اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 4

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 4

  



میں نے شاہی محلات میں آنکھیں کھولی تھیں۔ میں محلات کی پر خطر زندگی اور خون آشام سازشوں سے خوب واقف تھا لیکن اب خواہش کے باوجود شاہی محل نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ دربار کے خوشامدی ماحول اور شاہی محل کی سازشوں سے دامن چھڑانے کی ایک ہی صورت تھی کہ میں اپنی بیوی سمارا کو لے کر دمشق سے فرار ہو جاؤں۔ میں نے تمام حالات سے اپنی بیوی کو باخبر کرنے کے بعد اس سے مشورہ طلب کیا تو اس نے بھی یہی رائے دی کہ ہمیں اس پر اگندہ درباری ماحول سے دامن چھڑا کر کسی دوسرے ملک کی طرف کوچ کر جانا چاہیے۔ میں نے فرار کے منصوبے پر غور کر نا شروع کر دیا۔ میں نے انگور کا ایک باغ خریدا ہوا تھا۔ وہ فروخت کر دیا۔ میں فرار کی دوسری تفصیلات میں لگا ہوا تھا کہ اچانک شاہی طبیب نے بھرپور وار کر دیا۔

اس نے پہلے ہی سے بادشاہ کے کان میرے خلاف خوب بھر رکھے تھے۔ مجھے اس کی خبر نہیں تھی کیونکہ دربار میں میرا کوئی مخبر نہیں تھا۔ دوسری جانب شاہی طبیب ایک ایسی حکمت عملی پر چل رہا تھا جس نے مجھے دھوکے میں رکھا۔ میرے ساتھ اس کا سلوک بڑا مشفقانہ ہوگیا تھا اور وہ اکثر بعض جڑی بوٹیوں کے خواص کے بارے میں مشورہ لینے میرے حویلی بھی آجایا کرتا تھا۔ اس نے مجھے یہ تاثر دے رکھا تھا کہ وہ مجھے طب میں اپنے سے بڑھ کر سمجھتا ہے لیکن اندر ہی اندر وہ میرے خلاف ایک خطرناک سازش کے تانے بانے بن رہا تھا جب سازش کا جال پوری طرح تیار ہوگیا تو ایک رات جبکہ میں روغن زیتون کے چراغ کی روشنی میں کتاب طب کا مطالعہ کر رہا تھا تو حویلی کے دروازے پر ایک گھڑ سوار آیا۔ پہرے دار نے مجھے اطلاع بھجوائی کہ چھوٹی شہزادی کی طبیعت اچانک ناساز ہوگئی ہے اور مجھے شاہی محل طلب کیا گیا ہے۔

میری بیوی خواب گاہ میں سو رہی تھی۔ رتھ بان زال بھی اپنی کوٹھڑی میں محو خواب تھا۔ میں نے چند ضروری ادویات تھیلے میں ڈالیں اور نیچے آگیا۔ میں نے رتھ بان کو جگایا چاہا تو معلوم ہوا کہ گھڑ سوار میرے لئے شاہی گھوڑا ساتھ لایا ہے۔ میں اس کے ساتھ محل کی طرف روانہ ہوگیا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 3پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دمشق کی قدیم پر اسرار گلیاں رات کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ کہیں کہیں چراغوں کی روشنی بھی ہو رہی تھی۔ گھڑ سوار مجھے محل کے عقبی حصے کی جانب لے گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ محل کے صدر دروازے کی طرف کیوں نہیں گیا۔ اس نے کہا کہ شہزادی اپنی بیماری کا بادشاہ اور ملکہ سے ذکر نہیں کر نا چاہتی۔ اس لئے یہ ان کا حکم ہے کہ آپ کو خفیہ راستے سے ان کی خواب گاہ تک لایا جائے۔ میں خاموش ہوگیا۔ محل کے عقب میں خاموشی اور اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ محل کے ایک خفیہ راستے سے مجھے شہزادی کی خواب گاہ کی کھڑکی کے پاس لایا گیا۔

’’ آپ اس کھڑکی میں سے شہزادی کی خواب گاہ میں تشریف لے جائیے کیونکہ خواب گاہ کے دروازے پر خواجہ سراؤں کا پہرہ ہے اور شہزادی اپنی بیماری کو راز میں رکھنا چاہتی ہیں۔ جلدی کیجئے۔ شہزادی کی طبیعت سخت نا ساز ہے۔‘‘

