عطاءالحق قاسمی کے بارے میں ڈاکٹر ڈوگر کا کالم

عطاءالحق قاسمی کے بارے میں ڈاکٹر ڈوگر کا کالم
 عطاءالحق قاسمی کے بارے میں ڈاکٹر ڈوگر کا کالم

  

سب سے پہلے مَیں یہ واضح کر دوں کہ مَیں یہ کالم عطاءالحق قاسمی کے بارے میں نہیں لکھ رہا۔ میرا اُن کے ساتھ محبت کا ایک اپنا سلسلہ ہے، اس لئے ایسا کرنے کے لئے مجھے اُن سے وابستہ باتوں اور یادوں کو تازہ کرنے کے لئے زیادہ تیار ہونے کی ضرورت ہے۔ مَیں فی الحال یہ سب کچھ اس کالم کے بارے میں لکھ رہا ہوں، جو میرے عزیز دوست ڈاکٹر اسلم ڈوگر نے میرے محترم دوست عطاءالحق قاسمی کے بارے میں لکھا ہے۔

اسلم ڈوگر نے اپنے کسی دوست کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ انہیں ممتاز عالمی کالم نویس آرٹ بکوالڈ کی عظمت کا اس وقت پتہ چلا جب کسی نے انہیں بتایا کہ عطاءالحق قاسمی کو اردو کالم نویسی کا آرٹ بکوالڈ قرار دیا جاتا ہے۔ مجھے اِس بارے میں یہ کہنا ہے کہ مَیں پہلے سے ہی آرٹ بکوالڈ کو اُن کی تحریروں کے حوالے سے جانتا ہوں، لیکن اگر مجھے یہ قرار دینا ہو کہ اُن کی تحر یریں بھی عطاءالحق قاسمی جتنی عظیم ہیں، تو کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہر رائٹر کی سب تحریریں شہ پارے نہیں ہوتیں۔ اگر اوسط پر فیصلہ کرنا ہے اور مقابلہ صرف اُن دو کے درمیان ہی کرنا ہے، تو پھر عطاءالحق قاسمی آرٹ بکوالڈ سے بہت آگے ہے۔ بکوالڈ بہت اچھا مزاح نگار ہے، لیکن بہت بار اس نے معیار سے نیچے اور بے مزہ بھی لکھا ہے۔ عطاءالحق قاسمی کے بارے میں ایسا کہنا بہت دشوار ہے۔

عطاءالحق قاسمی نے میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر ”قیمے“ کو جو محترم مقام بخشا ہے، اس پر مَیں ضرور تبصرہ کرنا چاہوں گا، ورنہ ”قیمے“ کے حضور گستاخی سمجھی جائے گی۔ مہمان نے میزبان سے پوچھا کہ قیمہ موجود ہے، اس میں کیا ڈالا جائے، تو مہمان کا جواب تھا کہ ”قیمے کے اندر مزید قیمہ ڈالا جائے“۔ اس میزبان کا تو پتہ نہیں، لیکن مہمان یقینا کشمیری تھا، جسے قیمے کے سوا کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا.... چونکہ معاملہ خوراک کا تھا جو دو کشمیریوں عطاءالحق قاسمی اور میاں نواز شریف کے درمیان زیر بحث تھا، اس لئے انہوں نے اسے بخوبی حل کر لیا۔ بڑے اور چھوٹے قیمے کے موازنے، اُن کے ذائقے اور ان کے مہنگے سستے ہونے کے مرحلے آسانی سے طے ہو گئے۔ مجھ غیر کشمیری کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ خوراک کے مسئلے پر کسی کشمیری کو چیلنج کروں، لیکن بات کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔

ایک ارائیں ہونے کی حیثیت سے قیمے کے شوقین حضرات پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پیاز ڈالے بغیر قیمے کا ذائقہ نہیں بنتا اور آپ جانتے ہیں کہ پیاز کا ”کاپی رائٹ“ ہمارے پاس ہے۔ سبزیوں سے ہماری دلچسپی بھی کسی سے چھپی نہیں، لیکن مَیں یہاں سبزیوں کو بلاوجہ ”پروموٹ“ کرنا نہیں چاہتا، صرف انصاف کی بنیاد پر آپ سے فیصلہ چاہوں گا۔ قیمہ بڑا ہو یا چھوٹا، اس کے ذائقے میں اضافہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس میں آلو، شملہ مرچ، بھنڈی یا کریلے ڈالے جائیں۔ میرے خیال میں میرٹ کی بنیاد پر دیکھا جائے، تو قیمے میں قیمہ ڈالنے سے کوئی سبزی ڈالنا ہزار درجہ بہتر ہے، لیکن الحمرا میں جو مکالمے بازی ہو رہی تھی، اس میں Recipeطے نہیں ہو رہی تھی، بلکہ قیمے کے استعارے کے ذریعے دانشوروں کی کلب کے لئے گرانٹ کے سوال کا جواب لیا جا رہا تھا۔ میاں نواز شریف نے دو کروڑ روپے کی آفر دی اور قاسمی صاحب نے فوراً قبول کر لی، ورنہ سب جانتے ہیں کہ ان کے تعلقات اتنے ہیں کہ اگر وہ اٹک جاتے تو میاں صاحب کو یہ رقم بڑھانا پڑ جاتی، لیکن وہ شاید اس لئے خاموش ہو گئے کہ باقی رقم صوبائی حکومت سے مل جائے گی۔

