فلسطینیوں کی 1200ایکڑ اراضی غصب کرنے کی منصوبہ بندی

فلسطینیوں کی 1200ایکڑ اراضی غصب کرنے کی منصوبہ بندی

  

 غزہ (این این آئی) اسرائیل کی قابض حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر سلفیت میں فلسطینیوں کی ملکیتی 1200ایکڑ اراضی غصب کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی ۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے سامنے آنے والے ایک اعلان میں بتایا گیاکہ حکومت سلفیت کے نواحی قصبے دیر استیا کی اراضی کو قریب واقع وادی قانا میں قائم ایک یہودی کالونی کی توسیع کےلئے قبضے میں لینا چاہتی ہے جس کےلئے ابتدائی کام مکمل کرلیا گیا مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقامی فلسطینی شہریوں نے اسرائیل کی جانب سے اراضی ہتھیانے کے اعلان کے بعد سخت تشویش اور خوف کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اراضی کسی ایک فلسطینی خاندان کی نہیں بلکہ کئی کنبوں کی مشترکہ بتائی جا رہی ہے اور ان سب نے اسرائیلی سپریم کورٹ سے رجوع کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ایک دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت وادی قاناں میں قائم کردہ یہودی کالونی یاکیر کی توسیع کےلئے اس اراضی کوغصب کرنا چاہتی ہے کیونکہ حکومت اس کالونی میں یہودی آباد کاروں کےلئے مزید مکانات اور کارخانے تعمیر کرنا چاہتی ہے جس کےلئے استیا قصبے کی اراضی پر نظر رکھی گئی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی ماہ سے اسرائیلی حکام اس علاقے میں مشکوک سرگرمیوں اور اراضی کی تصوریں لینے میں مصروف رہے ہیں۔ اب یہ عقدہ کھلا ہے کہ یہ مشکوک سرگرمیاں اراضی پر قبضے کی ایک سازش تھی جس کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ مقامی باشندوں نے بتایا کہ استیا قصبے کی اراضی زراعی اعتبار سے سونا اگلنے والی زمین ہے جہاں بڑی مقدار میں زیتون کے باغات اور پانی کے چشمے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -