رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم میں کیا خرابی ہوئی تھی؟ بالآخر نادرا میدان میں آ گیا، ایسا انکشاف کہ ہر پاکستانی کا منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا کیونکہ۔۔۔

رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم میں کیا خرابی ہوئی تھی؟ بالآخر نادرا میدان میں آ گیا، ...
رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم میں کیا خرابی ہوئی تھی؟ بالآخر نادرا میدان میں آ گیا، ایسا انکشاف کہ ہر پاکستانی کا منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا کیونکہ۔۔۔

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عام انتخابات کے دن تمام انتخابی مراحل بظاہر ٹھیک چل رہے تھے لیکن جب انتخابی نتائج کی ترسیل کا سلسلہ شروع ہوا تو نادرا کے تیار کردہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کی ایپلی کیشن خراب ہو گئی جس سے نتائج میں تاخیر ہوئی اور دھاندلی کے الزامات کو ایک مضبوط جواز مل گیا۔الیکشن کمیشن نے اس کی تمام تر ذمہ داری نادرا کی اس ایپلی کیشن پر ڈال دی تھی لیکن اب نادرا بھی میدان میں آ گیا ہے۔ ڈیلی ڈان کے مطابق نادرا کا کہنا ہے کہ ”ہمارے تیار کیے گئے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آرٹی ایس)کی ایپلی کیشن قطعاً خراب نہیں ہوئی تھی بلکہ بالکل ٹھیک کام کرتی رہی۔ خرابی دراصل الیکشن کمیشن کے اپنے تیار کردہ رزلٹ مینجمنٹ سسٹم (آرایم ایس)میں آئی تھی، جس پر الیکشن کمیشن نے اپنا دامن بچاتے ہوئے تمام تر ذمہ داری نادرا پر ڈال دی۔ آرٹی ایس اور آرایم ایس دو یکسر الگ نظام تھے جنہیں ایک ساتھ نہیں ملایا جا سکتا ۔“

نادرا کے ذرائع نے بتایا کہ ”جب الیکشن کمیشن کی طرف سے ذمہ داری نادرا پر ڈالی گئی تو نادرا حکام نے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن کے متنازعہ بیان پر چپ سادھ لی۔ حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کی رات 11 بج کر 47منٹ پر الیکشن کمیشن کی طرف سے تمام آراوز کو فون کرکے کہا گیا کہ وہ آرٹی ایس کا استعمال ترک کر دیں کیونکہ اس کے نظام میں تکنیکی مسئلہ آ گیا ہے۔ اس اعلان کے بعد نادرا نے ایپلی کیشن کو چیک کیا تھا اور وہ بالکل ٹھیک کام کر رہی تھی۔جب الیکشن کمیشن کی طرف سے آراوز کو ایپلی کیشن کا استعمال ترک کرنے کو کہا تب تک وہ اس کے ذریعے 50فیصد کے لگ بھگ نتائج وصول کر چکا تھا۔“ دوسری طرف نادرا کے اس موقف کو الیکشن کمیشن کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ ”نادرا کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ آرٹی ایس کے ذریعے الیکشن کمیشن 50فیصد نتائج وصول کر چکا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان اس معاملے میں کسی بھی قسم کی انکوائری کے لیے تیار ہے تاکہ یہ متنازعہ بحث ختم ہو سکے۔“

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...