مجھے لگتاہے عطاءالحق قاسمی کے ذریعے ایک اور نیکی کا کام ہونے جا رہا ہے۔ وہ بڑے با وسائل بندے ہیں، جس کی بنا پر انہوں نے یقینا کوئی اچھا خاصہ سرکاری پلاٹ تلاش کر رکھا ہے، بلکہ شاید انہیں ملا ہوا ہے۔ وہاں وہ دانشوروں کے لئے ایک کلب تعمیر کرنا چاہتے ہیں، جس کے لئے انہیں دو کروڑ مل گئے ہیں۔ وہ اپنی ذات کے لئے کچھ کرنے والے نہیں ہیں، لیکن اس سوشل کام کے لئے وہ یقینا ضروری فنڈ جمع کر لیں گے۔ مَیں اس پراجیکٹ کی کامیابی کے لئے خصوصاً دُعا گو رہوں گا، کیونکہ مجھے اس میں کچھ ذاتی فائدہ نظر آ رہا ہے۔ ڈوگر صاحب کی اطلاع کے مطابق اس کلب میں باہر سے آنے والے لوگوں کی رہائش کا بندوبست ہو گا۔ میرا لاہور میں اب کوئی گھر نہیں ہے، لیکن لاہور کی محبت میں بار بار آنا پڑتا ہے، تو اپنے سسرال میں ٹھہرتا ہوں، جو اچھا نہیں لگتا۔ اگر یہ کلب بن گیا تو شاید مجھے بھی چند روز رہنے کی سہولت مل جائے۔ یہ سوچا نہیں کہ یہ تو دانشوروں کی کلب ہو گی اور ہماری دانشوری کی کون گواہی دے گا۔ لے دے کے آخر قاسمی صاحب سے ہی گزارش کرنا پڑے گی کہ پرانے تعلقات کا لحاظ کرتے ہوئے ہمیں بھی دانشوری کے کسی کونے کھدرے میں جگہ دے دیں۔

مجھے یقین ہے وہ ایسا کر دیں گے، کیونکہ پرانے زمانے میں کم از کم مجھے کریڈٹ دینے میں بہت فراخ دل واقع ہوئے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک بار ہمارے مشترک دوست اسد اللہ غالب نے اپنی ”پریس کونسل آف انٹرنیشنل افیئرز“ کے ذریعے عطاءالحق قاسمی کی پذیرائی کے لئے ایک تقریب منعقد کی۔ اس میں اپنی کہانی سناتے ہوئے انہوں نے ایک جملہ کہہ کر مجھ سمیت سب حاضرین کو حیران کر دیا کہ ”ایک بار جب اظہر زمان نے ایک پروگرام کے لئے میرا انتخاب کر کے مجھے امریکہ بھیجا“۔ مَیں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ کون سی بات کر رہے ہیں۔ اصل حقیقت یہ تھی کہ امریکن سنٹر اسلام آباد میں میرے ساتھی حمید علوی نے تحقیق کر کے ایک انفرادی پروگرام معلوم کیا اور اس کے لئے قاسمی صاحب کو نامزد کرنے کی ابتدا بھی کر دی۔ اصل معاملہ یہ تھا کہ چونکہ قاسمی صاحب کا تعلق لاہور سے تھا اور لاہور میرا شعبہ تھا، اس لئے میری منظوری ضروری تھی۔ علوی صاحب نے مجھ سے رسمی کارروائی کروا لی، کیونکہ مَیں تو خوش ہی ہوا، لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ ساراInitiative علوی صاحب کا تھا۔ انہوں نے ہی اس پروگرام کو ہینڈل کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ مَیں اعتراض کر دیتا تو یہ پروگرام ہی ختم ہو جاتا۔ بہرحال قاسمی صاحب نے سارا کریڈٹ مجھے دے دیا۔

