ایثار و قربانی کا موسم بہار

ایثار و قربانی کا موسم بہار
ایثار و قربانی کا موسم بہار

  

چند دن بعد 14 اگست آئے گا۔قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں کی لازوال و بے مثال قربانیوں کے نتیجہ میں اس دن پاکستان وجود پذیر ہوا۔پاک وطن کی منزل نظروں میں جمائے عام مسلمانوں اور نہتے کاروباری افراد کے قافلوں نے ہجرت مدینہ کی یاد تازہ کر دی۔پاکستان بن گیا،لیکن حکومتی مشینری چلانے کے لئے وسائل کی شدید قلت تھی۔ بے سرو سامانی کے باوجود کاروباری افراد نے قائداعظمؒ کی آواز پر لبیک کہا اور بساط سے بڑھ کر وسائل قائداعظمؒ کے قدموں میں نچھاور کر دیئے۔

اس طرح چشم فلک نے عہد نبویؐ کے اس منظر کو تازہ کر دیا جب جنگی ضرورتوں کے لئے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے وسائل کی فراہمی کے لئے کہا۔ سب حسب استطاعت سامان لائے۔ حضرت صدیق اکبرؓ سے حضورؐ نے پوچھا کہ گھر کی ضرورتوں کے لئے کتنا سامان چھوڑا تو جنابِ صدیق اکبرؓ کا برجستہ جواب تھا کہ صدیق کے لئے خدا اور اس کا رسول بس۔ پاک وطن کے لئے کاروباری طبقہ کی قربانی صرف ابتدائی ضرورتوں تک محدود نہیں رہی۔انہوں نے دن رات محنتوں کو اپنا شعار بنایا۔دیانت وامانت اپنی پہچان بنائی۔ کارخانے اور فیکٹریاں لگائیں۔ منڈیوں کی رونق بڑھائی اور عوام کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کئے۔حکومت کو نہ صرف مقررہ ریونیو فراہم کیا،بلکہ جب کبھی دشمن نے جنگ مسلط کی۔زلزلہ یا سیلاب آیا کاروباری برادری نے بڑھ چڑھ کر حکومت اور متاثرین کی مدد کی۔مشکل وقت میں انہوں نے ایوان ہائے صنعت وتجارت اور تجارتی انجمنوں کو ریلیف کیمپ بنا دیا اور زلزلہ یا سیلاب زدگان کی بھرپور مدد کی۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قائداعظمؒ کے بعد حکومتوں نے حوصلہ افزائی سے کاروباری طبقہ کی ہمتوں اور کوششوں کو ترو تازہ رکھنے کی بہت کم کوشش کی،بلکہ کاروباری پالیسیوں سے صنعت و تجارت کی حوصلہ شکنی ہوتی رہی ہے، حالانکہ کاروباری طبقہ حوصلہ افزائی اور محبت کا متقاضی تھا تاکہ اپنی کاروباری سرگرمیوں کو زیادہ سے زیادہ فروغ دین اور روزگار کے مواقع پیدا کریں۔حکومتوں نے وطن کے حقیقی معماروں کو زیادہ تر بیورو کریسی اور افسر شاہی کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا ہے۔انہیں شک کی نظر سے دیکھا اور پرکھا گیا ہے۔عالمی مالیاتی اداروں سے قرض حکومتوں نے لیا،لیکن ان کی ادائیگی مع سود کا بوجھ کاروباری طبقہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔اگر اس طبقہ کے نمائندوں کی طرف سے آواز آئے کہ اتنا بوجھ نہ ڈالا جائے جسے اٹھانا کاروباری اداروں کے بس کی بات نہ ہو تو انہیں چور اور ڈاکو کے القابات سے نوازا اور ایف بی آر کے جان لیوا طرزِ عمل سے گزارا جاتا ہے۔

بانی پاکستان زندہ ہوتے تو یقین ہے کہ وطن کے معماروں کے ساتھ ایسا سلوک کسی صورت روانہ رکھتے۔ان حالات میں 14اگست کے دن تعمیر وطن کے جذبوں کو زندہ و پائندہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کاروباری طبقہ ایثار و قربانی کی تابندہ روایات سے کبھی رو گردانی نہیں کرتا اور نہ کبھی کرے گا۔حکمرانوں سے اس موقع پر درخواست ہے کہ اندرونی یا عالمی مالیاتی اداروں کے ماہرین کو ٹیکسوں کے نفاذ کے لیے اتنی کھلی چھٹی نہ دی جائے کہ وہ اپنی طول طویل خواہشوں کے ناقابل ِ برداشت بوجھ سے صنعت اور کاروبار کا چلنا نا ممکن بنا دیں۔اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جائے کہ خود انحصاری و خوشحالی صرف کاروباری سرگرمیاں بڑھا کر مل سکتی ہے۔ نجی شعبہ کو سہولیات و ترغیبات سے اتنا آسان بنا دیا جائے کہ ملک کے طول و عرض میں صنعتوں کا جال بچھ جائے۔مینوفیکچرنگ کی کثرت سے زرمبادلہ کے انبار لگ جائیں۔بات بات پر ڈرانے دھمکانے اور پیچھے پڑنے کی بجائے کاروبار کرنے اور ٹیکس دینے کا خوشدلدانہ ماحول پیدا کیا جائے۔ ایسا کر کے دیکھئے کیا ہوتا ہے۔

.

