تعلیم کی سوداگری

تعلیم کی سوداگری
تعلیم کی سوداگری

  

تعلیم کا شمار اُن سہولیات میں ہوتا ہے جو ہر شہری کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں اور ریاست شہریوں کے حقوق کی ذمہ دار ہوتی ہے، میرے خیال میں یہ اصول ہم پر زیادہ لاگو ہوتا ہے کہ پاکستان نظریہ اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا اور اسلام میں حصولِ تعلیم پر جس قدر زور دیا گیا ہے ،اتنا کسی اور مذہب میں نہیں دیا گیا، جبکہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی جانب سے نومبر 1947ءکو بلائی جانے والی ایجوکیشن کانفرنس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی تعلیم کے ذریعے ہی مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے۔ اُن کے بعد میں آنے والی تمام حکومتوں نے تعلیمی پالیسیوں کا اعلان کیا ،جن میں سے بعض تو بہت اچھی تھیں ،لیکن ان پر خاطر خواہ عمل درآمد نہیں ہوپایا۔ یہ بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ بالخصوص پچھلی ایک دہائی کے دوران تمام شہریوں کی تعلیم تک رسائی پاکستانی حکومتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی اور بجائے اِس کے کہ تعلیم کے لئے بجٹ میں اضافہ کرکے غریب طبقے کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جاتا، اس مد میں مختص کئے جانے والے فنڈز بتدریج کم کئے گئے حالانکہ یونیسف سفارش کرچکا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو اپنے جی ڈی پی کا کم از کم چار فیصد حصہ تعلیمی شعبے پر خرچ کرنا چاہیے۔

 اس کا ہمیں دوہرا نقصان ہورہا ہے، ایک تو یہ کہ سرکاری سطح پر تعلیمی معیار ہر گزرتے دن کے ساتھ گھٹتا جارہا ہے۔ بالخصوص دیہی علاقوں میں بہت سے سکول ایسے ہیں جہاں گاﺅں کے اُس چودھری کی بھینسیں، گھوڑے اور گدھے بندھے ہیں جو تعلیم کے اس لئے خلاف ہے کہ اگر گاﺅں کے بچے پڑھ لکھ گئے تو پھر اُس کے غلاموں کی تعداد میں کمی ہوجائے گی، جبکہ اکثر دیہی علاقوں میں بچے درختوں تلے اور ایک جگہ تو قبرستان میں بھی بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے پائے گئے ہیں ۔تعلیمی شعبے میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی کی بدولت ماضی میں درجنوں نہیں، بلکہ سینکڑوں ایسے سکولوں کا خاتمہ جاچکا ہے جو تھے تو صرف کاغذات میں مگر کرپٹ سرکاری اہلکار ان گھوسٹ سکولوں کے عملے کی تنخواہوں کے نام پر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہاتھا۔ جو سرکاری سکول موجود ہیں وہاں نہ تو تعلیم کا معیار تسلی بخش ہے اور نہ ہی طلباءو طالبات کے لئے بنیادی سہولیات بھی نظر آتی ہیں۔ آپ کسی بھی سرکاری سکول چلے جائیں وہاں آپ کو پینے کے صاف پانی اور بیت الخلاءجیسی سہولیات کا خاصا فقدان نظر آئے گا، جبکہ کم از کم ساٹھ فیصد اساتذہ کا رویہ ویسا ہی ہے جیسا کہ عموماً سرکاری ملازمین کا ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں طالب علموں کی تقریباً دوتہائی تعداد پرائمری کی سطح تک پہنچ کر تعلیم چھوڑ دیتی ہے، جبکہ صرف ایک تہائی طالبعلم تعلیم جاری رکھتے ہیں۔

 اس وقت ایسے طالب علموں کی تعداد 15ملین ہے جو آئندہ پندرہ سال میں بڑھ کر22.7ملین تک پہنچ جائے گی۔ پچھلی ایک دہائی کے دوران برسرِاقتدار آنے والی حکومتوں اور افسرِشاہی کی وجہ سے اس وقت تقریباً6.8بچے سکولوں سے محروم ہیں، جبکہ اُستاد اور طالب علموں کا اوسط 1:40ہے یعنی 40طالبعلموں کے لیے صرف ایک اُستاد موجودہے۔ ۔ سری لنکا میں یہ اوسط 1:24ہے ،جس کی وجہ سے وہاں شرح خواندگی 99%تک پہنچ گئی ہے ۔پاکستان میں اُساتذہ سے محروم6.9ملین طالب علموں کے لئے اُساتذہ کی 170,000آسامیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے، لیکن نجانے یہ کرے گا کون؟ تعلیمی شعبے میں حکومت و بیوروکریسی کی عدم دلچسپی کا دوسرا نقصان یہ ہوا ہے کہ تعلیمی شعبے پر اُن لوگوں کی اجارہ داری ہوگئی ہے جو اسے پیغمبری پیشہ نہیں سمجھتے، بلکہ انتہائی منافع بخش تجارت بنا بیٹھے ہیں اور نجی سکولوں و کالجوں میں انتہائی بھاری فیسیں وصول کرکے دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹ رہے ہیں اور دوسرا نقصان یہ کہ اکثر غریب لوگ شدید خواہش رکھنے کے باوجود اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے قابل نہیں ،کیونکہ اُن بیچاروں کی آمدن فقط اتنی ہی ہوتی ہے کہ وہ کھینچ تان کر جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔

 ایسے اکثر غریب والدین اپنی آمدن میں کچھ اضافہ کرنے کے لئے چھوٹی سی عمر سے ہی بچوں کو کام پر لگا دیتے ہیں، چنانچہ جس عمر میں ان فرشتوں کے ہاتھوں میں کتابیں اور کھلونے ہونے چاہئیں،یہ ہوٹلوں میں برتن دھورہے ہیں ہوتے ہیں یا پھر ورکشاپ میں گاڑیوں کی مرمت کا کام سیکھ اور اُستادوں کی مار کھارہے ہوتے ہیں۔ سابق حکومتوں کی تعلیمی شعبے میں عدم دلچسپی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ بھی چوکھا آئے کے مصداق اب پاکستان میں تعلیم ایک ایسا انتہائی منافع بخش دھندہ بن چکا ہے جس میں صنعتوں کے برعکس نقصان کا کوئی اندیشہ ہے ہی نہیں ،اسے نہ تو بجلی کی ضرورت ہے اور نہ ہی گیس کی ، نہ تو مارک اپ بڑھنے سے اسے کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ روپے کی قدر میں کمی سے کوئی نقصان ہوتا ہے ۔ بس ایک مرتبہ کی سرمایہ کاری اور پھر موج ہی موج، چنانچہ یہ دھندہ زیادہ تر وہ لوگ کررہے ہیں جن کا خود درس و تدریس سے دور دور کا کوئی واسطہ نہیںاور اس دھندے کو ایک کاروبار سمجھ کر کرتے ہیں۔ان سکولوں اور کالجوں کے ماہانہ لاکھوں روپے کے اشتہارات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا کہ یہ کس قدر بھاری فیسیں وصول کررہے ہیں، چنانچہ عام آدمی تو ان سکولوں کالجوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، کیونکہ اس بیچارے کی زندگی کا محور ہی روٹی اور کپڑے کا حصول ہے۔

 ہزاروں لاکھوں روپے فیسیں وصول کرنے والے ان سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دولتمندوں ، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے بچے ہی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو سیاستدانوں کو سرکاری سطح پر تعلیمی سہولیات بہتر کرنے بالخصوص سرکاری سکولوں اور کالجوں میں تعلیمی نظام درست کرنے میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی بیوروکریسی کو۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ تمام منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پرفائز شخصیات جنہیں عرفِ عام میں بیوروکریٹ کہا جاتا ہے، کو سختی سے پابند کردیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم صرف سرکاری سکول، کالج اور یونیورسٹی میں دلوائیں گے جس کا معجزانہ نتیجہ برآمد ہوگا،کیونکہ جب ان لوگوں کے بچے سرکاری سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کریں گے تو اس تعلیمی نظام بالکل ٹھیک ہوجائے گا، غریب طبقہ بھی اپنے بچوں کو تعلیم دلواسکے گا، تعلیمی نصاب بھی درست ہوجائے گا، سرکاری سطح پر تعلیمی معیار بھی ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ ہوجائے گااور سرکاری تعلیمی اداروں کا شمار ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں ہوگا، جبکہ ہر سال تعلیم کے لئے مختص بجٹ میں کمی نہیں، بلکہ اضافہ ہونا شروع ہوجائے گا اور تعلیمی شعبے پر "تعلیم کے تاجروں"کی اجارہ داری بھی ختم ہوجائے گی۔

 وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے تعلیم کے فروغ اور غریبوں کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے بہت مستحسن اقدامات اٹھائے ہیں لہذا انہیں اس تجویز پر بھی غور کرنا چاہیے، یہ سلسلہ پنجاب سے شروع ہوا تو چراغ سے چراغ جلتا جائے گا اور معصوم بچے "چھوٹا" بن کر ہوٹلوں اور ورکشاپوں پر گاہکوں اور مالکان کی مار نہیں کھائیں گے، بلکہ خوبصورت یونیفارم پہن کرگلے میں بستے لٹکاکر روزانہ نئے اور روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھائیں گے۔

 (عبدالباسط پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر ہیں)۔

مزید :

کالم -