یہ فضائی آلودگی اور ٹریفک کی بدنظمی

یہ فضائی آلودگی اور ٹریفک کی بدنظمی
یہ فضائی آلودگی اور ٹریفک کی بدنظمی

  

دو تین روز سے گفتگو کا موضوع اچانک موسم اور اس کے حوالے سے ناک، گلے اور چھاتی کے موسمی امراض کے ساتھ ڈینگی کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔سینئر سٹیزن، معاف کیجئے گا بزرگ شہری کہتے وقت اپنا بھی خیال آ جاتا ہے کہ ابھی تو میں جوان ہوں والا قصہ ہے اور محفل یاراں میں کوئی بھی بڑھتی عمر کو قبول کرنے پر تیار نہیں، یہ الگ بات ہے کہ آج صبح سبھی ہلکے پھلکے انداز میں کھانستے اور شڑشڑ کرتے پائے گئے جبھی تو بات موسم کی طرف مڑ گئی کہ بارش ہو جائے تو نہ صرف درجہ حرارت کم ہوگا اور اس سے ڈینگی لاروا فنا ہو جائے گا بلکہ یہ موسمی امراض بھی خودبخود دور ہو جائیں گے، اسی دوران ایک صاحب نے پارک کے درختوں کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ سب کے پتوں پر گرد کی تہہ چڑھی ہوئی ہے اور بارش ہوگی تو یہ بھی دھل جائیں گے۔

یہ سب گفتگو اپنی جگہ، ہم نے توجہ دلائی کہ اس وقت ہم سب لوگ جس پارک میں بیٹھے ہیں صبح دم اس کی فضا تازہ ہوا اور آکسیجن کی جگہ آلودگی لئے ہوئے ہے کہ پارک کے دو اطراف شمال اور جنوب مشرق میں کوڑا جل رہا ہے جس کے دھوئیں نے پوری فضا کو آلودہ کررکھا ہے، سب کی توجہ ہوئی اور وہ دکھ کا اظہار کرکے رہ گئے کہ یہ جہالت ہے اور خاکروبوں کے علاوہ سیکیورٹی گارڈ بھی یہ خدمت پورے خشوع و خضوع سے انجام دیتے ہیں، بات یہیں تک ہو تو شاید کوئی سدباب بھی سوچ لیا جائے یہاں تو شہر کے جس حصے اور آبادی میں جھگیاں ہیں، ان سب کے مکین مچھروں کو بھگانے کے لئے یہی مجرب نسخہ استعمال کرتے ہیں ،بلکہ یہ حضرات تو سائیکلوں اور کاروں کے ٹائروںکے ٹکڑے بھی جلاتے ہیں۔

صبح کی سیر کے بعد طبیعت پر بوجھ پڑا تو دفتر آتے وقت اس میں اور بھی اضافہ ہوگیا جب وحدت روڈ پر اور اس کے بعد وحدت کالونی میں بھی دھوئیں کے کثیف بادل فضا میں پھیلتے نظر آئے۔یہ سب درختوں کے پتوں اور ٹہنیوں کے علاوہ سڑک سے اکٹھا کئے جانے والے کوڑے کا کمال تھا کہ باغبانوں نے بھی اپنا کام آسان کرنے کے لئے ان سب کو آگ دکھانے ہی کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور ایسا شہر کے پوش علاقوں میں بھی ہوتا ہے بلکہ ہم نے تو شاہ جمال کی ایک چھ کنال والی کوٹھی کے لان میں بھی الاﺅ جلتے اور دھواں اٹھتے دیکھا ہے۔

ماحولیات کے ماہر اور دنیا بھر کے سائنس دان چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث اوزون کی تہہ والا سوراخ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں دو تین درجے اضافہ ہو چکا اور دنیا بھر کے موسم تغیر کا شکار ہیں، اگر فضائی آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تو یہ سلسلہ زیادہ پھیل جائے گا۔درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئر تک پگھل جائیں گے اور پھر دنیا کو حدت کے علاوہ سمندری طوفانوں کا سامنا ہوگا، بلکہ اکثر جزائر غرق آب ہو جائیں گے۔

یہی نہیں ماہرین طب اور جنیاتی سائنس کے ماہر تو بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ کثیف اور کوڑے والے دھوئیں سے کینسر اور تپ دق جیسے موذی امراض پھیلتے ہیں۔اعدادوشمار سے یہ ثابت بھی ہوتا ہے کہ پوری دنیا خصوصاً ہمارے جیسے ممالک میں کینسر کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔یہ موذی مرض لگ جائے تو صرف جان ہی لے کر نہیں ٹلتا بلکہ تمام اثاثے بھی اس کی نذر ہو جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں سرکار اور ذمہ دار محکمے غفلت کا ثبوت دے رہے ہیں۔کہا اور انتباہ بھی یہی ہے کہ کوڑا جلانا جرم ہے لیکن یہی جرم خود انہی محکموں کے اہل کار کرتے ہیں۔زیادہ ذمہ دار خاکروب اور مالی ہیں ان کے بعد جھگیوں والوں کا نمبرآتا ہے۔ ان اداروں کی طرف سے اس کا کوئی سدباب نہیں کیا جاتا،یوں تو یہاں محکمہ ماحولیات بھی ہے جس کی ذمہ داری میں آلودگی کو ختم کرنا اور عوام کا تحفظ ہے لیکن کبھی بھی اس محکمے کی ایسی کارکردگی دیکھنے میں نہیں آئی۔حتیٰ کہ اس محکمہ کی طرف سے تو آگاہی مہم بھی نہیں چلائی جاتی، یہ بھی نہیں کرتے کہ ماحولیات، بلدیاتی ادارہ اور صفائی کی ذمہ دار کمپنی مل کر ایسی مہم چلائیں کہ عام شہری شعور حاصل کرلیں اور جو حضرات آلودگی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں ان کو روکا جائے۔پی ایچ اے اپنے مالیوں اور صفائی والی کمپنی خاکروبوں کو حکماً منع کرسکتی ہے اور ان کے علاوہ جو لوگ کوڑا جلاتے ہیں ان کو پکڑ کر ان کے ویسے چالان کئے جا سکتے ہیں جیسے فیکٹریوں کے ہوتے ہیں اگرچہ یہ بھی ہماری خوش فہمی ہے۔

ٹریفک وارڈنز حضرات کی کارکردگی کا ذکر تو پہلے بھی کیاجا چکا ہے کہ آج کل یہ ٹریفک کے بہاﺅ کو درست رکھنے کی بجائے چالان کرنے کے فرائض انجام دے رہے ہیں تاکہ ان کی تنخواہیں اور ان کے شعبہ کے اخراجات عام لوگوں کی جیب سے پورے کئے جا سکیں۔عام چوراہوں کا یہ عالم ہے کہ ٹریفک وارڈنز نہ ہونے کی وجہ سے شہری سگنل کا احترام نہیں کرتے اور سگنل سرخ ہونے کے بعد بھی چلتے رہتے ہیں اس سے حادثات بھی ہوتے اور ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے،تاہم ہم تو یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ مجیدنظامی روڈ(لارنس روڈ) اور وحدت روڈ پر امتحانی مراکز بنے ہوئے ہیں، ہر دو مراکز میں آئے روز دن میں دو پرچے ہوتے ہیں، طلباءو طالبات اپنی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں پر آتے ہیں اور ہر دو جگہ ڈبل سے بھی زیادہ پارکنگ کرلی جاتی ہے اور جب پرچہ ختم ہوجاتا ہے تو یکایک سینکڑوں طلباءسڑکوں پر آ جاتے ہیں، ٹریفک وارڈن نہ ہونے اور ہر ایک کی جلدی کے باعث ٹریفک جام ہو جاتا ہے اور کئی کئی گھنٹے یہی صورت حال رہتی ہے، امتحانی مراکز بنانے اور امتحانات لینے والے اداروں کے علاوہ محکمہ ٹریفک کو کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ اس امر کا مستقل اہتمام کیا جائے کہ ٹریفک چلتی رہے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ امتحانی اوقات میں زیادہ ٹریفک وارڈن ڈیوٹی پر ہوں اور وہ ابتداءہی سے غلط پارکنگ کو روکیں اور پھر جب پرچہ ختم ہو تو مناسب طریقے سے گاڑیوں کو چلاتے رہیں، یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، انتظامی طور پر حل کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ عوام کا خیال ہو۔

اسی طرح وحدت روڈ اور شہر کی بعض دوسری اہم سڑکیں مذہبی تقریبات کی وجہ سے ٹریفک کے لئے بالکل بند کردی جاتی ہیں اور ایسا سکیورٹی کے نام پر کیا جاتا ہے حالانکہ وحدت روڈ دو رویہ ہے یہاں صرف ایک سڑک بند کرکے ایک سڑک سے ٹریفک گزارنے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ماضی میں یہی ہوتا تھا اب نہیں، مسائل ہی مسائل ہیں، کہاں تک سنو گے، کہاں تک سنائیں!   ٭

 

مزید : کالم