اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر19

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر19
اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر19

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایک سوال کے جواب میں ممتاز نے کہا’’پنجابی خانہ بدوش قسم کے عیاش ہیں ، ان کا متوسط کاروباری طبقہ جسم و آواز کی عارضی عیاشی کرتا ہے ۔ سندھ کے بڑے بڑے زمینداروں کی عیاشی ساون بھادوں کی ہے لیکن سرحد کے بعض لوگ سدا بہار عشق کے قاتل ہیں ان کے ہاں دولت پھٹی پڑتی ہے۔ یہ لوگ نہ صرف کئی کئی بیویاں کرتے ہیں بلکہ ایک آدھ رنڈی کو گھر میں ڈالنا بھی جزوزندگی سمجھتے ہیں ، ان کا کاٹا ہوا پانی نہیں مانگتا ۔پچھلے ایک برس میں کوئی بتیس رنڈیاں ان کے ہاں گئیں، نکاح پڑھوا یا مگر ایک ہی برس کے اندر لوٹ آتی ہیں ۔ ان میں سے ایک تہائی کو دق ہوگئی ہے ‘‘ممتاز نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا’’ پنجابی کا عشق بھنورے کا عشق ہے ، سندھی کا عشق مکھی کا عشق ہے اور پٹھان کا عشق چمگادڑ کا عشق ہے ۔‘‘

موسیقی

موسیقی تمام بنی نوح انسان کی مشترکہ زبان ہے ۔۔۔ (لانگ فیلو )

اُس بازار میں۔۔۔طوائف کی ہوش ربا داستان الم ۔۔۔قسط نمبر18پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

شمشاد نے کہا ، ’’ موسیقی اور عورت میں چولی دامن کا ساتھ ہے جن منزلوں سے عورت گزری انہی منزلوں سے موسیقی ، کبھی غناعبادت کا جزو تھا بلکہ بعض روایتوں کے پیش نظر غنا تھا ہی عبادت کے لئے ، لیکن آج اپنی فنی عزت کے باوجود ایک پیشہ ہوگیا ہے ، آواز اور جسم دونوں بکاؤ چیزیں ہیں ہر کوئی گانے کی تاثیر قاتل ہے ‘‘ لیکن سوسائٹی میں جوعزت ایک گویے یا گائن کی ہونی چاہیے وہ نہیں ہے عوام غنا کو جنس اور مغنی یا مغنیہ کو دوکاندار سمجھتے ہیں۔

یہ معلوم کرنا تو بڑا مشکل ہے کہ چکلے میں عورت پہلے آئی یا موسیقی یا دونوں ایک ساتھ ، لیکن یہ صحیح ہے کہ دونوں میں قافیہ و ردیف کا تعلق رہا۔ عبادت گاہوں میں بھی عورت رقص اور غنا اکٹھے رہے اور بالاخانوں میں بھی اکٹھے ہیں ۔۔۔ جب تک موسیقی کا تعلق دھرم یا مذہب ہے رہا دیوداسیاں باقاعدہ فنی تعلیم حاصل کرتی رہیں اور وہ بہترین مغنیہ ورقاصہ ہوتی تھیں ، اسی طرح رقص و غنا کا حصول کنیزوں کے محاسن یا فرائض میں سے تھا۔ چنانچہ کنیزوں میں بڑی بڑی نامور مغنیہ ہوتی ہیں ، ایک خاص دور میں تو خود شاہی بیگمیں موسیقی میں استعداد بہم پہنچایا کرتی تھیں۔

جہانگیر کی بیوی اور شاہجہان کی ماں مان متی کو موسیقی میں جو استغراق رہا یہ اس کا اعتراف تھا کہ جہانگیر نے خواصوں کا ایک طائفہ تعلیم و تربیت کے لئے اس کے سپرد کر رکھا تھا۔ مامون الرشید کی بہن علیہ کو موسیقی میں مجتہدانہ کمال حاصل تھا ۔اس کے متعلق عربوں کا دعویٰ تھا کہ ساری دنیا میں اس پایہ کی مغنیہ موجود نہیں ہے۔

