فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر486

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر486
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر486

  



فلمی دنیا بھی عجیب گورکھ دھندا ہے۔ کامیابی اور ناکامی کا یہاں کوئی پتا نہیں چلتا۔نذیر صاحب کی پہلی ہی فلم سپرہٹ ہوگئی تھی۔ انہوں نے دوسری کہانی ’’ دعوت‘‘ کے نام سے لکھی۔ یہ بھی ایک سوشل فلم تھی۔ کاسٹ بھی اچھی تھی۔ اس فلم کے ہدایت کار بھی خود وہی تھے۔ کہانی اور مکالموں پر حسبِ معمول ایم نذیر کا نام درج تھا۔ تنویر نقوی صاحب نے اس کے نغمات لکھے تھے۔ موسیقار و سنت کمار نائیڈو تھے جو نوشاد صاحب کے مقابلے میں میں کچھ بھی نہیں تھے۔ بہرحال جو بھی ہوا نتیجہ یہ نکلا کہ جب فلم کی نمائش ہوئی تو یہ سپرفلاپ ثابت ہوئی ، سب حیران رہ گئے۔ سب سے زیادہ حیران شاید خود نذیر صاحب ہوئے ہوں گے۔

غالباً نجومیوں نے مشورہ دیا کہ آپ اپنا نام بدل لیں تو نحوست دور ہوجائے گی۔ چنانچہ انہوں نے اپنا نام نذیر اجمیری رکھ لیا اور کاردار صاحب کے لیے فلم ’’ قیمت‘‘ لکھی۔ اس کے مصنف اور ہدایت کار بھی وہی تھے۔ مجروح سلطان پوری کے نغمات کی دھنیں نوشادصاحب نے بنائی تھیں۔ کاسٹ بھی اچھی تھی۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی یہ فلم فلاپ ہوگئی۔ گویا نیا نام بھی نذیر صاحب کو راس نہ آیا۔ اس فلم کا موضوع ’’ جہیز ‘‘ تھا جس میں اس کی مذمت کی گئی تھی۔ ممکن ہے اس معاشرے میں اس خیال کو پسند ہی نہ کیا گیا ہو۔ خاص کر ہندو تو جہیز کے حق میں تھے حالانکہ رونا بھی روتے رہتے تھے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر485پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مجروح سلطان پوری نے بہت اچھے نغمے لکھے تھے اور نوشاد صاحب نے طرزیں بھی بہت اچھی بنائی تھیں لیکن نہ تو موسیقی کو زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی نہ ہی فلم کو۔ اور تو اور ، خود ہمیں اس فلم کا ایک بھی گانا یاد نہیں ہے۔

اس زمانے میں تو ’’ جہیز‘‘ کے بارے میں بنائی ہوئی یہ فلم فلاپ ہوگئی تھی مگر کچھ عرصہ بعد جب اسی موضوع پر پاکستان اور بھارت میں فلمیں بنائی گئیں تو بہت کامیاب ہوئیں ۔ خود نذیر صاحب نے پاکستان آکر اس موضوع پر ایک فلم بنائی تھی جو بہت کامیاب رہی تھی۔ شاید یہ بدلے ہوئے زمانے کا تقاضا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بعض اوقات وقت سے پہلے بنائے ہوئے موضوعات محض معاشرے کی پسماندہ سوچ اور تعلیم کی کمی کے باعث ناکام ہوگئے لیکن کچھ عرصے یعد یہی موضوعات بے حد کامیاب ثابت ہوئے۔ ایسی بے شمار مثالیں برصغیر میں موجود ہیں۔ جہیز کے موضوع کا حشر تو آپ سن ہی چکے ہیں۔ طلاق ایک ایسا مسئلہ ہے ہندو معاشرے میں تو ممنوع ہی ہے لیکن مسلمانوں میں بھی ہندو اثرات کے باعث اسی شرعی حق کو تسلیم نہیں کیا گیا اور اب تک بہت سے لوگ اسی خیال کے حامی ہیں کہ طلاق کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خیالات میں بھی تبدیلی آئی اور اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں ان کا اعتراف کیا جانے لگا تو عورت کو طلاق لینے کا حق بھی دے دیا گیا۔ اب تو نکاح نامے میں باقاعدہ یہ نکتہ بھی ہوتا ہے کیا بیوی طلاق لینے کاحق محفوظ رکھتی ہے؟ حالانکہ یہ سوال قطعی غیر ضروری اور بے معنی ہے۔ اسلام نے مخصوص حالات میں عورت کو خلع لینے کا اختیار دے رکھا ہے جسے مردانہ معاشرہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

