تم کون سے مسلمان ہو؟

تم کون سے مسلمان ہو؟
تم کون سے مسلمان ہو؟

  

یہ سوال ایک غیر مسلم کا ہے، اس میں سوال کرنے والے غیر مسلم پر غصہ نکالنے یا اس کو بُرا بھلا کہنے سے پہلے ہم کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے، لمبی چوڑی تقریریں کرنے سے، بڑے بڑے بیان جاری کرنے سے اس غیر مسلم کے سوال کا جواب قطعی طور پر نہیں مل سکتا، مسلمانوں نے اگر اپنے اندر صبر و تحمل، برد باری اور برداشت کی قوت پیدا کی ہوتی تو یہ سوال ہر گز کوئی بھی نہیں کر سکتا ۔یہ ٹھیک ہے، تمام دوسرے مذاہب میں بھی مختلف قسم کے فرقے اور عبادات کے طریقے مختلف ہوں گے، لیکن جس طریقے سے پاکستان کے اندر مختلف فرقوں کے علمائے کرام نے اپنے اپنے فرقوں کے لوگوں کو اپنی تقریروں اور تحریروں سے اُن کے جذبات کو ہوا دی ہے، ملک کے امن وامان کو تہس نہیں کر دیا ہے، اس معاملے پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے، چونکہ مسلمانوں کی تاریخ کا المیہ رہا ہے کہ ہر دور میں مختلف سازشیں پروان چڑھتی رہیں۔ مفاد پرستوں، اسلام دشمن قوتوں نے ہمیشہ امت کی وحدت و اتحاد میں تفرقہ ڈالنے کے لئے مختلف حربوں سے کام لیا، لیکن سب سے کامیاب حربہ مذہبی منافرت رہا ہے، جس پر ہر دور میں عمل کر کے مسلمانوں کے اتحاد اور اسلام کے جذبہ ¿ اخوت کو نقصان پہنچایا گیا۔

بدقسمتی سے ہماری ملکی تاریخ میں بھی یہی حربہ استعمال کر کے فرقہ وارانہ منافرت کو دہشت گردی کی انتہا پر پہنچا دیا گیا، جس کی مثال ملک کے اندر بہت سے واقعات ہیں، جس کی تازہ مثال راولپنڈی کا سانحہ ہے، جس میں دینی مدرسے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں بے گناہ اور معصوم طلباءو نمازیوں کو بھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ کاروباری لوگوں کی دکانوں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا، مسجد کو بھی آگ لگا دی گئی۔ راولپنڈی کے حالات و واقعات کو دیکھ اور سُن کر ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید ہم پر دوبارہ جاہلیت کا دور مسلط کر دیا گیا ہے۔ محرم الحرام جیسے حرمت والے مہینے میں جب نواسہ ¿ رسول حضرت امام حسینؓ کو شہید کر دیا گیا اور اُن کے خاندان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، اس مہینے میں سب مسلمانوں کو مل کر عبادت کے ذریعے اپنی عبادات میں شہدائے کربلا کے درجات کو بلند کرنے کے لئے دُعائیں مانگنے کی ضرورت ہے، اس مہینے میں مساجد و مدارس و قرآن و احادیث کی بے حرمتی کا یہ المناک سانحہ ایسا نہیں کہ اسے محض دو گروہوں کا تصادم قرار دہشت گردوں کو نظر انداز دیا جائے۔

جیسا کہ اس سے پہلے بھی کئی واقعات کو سرد خانے میں ڈال دیا جاتا ہے، یہ اِسی کوتاہی اور حکومتی اداروں کی نااہلی کا ثبوت ہے، جو اس قسم کے سانحات پر خاموشی اختیار کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ اگر پہلے والے کسی واقعہ پر ملزموں کو سزا دی جاتی تو پھر امید کی جا سکتی تھی کہ راولپنڈی کا سانحہ رونما نہ ہوتا۔ دہشت گردوں کو روکنے کے لئے فوج بھی طلب کی گئی، موبائل سروس اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی رہی، لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو گیا۔ عینی شاہدین اور اخباری اطلاعات کے مطابق وہاں کی مقامی انتظامیہ نے جلوس و مسجد میں خطبہ جمعہ کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کو روکنے پر لاپرواہی کا مظاہرہ کیا، حالانکہ کئی سال سے اس سڑک پر جلوس گزر رہا تھا، لیکن مقامی انتظامیہ نے کسی بھی فرقے کو اعتماد میں لینے کی زحمت گوارہ نہیں کی، جس کی وجہ سے اتنا بڑا سانحہ ہو گیا۔

