سائنس اسلام کی تخلیق ہے

سائنس اسلام کی تخلیق ہے

  

 ڈاکٹر ارشد محمود صاحب کی کتاب پڑھنے کے بعد سائنس ،اسلام اور کائنات کے بارے میں لکھنے کی تحریک پیدا ہوئی، کیونکہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب میں ڈارون،لینن ، جولین ہکسلے اور ہیکل کی طرح اپنی مرضی سے ایک ارتقائی ترتیب دے کر کائنات کے خود بخود وجود میں آنے جیسے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اگر ڈارون، لینن، ہکسلے اور علم حیاتیات کے مشہور عالم ہیکل جیسے سکالرز اسلام کی حقانیت کو جاننے کے لئے بغض و تعصب کی عینک اپنی آنکھوں سے ہٹا کر اس کا مطالعہ کرتے تو کبھی یہ نہ کہتے کہ اسلام کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں ہے، حالانکہ تخلیق کا ادراک اور شعور بھی قرآن پاک کا اعجاز ہے۔ درحقیقت ایسا نہیں ہے ، انبیائے کرام کی زبان سے جس مذہب کا اظہار ہوا ہے، اس میں ماہر فلکیات ، طبیعات ، حیاتیات ، نفسیات ، تاریخ، تمدن ، سیاست ، عمرانی و معاشی نظام ،غرضکہ سارے ہی علوم کے حوالے ملتے ہیں۔ اس طرح کا ہمہ گیر کلام لاشعوری تو درکنار شعوری طور پر بھی اب تک کسی بھی انسان سے ظاہر نہیں ہوا جس میں غلط فیصلے، اندازے، غیر واقعی بیانات اور ناقص دلائل نہ پائے جاتے ہوں۔الحمدللہ مذہبی کلام حیرت انگیز طو ر پر کسی بھی اس قسم کی اغلاط سے پاک ومبرا ہے اور وہ اپنی دعوت ، اپنے استدلال اور اپنے فیصلوں میں تمام انسانی علوم سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنس نے کائنات کے بارے میں انسان کے مشاہدے کو وسعت دے کرفطری قوانین واضح کئے۔ کائنات کیسے جکڑی ہوئی ہے، کس طرح حرکت کررہی ہے، آسمان سے کیسے پانی برستا سمندر کی بھاپ اٹھنے سے لے کر بارش کے قطرے زمین پر گرنے کے عمل تک کے راز کھول دیئے، لیکن اس کے باوجود سائنس آج کے جدید دور میں بھی یہ بتانے سے قاصر ہے کہ فطرت کے قوانین کیسے وجود میں آئے، کس طرح اور کس فیصد شکل میں مسلسل طور پر زمین و آسمان میں قائم ہے؟ مغربی سازشوں نے ہمیشہ تحقیق کے نام پر اسلام کے بنیادی اصولوں ، بنیادی تعلیمات کو مسخ کر کے اسلام کو جزوی نقصان پہنچایا، لیکن دین اسلام کے باطن کو رائی کے دانے کے برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکا۔ درحقیقت مذہب کو اقرار خدا سے لے کر انکار خدا تک پہنچانے میں نام نہاد ارتقائی مطالعہ کا بہت عمل دخل ہے۔ کائنات کے ارتقائی عمل کی بدولت وجود میں آنے کے دعوے کرنے والوں نے مذہب سے منسوب رہنے والی چیزوں کو یکجا کرکے اپنی مرضی سے ارتقائی ترتیب دے کر ایسے تمام پہلوﺅں کو یکسر نظر انداز کر دیا، جن سے ان کی مزعومہ ارتقائی ترتیب مشتبہ ہو سکتی ہے، جیسا کہ انسانیات اور سماجیات کے ماہرین نے معالعہ اور تخلیق کے بعد یہ دریافت کیا کہ خدا کاتصور کئی خداﺅں سے شروع ہوا اور بتدریج ترقی کرتے کرتے ایک خداتک پہنچا ۔ ان کے ہاں خدا کے تصور نے ایک خدا کی شکل اختیار کرکے اپنے آپ کو تضاد میں مبتلا کرلیا۔ اس طرح جولین ہکسلے نے نعوذباللہ جو کلمات اسلام اور خداکے بارے میں کہے، وہ اپنی موت آپ مرچکے ہیں۔ جولین نے کہا کہ خدا کا تصور اپنی افادیت آپ کھو کر آخری دہانے پر پہنچ چکا ہے، اب وہ ترقی نہیں کرسکتا، مافوق الفطرت طاقتیں دراصل مذہب کا بوجھ اٹھانے کے لئے انسانی ذہن نے اختراع کی تھیں، پہلے جادو، ہوا، پھر روحانی تصرفات نے اس کی جگہ لی، پھر دیوتاﺅں کا عقیدہ ابھرا اور اس کے بعد ایک خدا کا تصور آیا۔ اس طرح ارتقائی مراحل سے گزر کر مذہب اپنی حد کو پہنچ کر ختم ہوچکا ہے۔ کسی وقت یہ خدا ہماری تہذیب کے ضروری مفروضے اور مفید تخیلات تھے، مگر اب جدید ترقی یافتہ سماج میںوہ اپنی ضرورت اور افادیت کھو چکے ہیں ۔ جولین کی سوچ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ علم حیاتیات کے مشہور عالم ہیکل نے اسلام کی نفی اور خدا ئی حاکمیت کے منبع کی حقیقت کو نظر انداز کرکے کہا تھا کہ کائنات ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے کائنات کی کسی نے تخلیق نہیں کی اور کہا کہ مجھے ہوا، پانی، کیمیائی اجزاءاور وقت دو تو میں انسان بنا دوں گا، لیکن ہیکل کو اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ اس اتفاق کو وجود میں لانے کے لئے مادی حالات کی موجودگی کو ضروری قرار دے کر وہ خود اپنے دعوے کی تردید کررہا ہے ۔ہیکل کے اس دعوے پر موریسن نے کیا خوب کہاتھا کہ ہیکل یہ کہتے ہوئے خود جین اور زندگی کے مسئلے کو بھول گیا ہے، اسے انسان کو وجود میں لانے کے لئے سب سے پہلے ناقابل مشاہدہ ایٹم فراہم کرنے ہوں گے، پھر ان کو مخصوص ڈھنگ سے ترتیب دے کر جین بنا کر اس کو زندگی دینا ہوگی، پھر بھی اس اتفاقی تخلیق کا امکان کروڑوں میں ایک ہوگا اور بالفرض وہ اس میں کامیاب ہوبھی جائے، تب بھی وہ اس کو اتفاق نہیں کہہ سکتا، بلکہ وہ اس کو اپنی ذہانت کا نتیجہ قرار دے گا۔ ہیکل کی نفی ایک اور امریکی طبیعات دان جارج ارل ڈیوس نے اس طرح کی کہ اگر تھوڑی دیر کے لئے ایسا فرض بھی کر لیا جائے کہ کائنات اپنے آپ کو خود پیدا کرسکتی ہے، اس کو کوئی وجود میں لانے والا نہیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ کائنات خود خداہے، لیکن وہ نرالا خدا ہوگا جو بیک وقت مافوق الفطرت بھی ہے اور مادی بھی ۔ اس طرح کے کسی مہمل تصور کو اپنانے کی بجائے ایک ایسے خدا کے عقیدے پر ترجیح دیتا ہوں، جس نے عالم مادی کی تخلیق کی اور وہ خود اس عالم کا جزو نہیں، بلکہ اس کا فرمانر وا اور ناظم و مدبر ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ سائنس اسلام ہی کی تخلیق ہے۔ یہاں پر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جنوری انیس سو چونسٹھ کے پہلے ہفتے میں مستشرقین کی بین الاقوامی کانفرنس دہلی میں ہوئی، جس میں ہندوستان اور دوسرے ملکوں کے بارہ ڈیلی گیٹ شریک ہوئے تھے۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اس موقع پر اپنی تقریر میں کہا کہ مَیں ایک سیاست دان ہوں اور مجھے سوچنے کے لئے وقت بہت کم ملتا ہے، پھر بھی مَیں بعض اوقات یہ سوچنے پر مجبورہوجاتا ہوں کہ آخر یہ دُنیا کیا ہے، کس طرح وجود میں آئی، کس لئے ہے ، ہم کیا ہیں اور ہم کیا کررہے ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ کچھ طاقتیں ہیں جو ہماری تقدیر بناتی ہیں۔ پنڈت نہرو کی اس سوچ نے اسلام اور خدائے واحدنیت مالک کائنات کے نفی کرنے والوں کو فکر کی دعوت دے کر ایک پیغام دیا کہ اس کائنات کا کوئی مالک ضرور ہے ۔ 14سو سال قبل دنیا کے سامنے اس کی مثال موجود ہے۔ سورہ¿ بقرہ آیت نمبر23 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اور قرآن پاک میں بار بار فرمایا کہ جو لوگ قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کے بارے میں مشتبہ ہیں اور اس کو محض ایک انسان کی تصنیف سمجھتے ہیں تو وہ ایسی کتاب بنا کر دکھا دیں، بلکہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر دکھا دیں۔ قرآن پاک کے اس چیلنج کو آج تک کسی نے قبول نہیں کیا ڈیڑھ ہزا ر سال تک کسی انسان کا اس پر قادر نہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن ایک غیر انسانی کلام ہے۔ یہ خدائی منبع سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں۔ اسلام کا سائنس سے گہرا تعلق ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہی کافی ہے کہ مَیں جب چاہوں زمین و آسمان کو پٹخ کر رکھ دو ں ۔یہی وجہ ہے کہ انسان نے غوطہ زن ہوکر بے شمار انمول موتی دریافت کئے ہیں، جن تک اس سے قبل انسانی تحقیق کی رسائی نہ تھی۔ ٭

مزید :

کالم -