یہ کہہ کر گھڑ سوار چلاگیا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کھڑکی کو ذرا سا دھکیلا تو وہ کھل گئی۔ میرے خلاف کی گئی بھیانک سازش کا یہ بھی ایک حصہ تھا۔ شاہی طبیب نے ایک کنیز خاص سے مل کر شہزادی کی خواب گاہ کی کھڑکی زنجیر اندر سے کھلی رکھوائی تھیں۔ میں جھکتے ہوئے کھڑکی میں سے اندر داخل ہوگیا۔ شہزادی کی خواب گاہ میں افریقی آبنوس کی جالی کے قریب سے گزر کر میں آگے بڑھا۔ میرے پاؤں ریشمی قالین میں دھنس رہے تھے۔ خواب گاہ میں فوری شمعوں کی خواب انگیز دھیمی روشنی پھیلی ہوئی تھی اور فضا میں عود عنبر کی خیال افروز مہک رچی ہوئی تھی۔ مجھے شہزادی کے کراہنے کی آواز نہیں آرہی تھی۔ میں آبنوس کے جالی دار پردے کی اوٹ سے نکل کر سامنے آیا تو دیکھا کہ شاہی پلنگ پر شہزادی محو خواب ہے۔ اس کے سیاہ بال ریشمی تکیوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہاں کوئی آثار ایسے نہ تھے کہ جس سے یہ پتہ چلے کہ شہزادی بیمار ہے۔

میری قدم وہیں رک گئے۔ اب میری چھٹی حس بیدار ہوگئی اور مجھے احساس ہو اکہ کہیں میرے خلاف کوئی سازش تو نہیں کی گئی؟ مگر اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ خواب گاہ کی کھڑکی میں سے چار خواجہ سراننگی تلواریں لئے داخل ہوگئے اور انہوں نے مجھے اپنے نرغے میں لے کر شور مچا دیا۔ شہزادی خوف زدہ ہو کر بیدار ہوگئی۔ مجھے دیکھ کر وہ اپنا شب خوابی کا لباس سمیٹتے ہوئے بولی۔

’’ تم ۔۔۔ تم یہاں کیسے آگئے؟‘‘

میرے سامنے پورا کھیل بے نقاب ہوگیا تھا لیکن سانپ نکل چکا تھا۔ مجھے اس وقت گرفتار کر کے شاہی محافظ دستے کے حوالے کر دیا گیا۔ دوسرے دن مجھے پابہ زنجیر دربار میں پیش کیا گیا۔ بادشاہ غصے سے کانپ رہاتھا۔ اس کے نکتہ نظر کے مطابق میں اس کی شہزادی بیٹی کی خواب گاہ میں بری نیت سے داخل ہوا تھا۔ میں نے اپنی صفائی کے لئے زبان کھولی ہی تھی کہ بادشاہ غصے سے لرزتا ہوا تخت سے اٹھ کھڑا ہوا۔

’’ لے جاؤ ۔۔۔ اسے زمین میں زندہ دفن کردو۔‘‘

مجھے گھسیٹ کر دربار سے باہر لے جایا گیا اور زنداں میں ڈال دیا گیا۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میری بیوی سمارا پر کیا گزر رہی ہے اور وہ کس حال میں تھی۔ میں زنجیروں میں جکڑا زنداں میں پڑا تھا مگر بادشاہ کے ہلاکت خیز شاہی احکام کی تکمیل میں دیر نہیں ہوا کرتی تھی۔ جلاد میرے گلے میں رسی ڈال کر مجھے کھینچتے ہوئے شاہی محل سے دور کچے ٹیلوں کے درمیان کھجوروں کے ایک جھنڈ میں لے گئے۔ وہاں میرے لئے پہلے ہی سے زمین میں ایک گڑھا کھدا ہوا تھا۔ موت کے خوف سے میرے ہونت خشک ہو رہے تھے۔ میں ابھی مرنا نہیں چاہتا تھا۔ میں ابھی جوان تھا۔ میر حسین بیوی سمارا بھی ابھی جوان تھی۔ ہم ابھی ہنسی خوشی زندگی کی بہاروں سے لطف اندوز ہونا چاہتے تھے مگر میں اپنی بیوقوفی اور بھولپن کی وجہ سے شاہی طبیب کی ہولناک سازش کا شکار ہوگیا تھا۔ اپنی بیوی سمارا کو یا دکر کے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے دل ہی دل میں اپنی بیوی کو الوداع کیا اور میرا دل خدائے واحد کے حضور اپنی بخشش کے لئے سجدہ ریز ہوگیا۔ جلادوں نے میرے زنجیریں اتار دیں اور مجھے گڑھے میں دھکا دے کر گرا دیا۔ یہ گڑھا کافی گہرا تھا اور میں اس میں پورے قد سے چھپ گیا۔ جلادوں کے اشارے پر سپاہیوں نے میرے اوپر مٹی گرانی شروع کر دی۔ میں مٹی اور پتھروں میں ڈوبتا چلا گیا۔ میں نے ایک بار ہاتھ پیر مار کر باہر نکلنے کی کوشش کی تو جلادوں نے میرے اردگرد تیر مارے۔ تیر مٹی میں آکر دھنس گئے۔ باہر بھی موت تھی اور گڑھے میں بھی موت تھی۔ موت نے میرے پاؤں مٹی کے اندر جکڑ لئے تھے۔ اب میں کوشش کے باوجود اپنے پاؤں مٹی سے باہر نہیں کھینچ سکتا تھا۔ مٹی میرے کاندھوں تک پہنچ گئی۔

