پی ٹی آئی ضلع اوکاڑہ میں کیوں پٹ گئی ؟

پی ٹی آئی ضلع اوکاڑہ میں کیوں پٹ گئی ؟
پی ٹی آئی ضلع اوکاڑہ میں کیوں پٹ گئی ؟

  



پی ٹی آئی نے 2013ء کے انتخابات میں خیبرپختونخواہ میں حکومت بنائی تھی مگر الیکشن 2018ء میں پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے اور اب وہ خیبرپختونخوا کے علاوہ مرکز اور پنجاب میں بھی اپنی فتح کے جھنڈے گاڑھ چکی ہے اور وہاں اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کرنے کی تیاری کررہی ہے۔لیکن ایسے میں چند اضلاع میں اسے بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے خاص طور پر پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں پاکستان تحریک انصاف کو بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جہاں قومی اسمبلی کی چار اور صوبائی اسمبلی کی آٹھ نشستوں میں سے پی ٹی آئی ایک بھی سیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔اسکی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں ۔

پی ٹی آئی کاکمزور تنظیمی ڈھانچہ۔

بڑی سیاسی پارٹیوں خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کی اوکاڑہ میں کمزور ی کے بعد پاکستان تحریک انصاف ضلع اوکاڑہ میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہی لیکن مقامی قیادت گراس روٹ لیول پر پارٹی کومتعارف کروانے، پی ٹی آئی کا پیغام گھرگھر پہنچانے اور ضلع بھر میں مربوط تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دینے میں ناکام رہی۔بلکہ اس کی بجائے مقامی قیادت بھی روائتی سیاست کرتے ہوئے چند دھڑوں اور افراد کوساتھ ملانے کو ہی کافی سمجھتی رہی ۔اگر پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما ضلع اوکاڑہ کی ہر یونین کونسل میں ایسی متحرک تنظیمی باڈی تشکیل دینے میں کامیاب ہوجاتے جو دوران الیکشن ہر ووٹر تک پہنچ کر تبدیلی کا پیغام پہنچاتی تو یقیناًنتائج اتنے بھیانک نہ ہوتے جن کا آج پی ٹی آئی کو اوکاڑہ میں سامنا کرنا پڑا ہے۔

ن لیگ کی بہتر حکمت عملی۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کی دوران الیکشن اور خاص طور پر پولنگ ڈے پر بہتر حکمت عملی نے بھی پی ٹی آئی کی شکست میں اہم کردار اداکیا۔میں نے یہ نوٹ کیا کہ جب الیکشن کا باضابطہ اعلان کیا گیا ضلع اوکاڑہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوارحلقے کے تقریباََ تیس فیصد لوگوں سے مل بھی چکے تھے اور جب الیکشن کیمپین شروع ہوئی تو ہر علاقے میں موجود مسلم لیگ ن کے نمائندگان نے بھرپور ورکنگ شروع کردی اور ناراض دھڑوں اور افراد کو بھی ساتھ ملالیا جبکہ پی ٹی آئی کے دو تین امیدواران کو چھوڑ کر باقی سب ہی عوام سے دُور رہے جس کا الیکشن نتائج پر بہت گہرا اثر مرتب ہوتا ہے کیوں کہ ہر ووٹر چاہتا ہے کہ جس کو ووٹ دے رہاہے کم از کم انتخابات کے دوران تو اس سے ملاقات ہونی چاہئے مگر پی ٹی آئی امیدواران یہ کام نہ کرسکے۔ہاں البتہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم خاصی ایکٹو نظر آتی رہی تاہم سوشل میڈیا سرگرمیاں زمینی حقائق کو بدل نہیں سکتیں۔

ٹکٹوں کی لیٹ اور غیر منصفانہ تقسیم۔

مسلم لیگ ن کو یہ کریڈٹ بھی حاصل تھا کہ الیکشن کے اکھاڑے میں حصہ لینے کیلئے اس کے کھلاڑی پہلے سے ہی تیار تھے اور انہوں نے بروقت اپنا کام سرانجام دیا جبکہ پی ٹی آئی امیدواروں کو ٹکٹوں کی فراہمی کامعاملہ بار بارالتواکا شکارہوتا رہا جس کی وجہ سے امیدوار اور ووٹر دونوں آخری وقت تک کنفیوژن کا شکار رہے اور اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ امیدواروں کو لاکھوں ووٹرز تک پہنچنے کیلئے بہت کم وقت مل سکا۔اور اسی سے منسلک دوسری وجہ یہ تھی کہ ضلع اوکاڑہ میں ٹکٹوں کی تقسیم انتہائی غیرمنصفانہ تھی ۔اورپی ٹی آئی کے ووٹرز اس کا ذمہ دار ویسٹ پنجاب کے صدر رائے حسن نواز،پیرصمصام شاہ بخاری اور ضلعی صدر چوہدری طارق ارشاد کو قراردیتے ہیں جنہوں نے نظریاتی، محنتی اور کوالیفائیڈافراد کوٹکٹیں دینے کی بجائے ذاتی تعلقات ،مفادات،بڑے ناموں اور مبینہ طور پر پیسے کو اہمیت دی جس کا فائدہ چند لوگوں کو تو خوب ہوا مگر بحیثیت مجموعی پارٹی کو شدید نقصان پہنچا کیوں کہ ووٹر نے اس کھینچاتانی،جوڑتوڑ اور مفاداتی سیاست کو مسترد کردیا۔ پی ٹی آئی کے ووٹرز اس بات پر سخت برہم تھے کہ رائے حسن نواز جیسے بندے کے ہاتھ میں ٹکٹوں کی تقسیم کافیصلہ دے دیا گیا تھا کہ جس کو خودسپریم کورٹ کی جانب سے باسٹھ تریسٹھ کے تحت نااہلی کا تمغہ مل چکا تھا ۔یہی نہیں بلکہ ضلع اوکاڑہ میں کئی ایسے چہروں کو پارٹی ٹکٹ سے نوازدیا گیا جو ٹکٹ سے قبل پارٹی کے ممبر بھی نہ تھے۔

الیکٹ ایبلز کی سیاست۔

اگرچہ الیکٹ ایبلز کی سیاست کا پارٹی کو عددی لحاظ سے فائدہ بھی ہوا کہ وہ سیٹیں نکالنے میں کامیاب رہے تاہم ضلع اوکاڑہ میں یہ پی ٹی آئی کا یہ نیانظریہ کامیاب نہ ہوسکا ۔حتیٰ کہ میاں منظور احمد خان وٹو جیسے بڑے نام کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔یہ کہاجاسکتا ہے کہ پارٹی کی جانب سے الیکٹ ایبلز کو ترجیح دینے کوپی ٹی آئی ورکرزنے پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا اس سلسلے میں حویلی لکھا کی مثال دی جاسکتی ہے جہاں پر پی ٹی آئی ضلع بھر میں سب سے زیادہ مضبوط تھی اگرپی ٹی آئی یہاں اپنا امیدوار دیتی تو اس کی جیت کے بہت زیادہ چانسز تھے مگر وہاں میاں منظور احمد خان وٹوکیساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرلی گئی جس پر اگرچہ وہاں کی باڈیز نے میاں منظور احمد خان وٹو کی حمائت کے اعلانات بھی کئے مگر عملاََ پی ٹی آئی ورکر اور ووٹر نے اعلیٰ قیادت کے اس فیصلے کو پسند نہیں کیا اور یہاں سے برآمد ہونے والے نتائج اس کا ثبوت بھی پیش کررہے تھے۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ


loading...