خیبر پختونخوا میں غیر ملکی اداروں کے براہ راست منصوبو ں پر پابندی عائد

خیبر پختونخوا میں غیر ملکی اداروں کے براہ راست منصوبو ں پر پابندی عائد

  

 پشاور (اظہر علی شاہ سے ) صوبائی حکومت نے غیر ملکی مالیاتی اداروں کی طرف سے صوبہ خیبر پختونخوا میں براہ راست منصوبے شروع کرنے اور غیر ملکی فنڈزکے ذریعے سرکاری افسران کے بیرونی ممالک دوروں اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں سیمینارز ورکشاپس کے انعقاد پر پابندی عائد کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اب ڈونر ایجنسیاں اپنی شرائط پر نہیں بلکہ حکومت خیبر پختونخوا کی شرائط پر منصوبوں پر کام کرسکیں گی غیر ملکی مالیاتی ادارئے اوراین جی اوز وغیرہ اپنے ترقیاتی پراجیکٹس وغیرہ صوبائی حکومت کے سامنے پیش کرئینگے اور حکومت کی طرف سے ماہرین کی کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ مذکورہ منصوبے عوام کیلئے کس قدر مفید ثابت ہوسکتے ہیں جس کے بعد وزیر اعلیٰ ان منصوبوں کی باقاعدہ منظوری دینگے جبکہ بیوروکریسی ان منصوبوں کی تکمیل کی نگرانی کرے گی اس سے قبل مختلف این جی اوزاورمالیاتی ادارئے صوبائی حکومت کو نظر انداز کرکے براہ راست سرکاری محکموں کے ساتھ رابطہ کرتے تھے جس میں سیاسی رشوت کے طور پر ملازمتیں دی جاتی تھیں جنکے لئے پرکشش تنخواہوں کا تعین کیا جاتا تھا جبکہ متعلقہ سیکرٹری اور دیگر افسران کو سیمینار اورتربیت کے بہانے بیرونی ممالک کے دورئے کرائے جاتے تھے جس کیلئے سیکرٹری کے دورئے کی منظوری وزیر اعلیٰ اور ماتحت افسران کے دوروں کی منظوری چیف سیکرٹری سے لی جاتی تھی مگر اب وزیر اعلیٰ نے تمام افسران کے دوروں کی منظوری کا اختیار اپنے پاس رکھ لیا ہے اور شرائط عائد کردی کہ بیرون ممالک تربیتی ورکشاپس اور سیمینار پر صرف متعلقہ شعبے کے افسران جاسکیں گے مگر وہ دورئے پرجانے سے قبل یہ ثابت کرئینگے کہ مذکورہ تربیتی ورکشاپ ان کے محکمے اور عوام کیلئے کس قدر فائدہ مند ہے دورے سے واپسی پر مذکورہ آفیسر کی کارکردگی بھی مانیٹر کی جائے گی وزیر اعلیٰ نے ان تمام معاملات کو مانیٹر کرنے کیلئے ون ونڈو ڈونر کو آرڈنیشن سیل قائم کرکے اسے زیادہ سے زیادہ اختیارات سونپے گئے ہیں اس سیل کے سربراہ وزیر اعلیٰ خود ہونگے جبکہ سپیکر صوبائی اسمبلی اس کے پیٹرن ہونگے

پابند عائد

مزید :

صفحہ اول -