پہلے ’’غلام‘‘ اب ’’آزاد‘‘ بکتے ہیں،’’نااہل ترین ‘‘لوگ خرید و فروخت میں مصروف ہیں:حافظ حسین احمد 

 پہلے ’’غلام‘‘ اب ’’آزاد‘‘ بکتے ہیں،’’نااہل ترین ‘‘لوگ خرید و فروخت ...
 پہلے ’’غلام‘‘ اب ’’آزاد‘‘ بکتے ہیں،’’نااہل ترین ‘‘لوگ خرید و فروخت میں مصروف ہیں:حافظ حسین احمد 

  



کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام  کے رہنما حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ پہلے ’’غلام‘‘ بکتے تھے اب ’’آزاد‘‘ بکتے ہیں، زور اور زَر کے ذریعے زبردستی انتخابات میں نتائج کو تبدیل کیا گیا، بدترین دھاندلی کے ذریعے جمہوریت پسندوں کو شکست دینے کی کوشش کی گئی مگر جمہوریت پسند اسمبلی میں ہو یا باہر جمہوریت کی بقا کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  حافظ حسین احمد نے کہا کہ عید قرباں کے لیے جس طرح بکرا منڈیوں میں جانوروں کی خرید و فروخت جاری ہے اسی طرح مقدس ایوان کے لیے ’’آزاد‘‘ امیدواروں کی بھی منڈی قائم کردی گئی ہے اور ’’نااہل ترین لوگ ‘‘اہل لوگوں کو خرید و فروخت میں مصروف ہیں، از خود نوٹس لینے والے ’’بابے رحمتے‘‘ کوضمیر فروشوں کی یہ منڈی نظرکیوں نہیں آتی؟ وہ اس پر کیوں از خود نوٹس نہیں لیتے؟ضمیر کے سوداگرعوام کے مینڈیٹ کی توہین کرنے میں مصروف ہیں ، پرائیوٹ جہاز میں منتخب نمائندوں کو مویشیوں کی طرح لایا جارہا ہے اور ان کی قیمتیں لگائی جارہی ہے جو کہ مقدس ایوان کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہونے والے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی اور اب آزاد منتخب نمائندوں کی خرید و فروخت نے پوری دنیا میں ملک کا نام بدنام کردیا ہے، ایسا لگ رہا ہے جیسے ایک پارٹی کو قانون سے بالاتر کردیا گیا ہے ۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