پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے شہری کی رٹ پر ملٹری کورٹ کا فیصلہ معطل

پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے شہری کی رٹ پر ملٹری کورٹ کا فیصلہ معطل

  



پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پرمشتمل دورکنی بنچ نے 2004ء میں سکیورٹی فورسز کے حوالے کئے جانے والے شہری کی رٹ پرملٹری کورٹ کافیصلہ معطل کرتے ہوئے اس کی سزائے موت پرعملدرآمد روک دیا اورمقدمے کاریکارڈ طلب کرتے ہوئے وزارت دفاع سے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز میاں تجمل شاہ ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرنثاراحمدکی رٹ پرجاری کئے اس موقع پرعدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گذارکاتعلق کبل سوات سے ہے اوراس کے بیٹے حافظ اسرار احمد کوستمبر2004میں سکیورٹی فورسز نے اپنی تحویل میں لیاتھا اور20جون2018ء کو اس سے کوہاٹ جیل میں ملاقات بھی ہوئی تھی تاہم ڈی پی او نے چند روز قبل اطلاع دی کہ اس کے بیٹے نثاراحمدکو ملٹری کورٹ نے سزائے موت سنائی ہے اورآرمی چیف نے اس کی سزاکی توثیق کردی ہے جبکہ نثاراحمد کو اپنی صفائی کاحق نہیں دیاگیااوراسے فیئرٹرائل کاموقع نہیں دیاگیا نہ ہی اس کو اپناوکیل ملٹری کورٹ میں پیش کرنے کاموقع دیاگیاہے لہذاسزائے موت کوکالعدم قرار دیا جائے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے سزائے موت معطل کرکے وفاق سے جواب مانگ لیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...