موجودہ حکومت کے دور میں ڈالر کی قدر میں دس فیصد کا اضافہ ہوا

موجودہ حکومت کے دور میں ڈالر کی قدر میں دس فیصد کا اضافہ ہوا

کراچی(اے پی اے)سٹیٹ بنک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک ڈالر کی قدر میں دس فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بارہ سال کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔ڈالر کی پراوز روکنے کو نہیں، روپے کی بے قدری بڑھتی جارہی ہے، پانچ ماہ میں ڈالر کی قدر میں 10فیصد کا اضافہ ہو کر ڈالر 100روپے سے بڑھ کر 110روپے کا ہوگیا۔ ملکی ماہانہ درآمدی بل جو ساڑھے تین ارب ڈالر ہے جس میں بیٹھے بیٹھائے ڈالر کی قدر بڑھنے سے 10فیصد کا اضافہ ہوگیا۔ غیر ملکی قرضے جو 60ارب ڈالر ہیں ان میں بھی 10فیصد کا اضافہ ہوگیا اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 12سال کی کم ترین سطح 3ارب 46کروڑ ڈالر پر آگئے، جن میں مستقبل قریب میں اضافے کا خاطر خواہ امکان نہیں۔دوسری جانب ایکس چینج کمپنیز کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ میں ڈالر کیی قدر میں اضافے کی وجہ کمرشل بینکوں کی جانب سے ڈالر کی فراہمی کو روکنا تھا۔ تاہم اسٹیٹ بینک کی ہدایت ہر کمرشل بینکوں نے ڈالر کی فراہمی شروع کردی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ غیر ملکی زرمبادلہ کے زخائر میں تیزی سے کمی ہے اور جس میں اضافے کی بڑی وجہ آئی ایم ایف کو قرضے کی قسط کی ادائیگیاں ہیں، تاہم حکومت کے کچھ اقدامات سے ڈالر کی بڑھتی قدر کو بریک لگ سکتی ہے۔ماہرین کا ملکی معاشی مینجرز کو روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے میں مشکلات کا سامنا رہے گا۔

مزید : کامرس