امریکہ کی اقوام ِمتحدہ کو شام کے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے میں مدد کی پیشکش

امریکہ کی اقوام ِمتحدہ کو شام کے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے میں مدد کی پیشکش

واشنگٹن (این این آئی) امریکہ نے اقوام ِمتحدہ کو شام میں کیمیاوی ہتھیار تلف کرنے کےلئے مدد فراہم کرنے کی پیش کش کی ۔ کیمیاوی ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق تنظیم دی آرگنائزیشن فار دی پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو) کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ امریکی حکومت شام کے کیمیاوی ہتھیار تلف کرنے کےلئے اپنی ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور کیمیاوی ہتھیار تلف کرنے کے آپریشن میں حصہ لینے کےلئے تیار ہے۔شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کی تلفی کی نگرانی کی ذمہ داری کیمیاوی ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق تنظیم او پی سی ڈبلیو پر ہے۔ یہ معاہدہ شامی حکومت کی جانب سے رواں برس اگست میں دمشق میں ایک حملے میں سیرین گیس استعمال کرنے کے بعد طے پایا جس میں تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ادھر ہیگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے او پی سی ڈبلیو کی سربراہ سگرد کاغ نے کہا ہے کہ امریکہ کا ایک بحری جہاز اس مقصد کے لیے تیار کیا جا رہا ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کو ہائیڈرالسیس کے عمل کے ذریعے تلف کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو پہلے سے طے شدہ ڈیل کے تحت 31 دسمبر تک بیرون ملک منتقل کیا جائے گا اور اس کے بعد امریکی بحری جہاز کے ذریعے تلف کیا جائےگا۔ امریکہ اور بین الاقوامی برادری نے اس حملے کی ذمہ داری صدر بشار الاسد کی حکومت پر عائد کی تھی جبکہ اسد حکومت کا دعویٰ تھا کہ یہ حملہ باغیوں نے کیا تاہم حملے کے بعد شام کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی روکنے کےلئے روس اور امریکہ کی تیار کردہ ایک قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے منظور کی تھی جس کے تحت شام کو اپنے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے ہیں۔

مزید : عالمی منظر