اورنگ زیب کے جانشینوں میں ۔۔۔ بہت سوں نے گویا عورتیں اپنے حرم میں ڈال رکھی تھیں۔ ان کی دیکھا دیکھی شہزادے بھی اسی ڈگر پر چل نکلے۔ آخری دور میں تویہ حال یہ تھا کہ مغنیہ اور مغنی عام تھے صناع اور سپاہی نا پیدا ۔

یہ تو خیر محلوں کی دُنیا کا حال ہے اور اس کے تذکرے تاریخ کے صفحوں کو کھنگالنے سے مل ہی جاتے ہیں لیکن اس بازار سے بڑے پائے کی گویا اُٹھی ہیں نور جہاں کی آواز میں جادو ہے ۔ منور سلطانہ نے نورانی گلاپایا ہے۔ مختار بیگم اس میں بھی بلا ہے فریدہ افسوں پھونکتی ہے۔ دہلی سے اختر جہاں اور اُس کی دو بیٹیاں نایاب اختر اور آفتاب اختر آئی ہیں انہیں اچھی سوجھ بوجھ ہے۔ اختر جہاں خود تو بڑی سمجھدار ہے لیکن نایاب بھی آواز کے تیور جانتی ہے ، ستاربھی خوب بجاتی ہے اور پکے راگ سے آشنا ہے ۔‘‘

’’پکار اگ ‘‘ ؟

شمشاد نے بات اُٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’ حقیقی راگ تو پکاراگ ہی ہے۔ باقی سب شاعری ہے جن لوگوں کو راگ یا راگنیوں سے آشنائی ہے وہ ان کے سحر کو جانتے ہیں ۔ یہ کمال صرف راگ ہی میں ہے کہ وہ ایک موسم میں دوسرے موسم کی یاد تازہ کرتا اور انسان کے ذہن کو ایک مجرد کیفیت میں منتقل کر دیتا ہے۔ اس وقت بڑے غلام علی خاں اپنے فن میں یگانہ ہیں۔ لیکن وہ نائک یا گند ہرپ نہیں گنی ہیں۔‘‘

’’ یہ نائک ، گندھرپ اور گنی کیا ہیں ؟ ‘‘

’’ نائک موسیقی کے علامہ فہامہ کو کہتے ہیں۔ وہ شخص جو سنگیت کا علم جانتا ہو دوسرے کو پڑھا سکے، خود تمام راگ گا سکتا ہو ، دوسروں کو سکھا سکے، اور جو کچھ اسلاف نے موسیقی میں پیدا کیا ہے اس میں اضافہ کر سکے۔ اس کو نائک کہتے ہیں ۔ آج تک صرف تیس نائک ہوئے ہیں جن میں خسرو ،ہیجو باورا ورواجد علی شاہ بھی شامل ہیں۔

گندھرپ ، وہ ہے جو کل راگ جانتا ہو لیکن خود مجتہدنہ ہو۔ تان سین ، با خاں ،چاند خاں وغیرہ گندھرپ تھے۔

گُنی ، جو صرف اپنے ہی ملک کے راگ گا سکتا ہو۔ لیکن اس کی نظر مارگ راگوں پر نہیں ہوتی ہے۔ ان سے نیچے کلاونت کا درجہ ہے جو دُھرپد اور تروٹ گاتا ہے۔ ٹپہ ، ٹھمرے ، خیال اور غزل گائے وہ قوال ہوتا ہے ‘‘۔

’’ اور یہ بائی کا مفہوم کیا ہے ‘‘؟

ممتاز نے عادتاً چٹکی لیتے ہوئے کہا بائی کا مفہوم ہے By the way‘‘

’’ لطیفہ اچھا ہے لیکن بائی ہے معزز لفط ‘‘ ۔

’’جی ہاں معزز تو ہے لیکن بعض لفظوں کی شہرت زمانہ کی ٹھوکروں سے داغدار ہوجاتی ہے ، مثلاً خلیفہ کا لفظ ہے اب ہر اُس شخص کو خلیفہ کہتے ہیں جو پاؤں توڑ کے بیٹھا ہو ، ایک بیکار وجود !‘‘

