دوہفتوں میں ٹماٹر‘ آلواورپیاز کی قیمتیں مزید کم ہوجائیں گی

دوہفتوں میں ٹماٹر‘ آلواورپیاز کی قیمتیں مزید کم ہوجائیں گی

  

لاہور(اے پی پی)زرعی ماہرےن نے کہا ہے کہ دسمبر کے وسط تک مارکےٹ مےں آلو کی قےمتےں 25سے 30روپے، پےاز کی قےمتےں 35سے 40روپے جبکہ ٹماٹر کی قےمتےں 50سے60 روپے تک آ جائےں گی اور ےہ چےزےں مارکےٹ مےں وافر مقدار مےں دستےاب ہوں گی۔ محکمہ زراعت پنجاب کے شعبہ مارکےٹنگ کے مطابق پنجاب جو ملک مےں آلو کی کل پےداوار کا 95فےصد حصہ فراہم کرتا ہے،ےہاں آلو کی نئی فصل آنا شروع ہو گئی ہے جس مےں درجہ اول اور درجہ دوئم کا آلو شامل ہے،درجہ اول کا آلو سرگودھا اور خوشاب سے آنا شروع ہو گےا ہے جبکہ قصور، سےالکوٹ ، اوکاڑہ،شےخوپورہ اور لاہور کے قرب و جوار مانگا منڈی،برکی،ہڈےارہ اور داروغہ والہ سے چھوٹے آلو کی پےداوار آ رہی ہے اوراگلے چند دنوں مےں آلو کا سائز بہتر ہو جائے گا اور دسمبر کے وسط تک آلو کی پےداوار مارکےٹ مےں وافر مقدار اور قےمت 25 روپے سے 30روپے فی کلو تک آ جائے گی۔شعبہ مارکےٹنگ کے مطابق پاکستان مےں پےاز کی فصل کی کل پےداوار کا 37 فےصد سندھ پےدا کرتاہے جبکہ سند ھ کی فصل کا دورانےہ نومبر سے اپرےل ہے لہذا سندھ سے پےاز کی پےداوار آنا شروع ہو گئی ہے،ضلع راجن پور کی تحصےل روجھان سے بھی پےاز کی سپلائی آ رہی ہے لےکن سندھ کے کاشتکار کی پہلی ترجےح کراچی کی ماکےٹوں کو پےاز کی سپلائی ےقےنی بنانا ہے کےونکہ انہےں پنجاب کی نسبت کراچی مےں ٹرانسپوٹےشن مےں آسانی ہوتی ہے تاہم کچھ حصہ پنجاب مےں بھی آنا شروع ہو گےا ہے جس سے مارکےٹ مےں دسمبر کے وسط تک پےاز کی قےمت 35 روپے سے 40روپے فی کلو تک آ جائے گی اور مارکےٹ مےں پےاز وافر مقدار مےں مےسر آ سکے گا۔انہوں نے مزےد بتاےا کہ پاکستان مےں ٹماٹر کی کل پےداوار کا25فےصد سندھ سے حاصل ہوتا ہے، بلوچستان مےں قلعہ سےف اللہ سے ٹماٹر کی کچھ مقدار آ رہی ہے جہاں ٹماٹر کی فصل ستمبر سے نومبر تک ہوتی ہے جبکہ ٹماٹر کی فصل سندھ سے آنا شروع ہو گئی ہے جس سے کراچی کی مارکےٹ مےں ٹماٹر کی قےمتوں مےں حےرت انگےز کمی واقع ہوئی ہے،ٹماٹر کی سپلائی پنجاب مےں بھی آنا شروع ہوگئی ہے اور دسمبر کے وسط تک مارکےٹ مےں ٹماٹر کی وافر مقدار مےسر آنے کے ساتھ ساتھ اس کی قےمتےں بھی معمول پر آ جائےں گی۔ زرعی ماہرےن نے ملک مےں گندم کی کاشت اور پےداوار بڑھانے کےلئے حکومت پر زور دےا ہے کہ وہ نئی سپورٹ پرائس کا اعلان کرے۔

 تاکہ ملک مےں گندم کے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی ہو سکے اور فارمر ز گندم کی کاشت مےں زےادہ سے زےادہ دلچسپی لےں ۔

مزید :

کامرس -