اپوزیشن اب سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیچ کرے گی 

اپوزیشن اب سپیکر قومی اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیچ کرے گی 

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اگر کسی نے یہ سوچ لیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتیں حوصلہ ہار کر بیٹھ جائیں گی اور ”کمپرومائز“ کی سیاست شروع کر دیں گی تو یہ اس کی خام خیالی ہے، اس تحریک کی ناکامی سے البتہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ نیم پخت سیاستدانوں کو سینیٹر منتخب کراکے کسی اچھی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا تھا،جن سینیٹروں نے خفیہ رائے شماری میں اپنی اپنی جماعتوں کو دھوکا دیا، ان کے نام جلد سامنے آجائیں گے۔  مارچ 2018ء میں جب سینیٹ کے مڈٹرم انتخابات ہو رہے تھے تو پنجاب میں ایک نشست پر اپ سیٹ ہوا تھا، تحریک انصاف کے امیدوار چودھری محمد سرور سب سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے تھے اور مسلم لیگ (ن) کو ایک نشست کم حاصل ہوئی تھی، اس شکست کو اندرونی اختلافات کا شاخسانہ قرار دیا گیا تھا، لیکن چودھری سرور کی کامیابی میں ان کے ”رابطوں“ کا بھی بڑا عمل دخل تھا جو انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے ساتھ کامیابی کے ساتھ استوار کرلئے تھے۔ ویسے بھی وہ جب برطانیہ کی سیاست ترک کرکے پاکستان آئے تو ان کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہوکر  باقاعدہ سیاست شروع کرنے سے پہلے کسی اعلیٰ سرکاری منصب پر فائز ہو جائیں۔ اس لئے انہوں نے  مسلم لیگ (ن) کی جانب سے گورنر پنجاب کا عہدہ قبول کرلیا، لیکن یہ آئینی منصب ان کے بلند عزائم کی راہ میں حائل تھا۔ چند ہفتوں بعد ہی انہوں نے گورنر کے آئینی فرائض سے قدم باہر رکھا تو انہیں شہبازشریف کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، وہ بطور گورنر، پنجاب کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کے چانسلر بھی تھے، لیکن اٹھارہویں ترمیم کے بعد ان کے یہ اختیارات محدود ہوگئے۔ پھر بھی جب انہوں نے ایسے اختیارات استعمال کرنا شروع کئے تو انہیں بتایا گیا کہ یہ اختیار اب وزیراعلیٰ کو تفویض ہو چکے ہیں۔ چنانچہ حالات آہستہ آہستہ انہیں استعفے کی جانب لے گئے، ویسے بھی ان کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں گورنر رہ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے، جہاں ان کے برادر خورد پہلے سے موجود تھے لیکن دہری شہریت کی وجہ سے وہ انتخاب نہ لڑ سکے۔  اس لئے واپس برطانیہ چلے گئے، اب چودھری سرور دوسری مرتبہ گورنر ہیں اور ایسے اختیارات بھی آسانی سے استعمال کر رہے ہیں جو آئین کے تحت یا تو وزیراعلیٰ کے پاس ہیں یا صوبائی حکومت کے، لیکن اس پر کسی کو اعتراض نہیں، پھر وہ پنجاب کے بہت سے ارکان اسمبلی کو وزیراعظم سے ملانے بنی گالہ لے گئے اور ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کیا کہ یہ حضرات پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں، ابھی تک تو یہ حادثہ نہیں ہوا، لیکن لوگ یہ سوال ضرور اٹھا رہے ہیں کہ گورنر کو یہ حق کب سے حاصل ہوگیا کہ وہ کسی رکن اسمبلی کو وزیراعظم سے اس مقصد کے لئے ملوائے کہ وہ اپنی پارٹی چھوڑ کر وزیراعظم کی پارٹی میں شامل ہو جائے، یہ باتیں چودھری سرور کے ذکر کی وجہ سے یاد آگئیں جو پنجاب کے واحد سینیٹر تھے جو پارٹی کے مطلوبہ ووٹ موجود نہ ہونے کے باوجود منتخب ہوگئے، کچھ ایسا ہی حال اب کی بار اپوزیشن کی نمبر گیم کا ہوا ہے۔ جب راجہ ظفر الحق نے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تو 64ارکان نے کھڑے ہوکر ان کی حمایت کی، لیکن جس طرح چائے کے کپ کو ہونٹوں تک لے جاتے ہوئے کئی حادثات پیش آجاتے ہیں اسی طرح 64کی یہ تعداد ووٹنگ کا مرحلہ آتے آتے 50رہ گئی، تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر ہر طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں روا بھی اور ناروا بھی، لیکن اگلے سیاسی منظر کے حوالے سے بات کی جائے تو کھیل ابھی ختم نہیں ہوا، بے شک اپوزیشن کے 14ووٹ اسے نہیں ملے، لیکن جو پچاس ووٹ مل گئے ہیں ان میں اگر آنے والے دنوں میں تین کا اضافہ ہو جاتا ہے تو جو کھیل اس وقت بنا سنورا نظر آتا ہے وہ بگڑ بھی سکتا ہے، چیئرمین سینیٹ کے خلاف ایک تحریک کی ناکامی کا مقصد یہ نہیں  کہ دوبارہ تحریک نہیں لائی جاسکتی، یہ تحریک دوبارہ کسی بھی وقت پیش کی جاسکتی ہے لیکن ایک باخبر ذریعے کا خیال ہے کہ اپوزیشن اب کی بار کھیل کا میدان بدل لے گی، اور چیئرمین کے خلاف دوبارہ تحریک لانے کی بجائے قومی اسمبلی  کے سپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک پیش کرے گی۔ تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں اور اس کی حکومت اتحادی جماعتوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے، وزیراعظم کو محض چار ووٹوں کی اکثریت سے منتخب کیا گیا تھا اور بجٹ بھی چار ارکان کی اکثریت سے منظور ہوا، یہ درست ہے کہ جو جماعتیں اس وقت حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں وہ کسی اصولی سیاست کے تحت ایسا نہیں کر رہیں بلکہ ان کے سیاسی مفادات ہیں جونہی ان مفادات کو خطرہ ہوا یہ جماعتیں کسی نہ کسی بہانے سے الگ ہو جائیں گی۔ اس لئے اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرکے اپوزیشن ایک تو چندہفتوں کے لئے ایک بار پھر ہنگامہ کھڑا کر سکتی ہے اور دوسرے یہ تاثر بھی زائل کرسکتی ہے کہ چیئرمین کے خلاف تحریک کی ناکامی کی وجہ سے اس کی سیاست کو کوئی ایسا دھچکا لگا ہے کہ وہ اب کوئی بڑا سیاسی وینچر کرنے کی پوزیشن میں نہیں،  اپوزیشن اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منصوبہ بندی کریگی اور جلد ہی اس کا اعلان بھی کر دیا جائے گا۔

سپیکر کے خلاف تحریک

مزید : تجزیہ