’’ بائی غالباً گجراتی کا لفظ ہے اور اس کا صحیح مادہ ایک گجراتی ہی بتا سکتا ہے لیکن جیسے ترکی میں ہر عورت کو خانم کہتے تھے یا ہمارے ہاں بیگم کا لفظ مروج رہا اسی طرح بائی کا لفظ ہے۔ جو بھارت کے بعض علاقوں اور بعض گوتوں کی عورتوں کے نام کا جزو ہے ۔ گاندھی جی کی اہلیہ محترمہ کا نام کستور ابائی تھا ، راجہ مان سنگھ کی بیٹی جو اکبر کے حرم میں تھی اُس کا نام جودھابائی تھا، ممکن ہے مسلمان اُمراء نے بیگم یا خانم کے الفاظ کی پاسداری میں بائی لفظ استعمال کیا ہو۔؟‘‘

’’ آج کل عورتوں میں اچھی گائک کون ہے ‘‘؟

’’ وہ تو آپا بتا چکی ہیں‘‘۔ ممتاز نے سگریٹ کے دھوئیں کو حلق سے نیچے اتارتے ہوئے کہا ۔۔۔ وہ خود بڑی گنی رہ چکی ہیں‘‘۔

شمشاد نے ایک سرد آہ کھینچی ، جیسے کہہ رہی ہو ۔۔۔

ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

اور بات کو اُٹھاتے ہوئے کہا

’’ میں یہ تو نہیں کہتی کہ مجھ سا کوئی نہ تھا ، لیکن زمانہ تھا کہ بڑے بڑے دہلیز سے آگے نہیں بڑھ پاتے تھے۔ ایک دفعہ آنجہانی مہاراجہ اندور ہمارے ہاں امرتسر چلے آئے تھے ۔ کئی دفعہ شہزادہ معظم جاہ کے بلاوے پر حیدر آباد دکن کا سفر کیا ہفتوں قیام رہا ۔ خود میر عثمان علی خاں کئی مجلسوں مین قدم رنجہ فرماتے۔ معظم جاہ کا مزاج شاہانہ تھا ، جب تک قیام ہوتا روزانہ ایک زرتار ساڑھی چند اشرفیاں اور کوئی نہ کوئی طلائی زیور انعام فرماتے۔ لیکن حضور بندگانِ عالی متعالی پر لے درجے کے کنجوس تھے کبھی کسی کو پھوٹی کوڑی تک نہ دی۔‘‘

’’ ایک دفعہ میں گا رہی تھی ، غزل کا کوئی شعر پسند آگیا، حضور نے جیب میں ہاتھ ڈالا حکم ہو ا شمشاد آگے آجاؤ۔ میں نے فرشی سلام کیا۔ لوگ متحیر تھے کہ اعلیٰ حضرت زندگی میں پہلی دفعہ کسی کو انعام بخش رہے ہیں لیکن نظام نے جیب میں سے قوام کی ڈبیا نکالی اور پوچھا پان کھاتی ہو؟‘‘

’’عرض کیا ، جہاں پناہ ! عادت تو ہے ؟‘‘

فرمایا ،’’ جاؤ تمہیں پان کھانے کی اجازت ہے اور یہ لو قوام ‘‘۔

’’دستور تھا کہ جب اعلیٰ حضرت کسی مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو اُن کے سامنے کوئی شخص پان کھانے کی ہمت نہ کرپاتا تھا اور یہ میرے لئے ایک بڑا عزاز تھا۔‘‘

شمشاد نے سر د آہ بھری اور بات کو مختصر کرتے ہوئے کہا۔

’’ اب وہ دن خواب کی طرح بیت چکے ہیں ۔ جوانی جا چکی ہے ، بڑھاپا آرہا ہے اور بڑھاپا ہی اصلاً جوانا مرگی ہے‘‘۔

****

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں) 

مزید : کتابیں /اس بازار میں