وزیر اعظم عمران خان 

وزیر اعظم عمران خان 
وزیر اعظم عمران خان 

  



حلف برداری سے پہلے ہی عمران خان کو وزیر اعظم پاکستان تسلیم کرلیا گیا ہے ۔اپوزیشن اپنا مشترکہ وزیر اعظم لانے کے لئے ہنوز جوڑ توڑ میں مصروف ہے اور عندیہ ظاہر کیا جاچکا ہے کہ عمران خان کو قومی اسمبلی میں ایک کڑے امتحان سے گزر کر ہی وزارت عظمیٰ کا تاج پہنایا جاسکے گا ۔یہ خدشہ بہر حال سنجیدہ حلقوں میں ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر اپوزیشن کے ساتھ ایم کیو ایم بھی مل گئی تو عمران خان کے لئے وزیر اعظم بننا خواب بن کر رہ جائے گا لیکن دوسری جانب ہتھیلی پر سروں جمائی جاچکی ہے ۔بنی گالہ میں عمران خان کو بطور وزیراعظم پروٹوکول دیا جاچکا ہے ،سفیران عالم ان کے در دولت پر حاضری دے رہے ہیں ۔یہ ایسے نہیں ہوجاتا ۔پاکستان کی تقدیر ساز قوتوں نے انہیں وزیر اعظم تسلیم کرلیا ہے ،عوام کی بھاری اکثریت انہیں دل سے وزیر اعظم مان چکی ہے اور عالمی طاقتیں بھی انہیں مستقبل وزیر اعظم تسلیم کرچکی ہیں ،باقی رہا اپوزیشن کاتو،وہ جو مرضی کرلے ،عمران خان کے سر پر وزارت عظمیٰ کاہما بیٹھ چکا ہے ۔۔۔ میں نہ مانوں کا کھیل تو یہ جمہوری حق ہے جو انہیں استعمال کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے ۔اس لئے اگر اب عمران خان کو وزیر اعظم عمران خان کے نام سے بلایا اور لکھا جائے تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔ہاں ،یہ وزارت عظمیٰ ان کے لئے بھی کانٹوں کی سیج ہے ،ان کی جان اٹکی رہے گی کیونکہ اب تک کی صورتحال سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کی جان ایک طوطے میں ہے اور طوطا کسی جناتی ،نہ نظر آنے والی ماورائی مخلوق کے پاس قید ہے ۔معاف کیجئے گا میں اس مخلوق کو خلائی مخلوق لکھنے سے قاصر ہوں ۔باقی جو آپ سوچنا چاہیں ،اس پر کوئی قید نہیں۔

عمران خان نے اپنا عندیہ ظاہر کردیا ہے کہ وہ زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد سادگی پر چلیں گے،عوام کے ٹیکس کی حفاظت کریں گے ۔یہ غیر معمولی بات ہے ۔یہ تعلّی ان سے پہلے بھی وزرائے اعظم مارا کرتے تھے لیکن بعد میں کیا ہوا؟ مافیاز کے گاڈ فادر نکلے،کرپشن کے گنگا شناور ثابت ہوئے ،اب ایما نداری کی سوئی کے ناکے سے عمران خان کو بھی گزرنا ہوگا ۔اگر وہ عوام کے ٹیکس کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تواگلے پانچ سالوں میں پاکستان حقیقت میں پیراڈائز بن جائے گا کیونکہ ٹیکس اور پاکستان کے وسائل پر ہی لوٹ مار کا بازار گرم ہوتا ہے،سوئس اکاونٹ بڑھتے ہیں ،بے نامی کا کاروبار ہوتا ہے ۔پاکستانیوں کاپیسہ پاکستان پر خرچ ہوگیا تو یقین کر لینا چاہئے کہ ملک میں پیٹرول کی قیمت کم ہوگی،بجلی سستی ہوجائے گی،انرجی کے منصوبوں کی بنیاد رکھی جاسکے گی ،ہسپتال بنیں گے ،تعلیمی اداروں کا معیار اور تعداد بڑے گی ،پیداواری اداروں کا پہیہ چل پڑے گا اورایک کروڑ تو کیا اس سے زیادہ نوکریاں دستیاب ہوجائیں گی۔لیکن اس خواب کی تکمیل سنگریزوں سے گزر کر ملے گی ۔عمران خان کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ ضدی اور منصوبہ ساز ہیں ،پاکستان کی کرپٹ اشرافیہ کو نکیل ڈالنے کے لئے پاکستان کو ایک’’ کریک ‘‘ سیاستدان چاہئے جو مصلحت ، اقربا پروری ،ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر ان پر ہاتھ ڈال سکے اورعمران خان اس معاملے میں ہتھ چھٹ ہیں۔ عمران خان ذاتی طور پر کسی مالی بدعنوانی کا شکار نہیں ،وہ ’’رجھے ‘‘ ہوئے انسان ہیں ،ان کے دشمن بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ کم از کم مالی طور پر حریص نہیں ۔اس لئے وہ کرپٹ اشرافیہ ،اتھری بیوروکریسی کو نتھ ڈالیں گے ،ان کے اپنے ساتھی بھی اگر کسی ایسے مالی و ملّی جرم میں مطلوب ہوئے تو وہ ان کوبھی ’’ ٹنگ‘‘ دیں گے ۔

عمران خان کی یہ صفات انہیں دوسرے آزمودہ سیاستدانوں سے جدا کرتی ہیں ،امید رکھنی چاہئے کہ پاکستان کی مقتدر طاقتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ ان سے پہلے جن وزرائے اعظم اور بڑے سیاستدانوں نے ملک کی سلامتی کی جڑیں کمزور کی ہیں ،عمران خان ان کھوکھلی جڑوں کو اپنے ٹھوس سیاسی سیمنٹ سے بھر دیں ۔اللہ کرے ان سے وابستہ امیدیں پوری ہوں ۔

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ


loading...