کامیابی کی ضمانت کون سی صف والے ہوتے ہیں ؟

کامیابی کی ضمانت کون سی صف والے ہوتے ہیں ؟
کامیابی کی ضمانت کون سی صف والے ہوتے ہیں ؟

  



عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جن ممالک اور اقوام نے دنیا میں غیر معمولی ترقی کی ہے ان میں غیر معمولی صلاحیتوں کے افراد پیداہوجاتے ہیں جو انہیں بام عروج پر لے جاتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں کامیابی کی وجہ صف اوّل میں کھڑے ہوئے اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے لوگ نہیں ہوتے بلکہ صف دوم میں کھڑے ہوئے اوسط صلاحیتوں کے لوگ ہوتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے لوگوں کو کم تعداد میں پیدا کرتے ہیں۔ یہ لوگ پیدا ہوبھی جائیں تو یہ کسی ایک فن یا شعبے ہی میں مہارت رکھ سکتے ہیں۔لیکن اجتماعی زندگی کسی ایک شعبے کا نام نہیں بلکہ اس میں کامیابی کے لیے کئی ہمہ جہتی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ یہ جدوجہد تنہا ایک شخص نہیں کرسکتا،چاہے وہ کتنی ہی اعلیٰ صلاحیت کا مالک ہو۔ وہ یہ کوشش کرے گا تو اپنے اصل کام کی طرف توجہ نہیں دے سکے گا نہ وہاں اعلیٰ ترین نتیجہ پیدا کرسکے گا۔

چنانچہ یہ دوسری صف کے لوگ ہوتے ہیں جو مددگار کے طور پراٹھتے ہیں اور بظاہر کم اہمیت کے اور کم نمایاں ہونے والے وہ کام کرتے ہیں، جن کی وجہ سے صف اول کے لوگ اجتماعی سطح پر کوئی بہت نمایاں کام کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ گویا صف دوم کے لوگ گمنامی کی قبر میں دفن ہوتے ہیں، تب کہیں جاکر ایک اعلیٰ انسان کوئی بڑا اجتماعی کام کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

اس کی ایک سادہ ترین مثال جنگ و جدل کی ہے۔ عام طور پر جنگوں میں فتح کے بعد سپہ سالار کا نام بہت نمایاں ہوجاتا ہے۔ سپہ سالار کی تمام تر اہمیت کے باوجود اگر عام سپاہی اپنا حصہ ادا نہ کریں تو سپہ سالار کوئی کارنامہ کبھی سرانجام نہیں دے سکتا۔ایک عام سپاہی دشمن کا سامنا کرتا، اپناخون بہاتا اور بارہا گمنامی کی موت مرتا ہے تب کہیں جاکر جنگ میں فتح حاصل ہوتی ہے۔

اس کی ایک دوسری روزمرہ مثال ٹی وی کے پروگراموں کی ہے۔عام طور پر ان پروگراموں میں اسکرین پر نظر آنے والے لوگ نمایاں ہوجاتے ہیں۔ مگر ان کے پیچھے کتنے ہی لوگ خاموشی سے اپنا کام کررہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنااپنا کام اچھے طریقے پر کرتے ہیں تب کہیں جاکر ایک کامیاب پروگرام وجود میں آتا ہے۔

تاہم ان تمام مثالوں میں دوسری صف کے لوگ معاوضے پر اپنی خدمات ادا کرتے ہیں۔ ایک نہیں آئے گا تو دوسرا اس کی جگہ لے لے گا۔ اس لیے صف دوم کے لوگوں کی کبھی کمی نہیں ہوتی۔ لیکن جب کوئی کام رضاکارانہ بنیاد پر کیا جاتا ہے تو ایسی شکل میں صف دوم کے مستقل مزاج اور مخلص لوگوں کو ڈھونڈنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ انہیں کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ وہ کہیں نمایاں بھی نہیں ہوتے۔انہیں خاموشی سے اپنا کام کرتے رہنا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایسے معاملات میں صف دوم کے لوگ بہت کم شامل ہوتے ہیں۔ وہ ایک دن شامل ہوبھی جائیں تو اگلے دن رخصت لے لیتے ہیں۔ تاہم اگرکوئی ادارہ یا گروہ معاشرے میں غیر معمولی خدمات سرانجام دینا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ صف دوم کے لوگ ذہنی طور پر یہ جان لیں کہ وہی صف اوّل کے لوگ ہیں۔ انہی کو اصل میں یہ کام کرنا ہے۔ وہی اس کام کے ذمہ دار ہیں اور روز قیامت وہی اللہ سے اجر کے حقدار ہوں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ صف دوم میں کھڑے ہونا بہت حوصلے کا کام ہے۔ اس میں قربانی دینی پڑتی ہے۔ لیکن ایسے شخص کو نہ معاوضہ ملتا ہے نہ وہ نمایاں ہوپاتا ہے۔ لیکن جب کچھ لوگ یہ قربانی دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں تو پھر معجزات جنم لینے لگتے ہیں۔ پھر معاشرے بدلنے لگتے ہیں۔ ہمارے ملک کو آ ج صف دوم کے ایسے ہی لوگوں کی تلاش ہے جو استقامت کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اسی پر ہماری اجتماعی ترقی منحصر ہے۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ


loading...