محمد رفیع بٹ کی یاد میں

محمد رفیع بٹ کی یاد میں
محمد رفیع بٹ کی یاد میں

  

رفیع بٹ 1909ءکو لاہور میں حصار شہر کے قریب ایک گنجان آباد علاقے نیون کاترہ نزد اکبری منڈی میں پیدا ہوئے ۔ والد کی جلد وفات کے باعث انہیںمحض سولہ سال کی عمر میں ہی گھریلو ذمہ داریوں کا کٹھن بار اٹھانا پڑا۔اپنے سلیقے اور کاروباری گتھیوں کو مہارت سے سلجھانے کی صلاحیتوں کی بنا پر جلد ہی انہوں نے اپنے آبائی کاروبار کو ایک بڑی کاروباری سلطنت میں بدل دیا۔ایک ایسے معاشرے میں جہاں غیر تقسیم شدہ ہندوستان کی کاروباری دنیا میں ہندوو¿ں کی اجارہ داری ہو، یقینا یہ ایک مثالی کامیابی تھی۔ انہوں نے برمنگھم میں واقع کیننگ کروم اور کیمیکل فیکٹری (Canning's Chrome and Chemical Factory)میں سٹیل انڈسٹری کی ایڈوانس تربیت حاصل کی اور واپس آکر فیروز پور روڈ پر جدید خطوط پر ایک فیکٹری قائم کی ۔ یہ وہی فیکٹری ہے، جس کا قائد اعظمؒ نے 1942 ءمیں دورہ بھی کیا تھا ۔اس کے بعد رفیع نے بینکنگ سیکٹر میں قدم جمانا شروع کئے اور 1936 ءمیں لاہور میںسینٹرل ایکسچینج بینک کی بنیاد رکھی جو شمالی ہندوستان میں پہلا مسلم بینک تھا۔

1930ء کے عشرے کے آخری سالوں میں محمد رفیع بٹ کا قائداعظم ؒ سے رابطہ شروع ہوا اور قائد کی کرشماتی شخصیت، ان کے عزم مصمم اور مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کے لئے ان کی انتھک لگن نے محمد رفیع بٹ کی ذات پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ اس دن سے لے کر اپنی زندگی کے آخری دن تک جناب رفیع قائداعظم ؒ کے ہمیشہ پُرجوش حامی اور مسلم لیگ کے سرگرم اور مخلص کارکن رہے۔ قائداعظم ؒ سے ان کی خط و کتابت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس عظیم شخصیت سے کتنے متاثر تھے ۔ رفیع ایک روشن تصورات کے مالک انسان تھے ۔ انہوں نے قائداعظم ؒ کو متعدد بار کئی اہم مسائل پر بروقت اور مفید مشوروں سے نوازا ۔ مثال کے طور پر انہوں نے مسلم لیگ کی پالیسیوں کی ترویج و اشاعت کے لئے قائداعظم ؒ کو لاہور میں ایک بہترین روزنامہ اخبار شائع کرنے کی تجویز دی، کانگریس کے پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کے لئے نیویارک میں ایک پبلسٹی سیل کے قیام کا مشورہ دیا، پلاننگ کمیٹی کے لئے کئی نامور ماہرین معیشت کے ناموں سے روشناس کرایا،تاکہ ملک کی اقتصادی ترجیحات کو امریکن خطوط پر استوار کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک انڈسٹریل اور کمرشل فنانس کارپوریشن کے قیام کی بھی تجویز دی۔

رفیع بٹ اپنے تمام سیاسی فیصلوں میںقائداعظم ؒ کی مشاورت لیتے تھے۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ قائداعظم ؒ ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو کانگریس اور ہندوﺅں کے پنجہ استبداد سے مسلمانوں کو نجات دلا سکتے تھے۔ جناب رفیع بٹ اس بات پر کامل یقین رکھتے تھے کہ صنعتی پیش رفت کے بغیر پاکستان جیسی نوزائیدہ مملکت کی ترقی کی بنیادنہیں رکھی جا سکتی ۔پاکستان کی اقتصادی ترقی ہمیشہ ان کی سوچ بچار کا محور رہی ۔جناب رفیع ہمیشہ اس بات کے لئے کوشاں رہے کہ مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہوں اور اپنی صنعت کو فروغ دیتے ہوئے اسے بیرونی ممالک کے معیار تک پہنچائیں۔مسلمان اقتصادی دوڑ میں بہت پیچھے تھے اور ان کے ہاں حقیقی سائنسدانوں کی تو افسوسناک حد تک کمی تھی۔ ایک دور اندیش صنعت کار کی حیثیت سے وہ برطانوی استعمار کی نفسیات اور مسلمانوں سے ان کے گہرے تعصب کوخوب سمجھتے تھے ۔ ان کی تقریروں اور بیانات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کتنے پُرجوش انداز میں مسلمانوں کی تعمیر و ترقی کے لئے ہمیشہ پُرعزم رہے اور پاکستان کی معاشی اور صنعتی بنیادوں کو استوار کرنے کے لئے انہوں نے ٹھوس تجاویز دیں۔

وہ بڑے پُر زور انداز میں کہا کرتے تھے کہ ”پاکستان کی منزل کے حصول کے بعدہمیں اپنی بیشتر توانائیاں سیاسی طاقت کے حصول میں ضائع کرنے کی بجائے معاشی مسائل کو حل کرنے میں خرچ کرنی چاہئیں اور یہ کہ ہمیں امریکیوں کے بہتر زندگی کے لئے زیادہ لوگوں کے لئے زیادہ پیداوار کے عملی اصول پر عمل کرنا چاہئے، یہی ایک اصول ہے جس پر چلتے ہوئے ہم ایک عام آدمی کی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں“.... امریکہ کے چھ ماہ کے مطالعاتی دورے سے واپسی پر انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "مسلمانان ہند کو اپنے ملک کی اقتصادی تعمیر نو کے لئے اپنے آپ کو تیار کر لینا چاہئے۔ اگر اب بھی وہ نہیں جاگے توانہیں منزل تک لے جانے والی گاڑی انہیں پیچھے چھوڑ جائے گی، انہیں چاہئے کہ اپنے اقتصادی وسائل کو متحرک کریں اور اگر انہیں واقعی اپنی ٹھوس اقتصادی بنیادوں کو استوار کرنا ہے تو جدید زمانے کا مقابلہ کرنے اور نئے دور میں داخل ہونے کے لئے اپنے ہاں کاروباری انجمنوں اور اقتصادی رابطہ کونسل قائم کرنا ہوں گی“....

پنجاب سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان پر قائداعظم ؒ کو گہرا اعتماد تھا ۔ انہوں نے رفیع بٹ کو مسلم لیگ پلاننگ کمیٹی کا ممبر بنایا اور مائننگ اور میٹالرجی (Mining and Metallurgy) کی سب کمیٹی کے چیئرمین کی اضافی ذمہ داریاں بھی سونپیں۔ رفیع بٹ غالباً وہ پہلے دوراندیش منصوبہ ساز تھے، جنہوں نے اس ملک کی مستقبل میں تیز رفتار معاشی ترقی کو دھات سازی (Metals) سے منسلک کیا۔رفیع صاحب ہمیشہ بامقصد مطالعاتی دورے کیا کرتے تھے۔ 1945-46ءکے دوران انہوں نے امریکہ کے صنعتی ڈھانچے (industrial structure) کو سمجھنے کے لئے ایک مطالعاتی دورہ کیا۔ 1946ءمیں ہندوستان کے ایک صنعتی وفد کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے جرمنی کا دورہ کیا....اس وفد میں ان کی شمولیت سے اس وقت صنعت کے میدان میں ان کے قد کاٹھ کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ 1948ءمیں انہوں نے سان فرانسسکو میں آئی ایل او سیشن (ILO Session)میں شرکت کی۔ انہوں نے ذاتی حیثیت سے پاکستان کو سٹیل پہنچانے کے لئے برطانوی بورڈ آف ٹریڈ....UK Board of Trade....سے بھی رابطہ کیا،جس کی پاکستان میں اس وقت اشد ضرورت تھی۔

رفیع بٹ کی زندگی بہت تھوڑی تھی ۔ وہ 1948ءمیں ایک فضائی حادثے کے نتیجے میں خدا کو پیارے ہو گئے، جبکہ اس وقت تک انہوں نے زندگی کی محض 39 بہاریں ہی دیکھی تھیں۔ایک ممتاز سماجی شخصیت ہونے کے ناتے رفیع بٹ کی دوستیاں نسلی اور ثقافتی سرحدوں سے بالا تر ہوتی تھیں۔ ان کے دوست مختلف معاشرتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے تھے اور وہ سب میں ہر دل عزیز تھے۔ رفیع بٹ اپنی منصوبہ بندی میں مہارت کے اعتبار سے سونا تھے۔ اور اپنی گرمجوش طبیعت اور احترام آدمیت کے اعتبار سے بھی سونا تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بے شک وہ اپنی مسلسل وفاداری واخلاص اور بے غرض خدمت کے جذبے کے اعتبار سے بھی سونا تھے۔ محمد رفیع بٹ کی کہانی آج کے نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہونی چاہیے۔ ٭

مزید :

کالم -