 بتایا جاتا ہے کہ خفیہ اداروں نے مقامی انتظامیہ اور حکام کو اس طرح کے حالات ہونے کی اطلاعات دی تھیں،اس میں انتظامیہ کی اندرونی سازش بھی ہو سکتی ہے۔ حکومت نے اس پر کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا ہے، اس میں مقامی انتظامیہ کی غفلت یا سازش پر مبنی کردار کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں کہ آخر مقامی انتظامیہ نے کیوں مسجد میں خطبے کے وقت جلوس کے لئے خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے، جس کی وجہ سے شرپسندوں کو موقع مل گیا۔ آج ملک جس نازک صورت حال سے گزر رہا ہے، اس میں سرفہرست طالبان سے مذاکرات، نیٹو سپلائی کی بندش ڈرون حملوں سے متعلق جو قومی جذبات ہیں، ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پہلے ملک کو اندرونی سازشوں سے پاک کیا جائے اور بیرونی سازشوں کے لئے ملک میں موجود آلہ کاروں کے خلاف سخت سے سخت آپریشن کیا جائے، اس میں کسی مصلحت سے کام نہ لیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ تمام فرقوں کے مذہبی تنظیموں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

مَیں سیاسی لیڈروں کی خدمت میں گزارش کر چکا ہوں کہ اپنے ملک کی سلامتی اور مضبوطی کو مقدم سمجھیں، اگر پاکستان مضبوط ہے، ملک سلامت ہے، تو اس میں سیاست دان سیاست کریں گے۔ اگر خدانخواستہ ملک کی وحدت یا سلامتی کو نقصان پہنچا تو سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے گا۔

پاکستان بہت عظیم اور سخت جان ملک ہے کہ اس کو کھانے و الے بہت زیادہ، جبکہ اس کا خیال ر کھنے والے بہت کم، اس کو اجاڑنے والے بے شمار، لیکن سنبھالنے والے گنتی کے لوگ، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کی دھرتی پر موجود اولیائے کرام ،بزرگان دین، نیک بندوں اور بہادر سپوتوں کی وجہ سے ابھی تک قائم و دائم ہے۔ پاکستان کو قائم رکھنے میں لاکھوں شہیدوں کی قربانی کا بڑا حصہ ہے۔ اگر سیاست دانوں کی وجہ سے ملک کو نقصان ہوا تو تاریخ سیاست دانوں کو معاف نہیں کرے گی۔ اگر علمائے کرام اپنے محراب و منبر سے آواز بلند کر کے ملک سے مذہبی منافرت اور دہشت گردی کا خاتمہ نہ کر سکے، تو پاکستان میں بسنے والے تمام مسالک کے مسلمانوں کے درمیان محبت و یگانگت کا رشتہ قائم کرنے میں اگر خدانخواستہ ناکام ہو جاتے ہیں، تو پھر اگر ملک کو کوئی نقصان ہو گا، تو پھر تاریخ ملک میں رہنے والے علماءاور مذہبی لوگوں کو معاف نہیں کرے گی۔

محراب و منبر سے اچھی آوازیں نکالنے کی سخت ضرورت ہے اور اشتعال انگیز منافرت پھیلانے والوں کو اپنی صفوں سے نکالنا ہو گا۔ تمام علمائے کرام کی ذمہ داریاں ہیں کہ وہ دشمن کا آلہ ¿ کار بننے والے جوشیلے ورکروں کو اشتعال میں آنے سے باز رکھیں۔ اب تک پاکستان ساری دنیا میں مذہب کے نام پر بہت بدنام ہو چکا ہے۔ اس میں خود غرض، مفاد پرست اور پاکستان کے دشمنوں کے آلہ ¿ کار بننے والے لوگوں کا بہت حصہ ہے، اب ملک کو بدنام کرنے والے عناصر کو اپنی صفوں سے نکالنا ضروری ہے۔ پاکستان معاشی طور پر بھی بہت کمزور ہو چکا ہے۔ اگر پاکستان اب قائم ہے، مضبوط ہے، تو صرف اور صرف ایک کلمہ ایک اللہ کے نام پر۔ اِسی وجہ سے مذہب کا نام لے کر مختلف سازشیں کر کے پاکستان کو کمزور کیا جا رہا ہے۔    ٭

مزید :

کالم -