سی پیک۔ گیم چینجر

سی پیک۔ گیم چینجر
سی پیک۔ گیم چینجر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جس پر کشمیر اور ایٹمی قوت کے بعد تقریباً قومی اتفاق رائے تھا۔ لیکن اگر اس کے اُتار چڑھاؤ پر نظر ڈالیں تو صورتحال کچھ خوشگوار نہیں لگتی۔ دس سال پہلے یہ منصوبہ شروع ہوا۔ مسلم لیگ (ن) نے اس پر تیزی سے کام شروع کیا اور پھر جنرل پرویز مشرف آ گئے انہوں نے اِس کا ٹھیکہ سنگاپور کی ایک کمپنی کو دے دیا، کمپنی نے کوئی کام نہیں کیا، ہو سکتا ہے امریکی دباؤ اِس کی وجہ ہو پھر پی ٹی آئی کے دور میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی، کووڈ بھی اس کی ایک وجہ بتائی جاتی ہے لیکن اُس حکومت کے ایک اہم وزیر رزاق داؤد کا ایک بیان تو ریکارڈ پر ہے کہ اِس منصوبے میں کم از کم ایک سال تک کام بند رہنا چاہئے۔ اب ظاہر ہے رزاق داؤد جیسے سنجیدہ آدمی کا بیان بلاوجہ نہیں ہو سکتا۔ ایک خیال یہ ہے کہ تحریک انصاف کچھ منصوبوں میں کرپشن نکالنا چاہتی تھی تاکہ شریف فیملی کو بدنام کیا جا سکے خواہ چین جیسا دوست ناراض ہو جائے اور قومی مفادات کو نقصان پہنچ جائے۔


اب کچھ عرصے کے لئے پی ڈی ایم کی حکومت آئی ہے جس میں لیڈنگ رول مسلم لیگ (ن) کا ہے تو سی پیک کے منصوبے میں بھی جان پڑ گئی ہے۔ منصوبے کے دس سال مکمل ہونے پر کافی سرگرمی نظر آ رہی ہے۔ اتوار کو چین کے نائب وزیراعظم مسٹر Lifeng  تین روزہ دورہ پر پاکستان آئے اور انہوں نے سی پیک کے دس سال مکمل ہونے پر ایک تقریب میں شرکت کی۔ چینی مہمان نے پاکستان کی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔پچھلے ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے گوادر کا دورہ کیا وہاں گواردر یونیورسٹی کے طلباء میں لیپ ٹاپ اور مچھیروں میں امدادی چیک تقسیم کئے۔ مچھیروں کا مسئلہ پہلے جماعت اسلامی کے ایک لیڈر ہدایت اللہ نے اُٹھایا تھا اچھا ہوا حکومت نے اِس پر توجہ دی ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کو اِس بات کا احساس رہتا ہے کہ آخر اِس منصوبے سے مجموعی طور پر بلوچستان اور خصوصاً گوادر کی مقامی آبادی کو کیا فائدہ پہنچا ہے۔ آرمی چیف بھی وزیراعظم کے ساتھ تھے، گوادر ایئرپورٹ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ اِس کا افتتاح چین کے صدر سے کرایا جائے اگر ایسا ہو گیا تو اِس سے مجموعی طور پر بہت اچھا اثر پڑے گا۔ وزیراعظم کے دورے سے چند دن پہلے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی وزارت نے اسلام آباد میں سی پیک پر دو روزہ عالمی کانفرنس کا اہتمام کیا۔ کانفرنس میں چینی ماہرین نے بھی شرکت کی، منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر الگ الگ سیشن ہوئے۔پلاننگ اور ڈویلپمنٹ کے وفاقی وزیر احسن اقبال مہمان خصوصی تھے۔گوادر بھی انہی کی بیٹ ہے اور وہ بڑی سرگرمی سے اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ احسن اقبال جیسے پڑھے لکھے اور تجربہ کار لوگ مسلم لیگ (ن)کا اثاثہ ہیں۔ کانفرنس میں اِس بات پر غور کیا گیا کہ اِس منصوبے کی تکمیل سے ہمارے معاشرتی اور معاشی منظر پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ Conectivity کے پہلو سے تو کئی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور کئی مکمل ہو چکے ہیں۔ البتہ صنعتی ترقی میں حصہ ڈالنے سے متعلق منصوبوں پر کام سست رہا اب صنعتی زونز پر کام کچھ تیز کیا گیا ہے،ذرائع کے مطابق سعودی عرب سمیت تین ملک گوادر میں 10 ارب ڈالر سے ریفائنری لگانے پر تیار ہیں۔


 اطلاعات کے مطابق ایم ایل ون کے منصوبے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے اورچند دن میں اس منصوبے پر دستخط ہو جائیں گے اس منصوبے کے تحت پشاور سے کراچی تک دو رویہ تیز رفتار ٹرین چلے گی یہ ایک اہم پیشرفت ہے۔ سابق حکومت میں شیخ رشید اس منصوبے کا کریڈٹ لینے کیلئے بہت بیتاب رہے۔کانفرنس میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ یہ منصوبہ سیاحت کے شعبے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے اورکچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وہاں سیاحوں کی کشش کیلئے کوئی چیز نہیں وہاں کے ایم این اے اور ہمارے دوست اسلم بھوتانی صاحب نے ایک دفعہ اِسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ایئرپورٹ تو بن رہا ہے لیکن یہاں آئے گا کون؟ اخبار میں ایک خبر تھی کہ وہاں کا اکلوتا فائیو سٹار ہوٹل پی سی بند ہو گیا ہے البتہ ایک اور خوش کن خبر بھی سامنے آئی ہے کہ جمخانہ کلب نے وہاں بھی کلب بنایا ہے جس میں 7 لاکھ روپے دے کر مستقل رکنیت حاصل کی جا سکتی ہے۔


چین نے اس منصوبے کے ذریعے پاکستان میں اس وقت اتنی بڑی انویسٹمنٹ کی ہے جب پاکستان میں اور کوئی ملک سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار نہیں تھا تو یہ بات بڑی خوش آئند ہے۔ چینی ہماری طرح نہیں بلکہ وہ جو کچھ طے کرتے ہیں اُس پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہیں بشرطیکہ ہماری طرف سے اِس بات کا ادراک ہو کہ یہ منصوبہ پاکستان کیلئے کتنا مفید ہو سکتا ہے۔ اِس کی تکمیل سے نہ صرف چین کے ساتھ ہمارے تعلقات اور مضبوط ہو جائیں گے بلکہ جنوبی ایشیا اور سینٹرل ایشیا کے درمیان ایک پل کا کام دے گا اور یوں باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ مل سکتا ہے اب جبکہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات بہتر ہو گئے ہیں، اِس قسم کے کئی مثبت اشارے مل رہے ہیں جو خوش آئند ہیں اگر آئندہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت بن گئی تو اِس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ خواب پورا ہو جائے گا اوریہ پراجیکٹ واقعی گیم چینجر ثابت ہو۔

مزید :

رائے -کالم -