ہندو سماج میں بیوہ عورت یا تو شوہر کے ساتھ ستی ہوجاتی تھی یا پھر سارے زندگی زندہ بدست مردہ کی مانند گزارنے پر مجبور تھی۔ ہندو فلم بین یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ایک بیوہ دوسری شادی کرے لیکن بی آر چوپڑا نے اپنی ایک فلم میں بیوہ عورت کی دوسری شادی کرادی اور یہ فلم بے حد کامیاب ہوئی۔ غالباً اس کا نام ایک ہی راستہ تھا اور اس میں مینا کماری اور اشوک کمار نے مرکزی کردار کیے تھے۔ طوائف کو ایک گالی سمجھا جاتا ہے اور عام لوگ اسے گناہوں اور خرابیوں کا مجموعہ سمجھتے ہیں۔ برصغیر کی فلموں میں اگر کبھی طوائف کی ہیروئن کے روپ میں پیش بھی کیا گیا تو یہ نکتہ واضح کر دیا گیا کہ یہ

۱۔ خاندانی طوائف نہیں ہے۔

۲۔ مجبوراً اسے طوائف بنایا گیا ہے۔

۳۔ اس کے باوجود یہ پارسا اور گناہوں سے محفو ظ ہے۔

لیکن بی آر چوپڑا ہی نے اپنی ایک فلم ’’ سادھنا‘‘ میں ایک طوائف کو ہیروئن کے کردار میں پیش کیا جو کہ اسی ماحول کی پیداوار اور اسی ذہنیت کی مالک تھی مگر جب اس نے معاوضہ لے کر کسی شریف آدمی کی نقلی بیوی بنناقبول کیا تو رفتہ رفتہ گھریلو ماحول نے اسے یکسر تبدیل کردیا اور اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ عورت کی عزت اور عظمت کیا ہے اور گھریلو زندگی کیسی ہوتی ہے جس سے کہ وہ قطعی نا آشنا تھی۔ رفتہ رفتہ وہ انپی پرانی زندگی سے تائب ہوگئی اور ایک شریفانہ زندگی بسر کرنے کی خواہاں ہوئی مگر راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل تھیں۔ ہیرو کو علم تھا کہ یہ خالص طوائف ہے مگر وہ اس کی بدلی ہوئی شخصیت اور پوشیدہ خوبیوں کے باعث اسے پسند کرنے لگا لیکن ماں اور معاشرے کا ڈر تھا۔ فلم کا انجام یہ تھا کہ بالآخر ماں کو بھی اس لڑکی کی اصلیت کا علم ہوگیا اور اس کی تبدیلی کی خواہش کے پیش نظر اور اس کے خلوص، محبت اور خدمت کے جذبے کو دیکھ کر وہ اسے بہو بنانے پر آمادہ ہوگئی۔یہ فلم بھی سپرہٹ ثابت ہوئی۔

دراصل بی آر چوپڑا اور ان کے مصنف مکھ رام شرما نے ایک زمانے میں اوپر تلے کئی غیرروایتی کہانیاں پیش کیں اور سب ہی کامیاب ثابت ہوئیں۔ ایک فلم ’’ دھول کا پھول‘‘ میں انہوں نے ایک ناجائز بچے کی ماں کو ہیروئن بنا دیا تھا ۔ یہ بھی کامیاب تھی۔ ایک اور فلم ’’ گمراہ‘‘ میں انہوں نے ایک شادی شدہ عورت کو اپنے شوہر کو بھلا کر پرانے محبوب سے ملاقاتوں کو موضوع بنایا۔ آخر میں بیوی کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا مگر یہ فلم بھی روایت سے بالکل ہٹ کر تھی اور بے حد کامیاب ہوئی تھی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ


loading...