جلال آباد جیل پر خود کش حملہ ،اتنی بڑی تعداد میں قیدی فرار ہونے میں کامیاب کہ افغان صدر اشرف غنی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

جلال آباد جیل پر خود کش حملہ ،اتنی بڑی تعداد میں قیدی فرار ہونے میں کامیاب کہ ...
جلال آباد جیل پر خود کش حملہ ،اتنی بڑی تعداد میں قیدی فرار ہونے میں کامیاب کہ افغان صدر اشرف غنی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

  

جلال آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)افغان صوبے ننگر ہار کے اہم ترین شہر میں واقع سب سے بڑی جیل پر عسکریت پسندوں کا  بڑا خود کش حملہ ،بم دھماکے اور فائرنگ کے نتیجہ میں دو افراد ہلاک جبکہ 18 زخمی ہو گئےہیں جبکہ پچاس سے زائد قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں،دوسری طرف مقامی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے بہت بڑا حملہ کیا ہے جس میں درجنوں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے شہر جلال آباد میں ایک جیل کو نشانہ بنایا گیا ہے، بم حملے کے بعد حملہ آوروں اور فورسز میں  شدید جھڑپیں ہوئیں ہیں ۔مقامی عہدیداروں کے مطابق صوبہ ننگرہار میں ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی کو جلال آباد شہر کے پی ڈی 4 میں جیل کے داخلی دروازے پر دھماکا سے اُڑا دیا۔داخلی دروازے پر کار بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور 18 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ مبینہ طور پرعسکریت پسند جیل کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے،جیل کے اندر سے بھی شدید فائرنگ کی اطلاعات ہیں جبکہ جیل کے قریب سے تین بڑے دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔ ننگرہار کے گورنر نے پچاس قیدیوں کے فرار کی تصدیق کر دی ہے۔جیل کے اندر ہونے والی شدید فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہونے کا خدشہ ہے جبکہ آخری اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تاحال فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

افغان وزارت داخلہ نےجلال آبادمیں ہونےوالےدھماکے کی تصدیق کی ہے لیکن انہوں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم دہشت گرد تنظیم داعش سے ہے جبکہ افغان طالبان نے خود کو حملے سے بری قرار دے دیا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -