گجرات یونیورسٹی کی تعمیرات میں کروڑوں کے گھپلے،اینٹی کرپشن نے تحققیقات شروع کر دیں

گجرات یونیورسٹی کی تعمیرات میں کروڑوں کے گھپلے،اینٹی کرپشن نے تحققیقات شروع ...

  



لاہور(ارشد محمود گھمن/سپیشل رپورٹر)گجرات یونیورسٹی میں کروڑوں کے گھپلے ، من پسند ٹھیکداروں کو نوازنے ،فنکشنزکی آڑ میں کروڑوں روپے ہڑپ کرنے اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے ،جس کے خلاف گجرات چیمبر آف کامرس کی درخواست پرڈی جی اینٹی کرپشن نے بھی ڈائریکٹر گوجرانوالہ فرید احمد سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔واضح رہے کہ موصوف نے کرپشن کی انکوائری کے باوجود اینٹی کرپشن گوجرانوالہ کے ٹیکنیکل انوسٹی گیشن آفیسر سے اپنے حق میں کلیئرنس رپورٹ (این او سی)بھی مرتب کروالی ہے۔تفصیلات کے مطابق2008ء میں پنجاب حکومت نے ایکسیئن پراونشل ڈویژن بلڈنگ گجرات کوکروڑوں روپے کی گرانٹ گجرات یونیورسٹی کی بلڈنگ تیار کرنے کے لئے فراہم کی تو اس وقت کے ایکسیئن جاوید بشیر نے ناقص میٹریل کا استعمال کیا جس کے باعث یونیورسٹی کی بلڈنگ میں دراڑیں پڑگئیں جس کی وجہ سے قومی خزانے کو بھی کروڑوں روپے کانقصان اٹھاناپڑاہے ۔اس بابت گجرات چیمبر آف کامرس نے گجرات یونیورسٹی میں ہونے والے کروڑوں روپے کے ترقیاتی کاموں میں من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے اور فنکشنز کی آڑ میں کروڑوں روپے ہڑپ کرنے پر یونیورسٹی گجرات انتظامیہ اور پراونشل ہائی وے ایکسیئن کے خلاف اینٹی کرپشن کو کارروائی کے لئے درخواست دی جس پر رینجنل ڈائریکٹر نے دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکل دی ،جنہوں نے چھان بین کا آغاز شروع کردیا۔یاد رہے کہ ایکسیئن پراونشل ڈویژن بلڈنگ گجرات جاوید بشیر11جون 2008ء سے لے کر28جون 2009ء تک تعینات رہے تاہم ان کی تعیناتی کے دوران قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا،دوسری جانب ان کے خلاف اینٹی کرپشن میں انکوائری نمبر581/17 بھی چل رہی ہے لیکن محکمہ کی مبینہ ملی بھگت سے یہ التواء کا شکار ہے ،علاوہ ازیں اس وقت کے ایکسیئن جاوید بشیر کے خلاف کرپشن کے الزام میں محکمہ کے اعلیٰ افسران نے مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے محکمانہ انکوائریوں کو ردی کی ٹوکری کی نظر کر کے گریڈ 18سے گریڈ 19میں پروموشن کردی ،بعدازاں حکومت پنجاب کی طر ف سے سی اینڈ ڈبلیو کے گریڈ 19کے افسران کی گریڈ 20کی پروموشن کے لئے اینٹی کرپشن سے کلیئرنس ،این او سی طلب کئے گئے جن میں جاوید بشیر کا نام بھی شامل تھا۔ذرائع کے مطابق نگران حکومت نے ان کی ترقی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی بجائے آنے والی گورنمنٹ پر چھوڑ دیا۔ذرائع نے بتایا کہ جاوید بشیر کے خلاف اینٹی کرپشن اور سی اینڈ ڈبلیو کے محکمہ میں انکوائریاں چل رہی ہیں جس کی وجہ سے محکمہ اینٹی کرپشن این او سی جاری نہیں کرسکتا، اس کے باوجود بھی ایس ای جاوید بشیر جو کہ آج کل سی اینڈ ڈبلیو بلڈنگ بہاولپور میں بطور ایس ای تعینات ہے اور انہوں نے مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے اینٹی کرپشن گوجرانوالہ کے ٹیکنیکل انوسٹی گیشن آفیسر سے اپنے حق میں این او سی کلیئرنس رپورٹ مرتب کروالی ہے،حالانکہ ان کے خلاف 581/17انکوائری بھی چل رہی ہے ۔اس حوالے سے ایس ای جاوید بشیر کا کہنا ہے کہ ایسی انکوائریاں بہت دیکھی ہیں ، یہ نوکر ی کا حصہ ہیں ،الزامات لگتے رہتے ہیں ،میری رپورٹ میرٹ پر مرتب کی گئی ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...