موجودہ دور کے راز سینے میں دفن، 2 بار وزارت عظمیٰ کی آفر ہوئی لیکن ۔ ۔ ۔ شہبازشریف کھل کر بول پڑے

موجودہ دور کے راز سینے میں دفن، 2 بار وزارت عظمیٰ کی آفر ہوئی لیکن ۔ ۔ ۔ ...
موجودہ دور کے راز سینے میں دفن، 2 بار وزارت عظمیٰ کی آفر ہوئی لیکن ۔ ۔ ۔ شہبازشریف کھل کر بول پڑے

  

کراچی(ویب ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ دو بار وزارت عظمیٰ کی آفرز ہوئیں، موجودہ دور کے راز سینے میں دفن ہیں، پارٹی سے استعفیٰ دیا نہ منظر سے غائب ہوا، میں ہمیشہ سے قومی مصالحت چاہتا ہوں ، ہم فرشتے نہیں نواز شریف سے بھی ماضی میں غلطیاں ہوئی ہونگی، وہ انسان ہیں آدمی جذبات میں آکر باتیں کرجاتا ہے ، آگے بڑھیں اورعوام کے دکھوں کا مداوا کریں ،جتنی سپورٹ عمران خان کو ملی اس کا 30واں حصہ کسی اور کو ملا ہوتا تو آج ملک کے حالات کچھ اور ہوتے، عمران خان نے فوج کیخلاف زہر اُگلا ، ماضی میں پرویز مشرف کے اپنے فیصلے تھے ادارے کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تھا،2018ء الیکشن میں بہتر اجتماعی حکمت عملی بناتے تو شاید نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم ہوتے، جنرل باجوہ کی توسیع میں عمران خان کی خالی نااہلی نہیں بدنیتی بھی تھی کہ معاملہ سپریم کورٹ گیا۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کر رہے تھے۔

میزبان نے گفتگو کرتے ہوئے استفسار کیا کہ  کیا واقعی آپ مستعفی ہو رہے ہیں صدارت سے جس پر شہبازشریف نے کہا کہ میں نے بجٹ تقریر میں جب فائنلی مجھے اجازت مل گئی چار دن کے شور شرابے کے بعد وہاں جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے میں نے ایک جملہ کہا تھا کہ اگر عوام کی جیب خالی ہے تو یہ بجٹ جعلی ہے اسی طریقے سے یہ خبر جعلی ہے۔شہبازشریف کا کہنا تھاکہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے مسلم لیگ ن میرا اور ہمارا ایک گھر ہے اور اس گھر کو بڑی محنت سے نواز شریف نے بنایا ہے چالیس سال پر محیط ہے یہ محنت اس میں ہر کارکن کی بزرگوں کی شراکت ہے۔

شہبازشریف کاکہناتھاکہ حقیقت یہ ہے کہ 72 سالوں میں ہم سب نے غلطیاں کیں اور یہ جنگ جو ہونی چاہئے تھی اس ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے جس ہمت محنت اور دیانت کی ضرورت تھی اس کا فقدان رہا ہے، یہ نہ کسی ایک فرد اور ادارے کے خلاف جنگ لڑائی تو دور کی بات ہے، میں سمجھتا ہوں اس میں نفرت کا بھی اثر نہیں ہے، نہ ہونا چاہئے، اگر اس ملک کو 72 سال بعد بھی اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے اپنی اجتماعی بصیرت اور کاوشوں کو بروئے کار نہ لائے تو خدا ہمیں معاف کرے گا نہ آنے والی نسلیں معاف کریں گی۔

اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کے معاملے پر پارٹی قیادت میں اختلافات سے متعلق سوال کے جواب میں شہبازشریف نے کہاکہ  نواز شریف میرے قائد ہیں ہم ہر معاملے میں ان سے رہنمائی لیتے ہیں مشاورت کرتے ہیں یہ بات پارٹیوں میں سیاست میں جمہور میں یہ بات بالکل اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مشاورت سے فیصلے ہوتے ہیں اور جب مشاورت ہوتی ہے تو سب کو اپنی اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔یہ جو بات آپ کر رہے ہیں مفاہمت اور مزاحمت کی میری رائے جو ہے ایک سوچ ہے کہ پاکستان کو اگر ہم نے آگے لے کر چلنا ہے اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلوانا ہے تو اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ اپنی ذاتی پسند اور ناپسند سے بالاتر ہو کر اور یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے، بارہ اکتوبر کو جو شب خون مارا گیا جنرل مشرف نے تو ایک ایلیکٹڈ وزیراعظم موجود تھا نوازشریف اور جھگڑا کارگل تھا میں ذاتی معلومات کی بناء پر بتا سکتا ہوں کہ جنرل مشرف نے جو کارگل میں چڑھائی کی تھی اب تو یہ  ہسٹری بکز میں لکھا جاچکا ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -