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں کے درمیان زمین آسمان کا فرق پایا جاتاہے ، ایک طرف وہی بوسیدہ نظامِ تعلیم جس میں نہ سہولتیں ہیں ،نہ زمانے سے ہم آہنگ نصاب اور نہ ہی معیاری تعلیم۔ دوسری طرف تربیت یافتہ اساتذہ ، معیاری تعلیم اور جدید ترین سہولیات سے آراستہ مغربی طرز کا نظامِ تعلیم جس میں اغیار کی باتیں تو پڑھائی جاتی ہیں لیکن اپنے ملک اور اپنی ثقافت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جاتا۔

ہماری نوجوان نسل کا مستقبل مختلف نظامِ تعلیم کی چکی میں پِس رہا ہے۔ طبقاتی نظامِ تعلیم کی وجہ سے صرف بچے ہی نہیں استاد بھی مشکلات کا شکار ہیں جن پر تدریسی ذمہ داریوں کے علاوہ بھی بہت سی دوسری ذمہ داریاں لاد دی جاتی ہیں۔ مستقبل کے معماروں کی تعمیر کرنے والا یہ طبقہ خود معاشی بدحالی کا شکار ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک میں اکیڈمی سسٹم تیزی سے ترقی کررہا ہے کیونکہ اساتذہ اپنی مالی مشکلات پر قابو پانے کیلئے نئی اکیڈمیاں بنانے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی جانب سے زیادہ محنت نہیں کی جاتی اور معیارِ تعلیم دن بدن گرتا جارہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں ایسے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں جہاں طالب علموں کو عملی تعلیمی بھی دی جائے۔ عمومی تعلیم سے ہم کلرک تو پیدا کر سکتے ہیں لیکن اگر مختلف شعبوں کے ماہرین کی بات کی جائے تو اس سلسلے میں عملی تعلیمی اداروں کا قیام ناگزیر ہے۔ نظام تعلیم کے حوالے سے جو مسائل سامنے آئے ان کے تحت یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تعلیمی بجٹ کو دوگنا کر کے سکولوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ اساتذہ کو بہتر ماحول اور بہتر تنخواہیں دی جائیں۔ ٹیوشن کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے تو بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہئے کہ پورے ملک میںیکساں نصاب تعلیم نافذ کیا جائے۔ علاوہ ازیں کسی بھی شخص کو نجی سکول کھولنے کی اجازت دینے سے پہلے باقاعدہ عمارت کا جائزہ لیا جائے کہ وہاں ہوا‘ روشنی اور بچوں کی جسمانی نشوونما کے لئے کھیل کا میدان ہو۔ چھوٹے چھوٹے گھروں میں سکول کھولنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ ایسی جگہ پر بچوں کو صحیح ذہنی تربیت یقینی نہیں بنائی جاسکتی۔ اب وقت آگیا ہے کہ یہ سسٹم تبدیل کیا جائے یہ تبدیلی ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔

***

مزید : ایڈیشن 1


loading...