میں نے جان بچانے کی ساری کوششیں اور خواہش ترک کر دی اور خدائے واحد کو یاد کر کے آپ کو موت کے حوالے کردیا۔ ایک بار پہلے میری ماں کی دعا نے میری جان بچالی تھی مگر اب وہ بھی شاید مجبور تھی کیونکہ میں زمین میں زندہ دفن ہو رہا تھا اور مٹی میری گردن سے اوپر آچکی تھی۔ مٹی کے بڑے بڑے ڈھیلے میرے سر کے اوپر بارش کی طرح گرنے لگے۔ میں نے منہ بند کر کے ہونٹ بھینچ لئے کیونکہ مٹی میرے منہ میں داخل ہونے لگی تھی۔ جب مٹی کی سطح میری ٹاک کے پاس پہنچی تو میں نے ایک لمبا سانس اندر کو کھینچ کر آخری بار دمشق کی وادی میں سورج کی روشنی میں کھجور کے جھنڈوں کو لہراتے دیکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔

میں زمین کے اندر زندہ دفن ہو چکا تھا۔ میرے اوپر دو فٹ تک گڑھا پر کر کے لکڑی کا تختہ پھروا دیا گیا۔ مجھے لکڑی کے تختتے کے پھرنے اور سپاہیوں کے باتیں کرنے کی دھیمی دھیمی کمزور سی آوازیں آرہی تھین۔ پھر گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز گونجی اور دور ہتے ہوتے غائب ہوگئی اور ہر طرف موت کی خاموشی چھاگئی۔ میرے کانوں سے شائیں شائیں کی آوازیں نکلنے لگیں۔ تازہ ہوا کا جو آخری طویل سانس میں نے اپنے اندر کھینچا تھا۔ اس کے آکسیجن اب ختم ہو رہی تھی اور میرے پھیپھڑے پھٹنے لگے تھے۔ مجھے ایک جھٹکا سا لگا تھا۔ مٹی میں دبا ہوا میرا سارا جسم ایک بار زور سے کانپا اور مجھے کچھ ہوش نہ رہا۔

پھر مجھے محسوس ہونے لگا کہ میں روشنی کے ایک غار میں اڑتے ہوئے گزر رہا ہوں۔ میں سمجھ گیا کہ خدائے واحد نے مجھے بخش دیا ہے اور مرنے کے بعد میرے روح جنت کی طرف پرواز کر رہی ہے۔ روشنی کا غار آگے جا کر بند ہوگیا۔ میرا جسم دیوار سے ٹکرایا اور میں چھوٹے چھوٹے سرخ ، زرد اور نیلے ستاروں کی پھلجڑی میں تحلیل ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے اپنے جسم کا احساس ہوا۔ میں نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو ہلانا چاہا۔ میری انگلیاں منوں مٹی کے اندر دفن تھیں۔ وہ ذرا سی بھی حرکت نہیں کر سکتی تھیں مگر مجھے محسوس ہوا کہ میری انگلیوں تک حرکت کرنے کا حکم پہنچ چکا ہے۔ میں نے جلدی سے اپنی آنکھیں کھولنا چاہیں میری آنکھیں کے پپوٹوں کے آگے مٹی کی دیوار تھی ، میری آنکھوں کے پپوٹے نہ کھل سکے۔ لیکن میرا دماغ زندوں کی طرح سوچ رہا تھا۔ کیا میں مرچکا ہوں ؟ کیا میں ابھی نہیں مرا؟ میں نے سانس لینا چاہا۔ میں سانس نہیں لے سکتا تھا مگر میں زندہ تھا۔ مجھے اپنے جسم میں ایک نئی توانائی کا احساس ہو رہا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ مٹی کے ذروں کے اندر سے تھوڑی تھوڑی تازہ ہوا میرے پھیپھڑوں تک پہنچ رہی تھی جس نے مجھے زندہ رکھا تھا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار


loading...