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

14 اگست کے چند دن بعد 6ستمبر آئے گا۔ جب دنیا کو پاک فوج کا پہلا تعارف ملا۔ جب پاکستان کے ازلی دشمن انڈیا نے بڑی فوج کے زعم میں لاہور کے بارڈر پر شب خون مارا تھا۔جب اسلحہ کی کثرت کے نشہ میں مدہوش اس کے فوجیوں نے صبح کا ناشتہ لاہور کی کلب میں کرنے کا ناپاک ارادہ کیا تھا۔وہ وقت تھا جب کلمہ طیبہ کی للکا ر نے انڈین سورماؤں کو دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کیا۔ ناشتہ دور کی بات ہے انہیں اپنے اسلحہ اٹھانے کا ہوش نہ رہا۔ان معطر جذبوں کو شاعروں نے یوں سمیٹا کہ پتر ہٹاں تے نہیں ملے اور یہ کہ وطن کی ہوائیں تمہیں سلام کہتی ہیں۔ ستمبر 1965ء میں اپنی فوج کے ساتھ عوام کی محبت کا یہ عالم تھا کہ روکنے کے باوجود کھانا پکا اور تحفے لے کر اگلے مورچوں پر پہنچ جاتے تھے۔جنگ ختم ہو گئی اس کے بعد اگر کوئی جوان یا دستہ کسی آبادی سے گزرتا تو لوگ اس کے لئے آنکھیں فرشِ راہ کرتے مٹھائی کھلاتے اور ہار پہناتے تھے۔ستمبر گزر گیا،لیکن فوج کے ساتھ عوام کی محبت قائم و دائم ہے۔ عوام فوج کی معصومیت میں کسی قسم کی آمیزش کو پسند نہیں کرتے۔اسے ہر حال میں خالص رکھنا چاہتے ہیں۔جب کبھی کسی حکمران یا فوجی افسر نے فوج کے رعب و دبدبہ کو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے استعمال کیا وہ عوام کی نظروں میں نفرت کا نشان بن گیا۔

ائرفورس کے فائٹر ایم ایم عالم نے ایک ہی اڑان میں انڈیا کے جہازوں کا فلیٹ تباہ و برباد کر دیا۔ایم ایم عالم ہمیشہ کے لئے عوام کی نظروں میں امر ہو گیا۔ ایک کمانڈر نے سابقہ مشرقی پاکستان میں انڈین آرمی کے سامنے ہتھیار ڈالے ہمیشہ کے لئے عوام کی نظروں میں ایسا گرا کہ کسی کو کچھ معلوم نہیں کب اور کہاں مرا اور دفن ہوا۔ایک اور فوجی کمانڈر نے فوج کا رعب اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔بیرون ملک باولے کتے کی طرح پھرتا ہے۔وطن کی مٹی پر قدم رکھنا نصیب نہیں ہو رہا۔پاکستان کی فوج کو اسی لئے پاک فوج کا نام دیا جاتا ہے کہ اس کے مقاصد معصوم و خالص ہیں۔یہ سیاسی آلائشوں اور سازشوں سے پاک اور صاف ہے۔اس کی شان بان اور رعب و دبدبہ صرف اور صرف وطن کی سلامتی کے لئے ہے۔

یہ فوج شہادت کے جذبوں سے سرشار اور ہمیشہ سینوں میں ان جذبوں کو زندہ و سلامت رکھتی ہے۔اسی لئے یہ فوج عوام کے دل کا سرور اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث بنتی ہے۔ 6ستمبر کا دن پاک فوج کے پاکیزہ جذبوں کو تازہ رکھنے کا دن ہے۔اس عہد کا دن ہے کہ جس کسی نے پاک فوج کی طاقت اور شان و شوکت کو ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی جسارت کی اسے راندہ مخلوق بنا دیا جائے گا،کیونکہ پاکستان کی فوج پاک ہے۔بہادر ہے۔اس کی پاکیزگی اور بہادری پاک وطن کے لئے ہے۔کسی گروہ کسی جماعت یا کسی فرد کے لئے نہیں ہو سکتی۔اسی لئے تو ترانہ پتر ہٹاں تے نہیں ملے توں لبھ دی پھریں بازار کڑے اور وطن کی ہوائیں تمہیں سلام کہتی ہیں۔لاکھوں ماں بہنوں اور بیٹیوں کی آنکھوں کو نمناک کر دیتا ہے۔پاک فوج زندہ باد۔پاک وطن پائندہ باد

مزید :

رائے -کالم -