جسم ہوئے ہیں آزاد اب ۔۔۔

جسم ہوئے ہیں آزاد اب ۔۔۔
جسم ہوئے ہیں آزاد اب ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یوم آزادی 14 اگست ہر سال روایتی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے اور حسب معمول عہد و پیمان کئیے جاتے ہیں۔ سوچنے کی بات اتنی ہے کہ کیا ہم نے حقیقی معنوں میں بحیثیت قوم آزادی کی نعمت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے یا گورے انگریز کی قید سے نکل کر کالے انگریزوں کی غلامی ہمارا مقدر بن گئی ہے۔ پانچ سال بعد ایک دن ووٹ ڈالنے کو جمہوریت سمجھنے والی قوم ابھی حقیقی آزادی کے مفہوم سے نا آشنا ہے۔ دنیا مریخ کو تسخیر کرنے کی جانب گامزن تھی اہم ہمارے ماہر انجینئر آغا وقار پانی سے کار چلانے کے منصوبے بنا رہے تھے جس پر معروف سیاستدان اور اینکرز سر دھن رہے تھے۔ جہاں لسانیت اور فرقہ واریت قومی علامت بن جائے جہاں سپریم کورٹ ڈیم بنانے لگ جائے۔ جہاں ہوائی فائرنگ پر سو موٹو لیا جائے جہاں بلدیہ فیکٹری کیس اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے کیس اس لئیے دب جائیں کے کُھرا معززین شہر کی طرف جاتا ہے۔ جہاں کرپشن اور ملاوٹ قوم کھیل بن جائے جہاں کرکٹ کو پذیرائی ہو اور قومی کھیل ہاکی کے کھلاڑی ڈیلی الاؤنس کو ترس جائیں۔

اسکواش جس میں دور دور تک پاکستان کا کوئی مقابل نہیں تھا ، آج کوئی نام لیوا نہیں ہے۔ اسٹیل مل۔ PIA۔ پاکستان ریلوے سفید ہاتھی بن چکے ہیں ۔ حکومتیں ختم ہوگئیں اورنج ٹرین نہ بن سکی پورے ملک میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہاسپٹل نہیں ہے غریب خون نگلتے۔ اگلتے مر جاتا ہے اور طبقہ امراء لندن اور امریکہ یہنچ جاتا ہے۔ وہ الگ بات موت کا تعاقب جاری رہتا ہے اور وہ دیس پردیس کا فرق نہیں دیکھتی۔ قوم پنجہ غلامی میں اس طرح گڑھی ہے کہ کھانے پینے چلنے پھرنے کو آزادی سمجھتی ہے۔

کچھ ٹھنڈی ہوا چلی ہے ایک نئی امید بندھی ھے کہ تبدیلی والی سرکار کچھ کرے گی۔ عوام کی سادہ امیدوں میں رنگ بھرے گی۔ پیدائشی بچوں پر قرضوں کا بوجھ کم کرے گی۔ ہر مہینے کے منی بجٹ سے نجات دلائے گی۔ ان دیکھے دکھوں کا مداوا کرے گی۔غربت و تنگدستی کی بھٹی میں توروحیں جھلس گئی ہیں ۔ ہم نے جسم کی حرکت کو آزادی سمجھا ہے۔ نہ سوچنے کی آزادی میسر ہے نہ سمجھنے کی جس نے جو کہہ دیا اسکے پیچھے چل پڑے جو بو ل دیا مان لیا اسکو ہی سارا مان دے دیا۔

روز اک زینب اک کائنات زندہ درگور ہوجاتی ہے ۔ زندگی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ختم ہوجاتی ہے عدالتوں کے چکر ختم نہیں ہوتے۔ تبدیلی سرکار ایک نظر اس عدالتی نظام پر بھی ہو جہاں نسل در نسل مقدمے چلتے رہتے ہیں کئی لوگوں کو تو رہائی بھی اس وقت ملتی ہے جب وہ زندگی کی قید سے آزاد ہوچکے ہوتے ہیں۔

کوئی ہمیں یہ تو بتائے یہ جو اربوں ڈالر کے قرضے لیتے ہیں جسکا بیشتر حصہ قرضوں کا سود اتارنے پر لگ جاتا ہے ،یہ کدھر خرچ ہوتے ہیں ؟عوام تک انکے فوائد کیوں منتقل نہیں ہوتے؟ غریب کا نوالہ چھنتا جاتا ہے ۔سیاہ ست دانوں کے بینک بیلنس۔ کار کوٹھی۔ بنگلے بڑھتے جاتے ہیں، غریب اپنا وارث بڑھاتا رہتا ہے۔

آپ ایک کروڑ نوکریاں بھی دینا پچاس لاکھ گھر بھی بنالو ایک ارب درخت بھی لگا لو مگر غریب کے سر پر چھت رہنے دو ۔اسے ایسا روزگار دے دو کہ اسکی سفید پوشی کا بھرم قائم رہے ۔سانسوں کا سلسلہ چلتا رہے ۔غلام ہے ،آپکا غلام ہی رے گا۔ ووٹر ہے ووٹر ہی رہے گا ۔اس نے کون سا وزیر بننا ہے ،اس نے کو ن سا آزاد ہونا ہے روح گروی پڑی ہے بس جسم آزاد ہے۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