مجھے اپنے بارے میں اُن کا لکھا ہوا وہ کالم کبھی نہیں بھولتا، جس میں انہوں نے مجھے بہت بلندی پر چڑھا دیا، حالانکہ وہ محض ایک مبالغہ ہی تھا۔ شاید پیپلزپارٹی کا بےنظیر بھٹو کی حکومت کا پہلا دور تھا۔ لاہور کے صحافیوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے کوئی تحریک چلا رکھی تھی اور روزانہ جلوس نکلتے تھے۔ مجھے صحیح الفاظ تو یاد نہیں ہیں، لیکن قاسمی صاحب نے صحافی لیڈروں کو کچھ اس طرح کا مشورہ دیا تھا کہ آپ لوگ بے کار میں جلوس نکالنے اور تحریک چلانے پر اتنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اپنے مطالبات منوانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اظہر زمان سے رابطہ کرو، وہ اسلام آباد میں فرحت اللہ بابر کو ایک فون کرے گا اور سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ظاہر ہے یہ سب مبالغہ تھا۔ مَیں چونکہ امریکی شعبے میں انفارمیشن ایڈوائزر تھا اور وہ امریکہ کا پیپلزپارٹی سے تعلق جوڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بہت عرصے بعد فرحت اللہ بابر ایک بار آصف علی زرداری کے ہمراہ واشنگٹن آئے، تو مَیں نے انہیں یہ کالم والی بات بتائی تو وہ بہت محظوظ ہوئے۔

میرا چونکہ موضوع قاسمی صاحب نہیں ہیں، بلکہ اسلم ڈوگر کا کالم ہے، تو مَیں اس طرف واپس آتا ہوں۔ مجھے اس کالم سے پہلی بار پتہ چلا کہ قاسمی صاحب کا نام پنجاب کی گورنری کے لئے بھی زیر غور آیا تھا۔ کاش ایسا ہو جاتا، تو مجھے یقین ہے کہ یہ ادارہ رسمی کارروائی سے باہر نکل آتا، جس کے تحت ایسے ایسے کام ہوتے جو آج تک نہیں ہوئے.... چونکہ بار بار کالم کا ذکر ہو رہا ہے، اس لئے مجھ سے رہا نہیں جا رہا۔ مَیں آخری بات کالم نویسی کے حوالے سے کرنا چاہتا ہوں۔ کالم کے مواد اور تحریر کی عمدگی سے اچھا کالم بنتا ہے، لیکن اگر وہ تکنیکی تقاضے پورے نہیں کرتا، تو اسے ہم اچھی تحریر یا مضمون کہہ سکتے ہیں، کالم نہیں۔ صحافت میں کالم ایک مخصوص تکنیک کے ساتھ وجود میں آیا تھا اور اس میں طنزو مزاح کا ہونا یا کم از کم اس کا ہلکا پھلکا ہونا ضروری تھا۔ یہ روایت کافی دیر برقرار رہی، پھر ایسے کالم بھی آنے لگے جو بہت سنجیدگی سے لکھے جاتے تھے۔ ان کو بھی کالم کے طور پر قبول کر لیا گیا، بشرطیکہ وہ تکنیک کے اعتبار سے پورے اترتے ہوں۔

بعد کے دور میں جب کالموں کی فراوانی ہوئی، تو بہت دلچسپ اور متنوع مواد پڑھنے کو ملا، لیکن تکنیکی اعتبار سے ان میں سے بیشتر کالم کے دائرے سے نکل گئے، جنہیںہم مضمون کہہ سکتے ہیں۔ صحافت اور ادب کی علمی بحثوں میں، مَیں نے اکثر کہا ہے کہ کالم کے تکنیکی معیار پر پورا اترنے والا ایک شگفتہ کالم صحافت کا حصہ ہونے کے باوجود ایک ادبی تخلیق بھی شمار ہو سکتا ہے۔ یہاں مَیں ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ جب سے مَیں نے کالم کے بارے میں صحافتی علم حاصل کیا ہے اور کالم پڑھنے شروع کئے ہیں، مجھے آج تک تکنیکی اعتبار اور شگفتہ مواد کے حوالے سے انتظار حسین کا کوئی کالم اس دائرے سے باہر نہیں ملا۔ دوسرے نمبر پر عطاءالحق قاسمی صاحب ہیں، جن کے کالم معیار کے اعتبار سے کسی طرح کم نہیں ہیں، لیکن کبھی شاذو نادر اُن کے ایسے کالم تکنیکی دائرے سے باہر نکل جاتے ہیں، جن میں وہ اپنے بعض ناقدین سے بحث کرتے نظر آتے ہیں۔

منو بھائی کے کالم ایک طویل عرصے سے کالم کے سب تقاضے پورے کرتے نظر آتے ہیں، لیکن چند سال سے وہ کبھی کبھار ایسے کالم بھی لکھ رہے ہیں، جنہیں اصل میں مضمون کہنا چا ہئے، چونکہ آج بات عطاءالحق قاسمی کی ہو رہی ہے، اِسی لئے مَیں اُن کی طرف واپس آتے ہوئے کہنا چاہتا ہوں کہ کالم نویسی کے فن کو سمجھنے کے لئے اُن کے کالموں کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے، اسلم ڈوگر کے، جس کا لم سے مجھے لکھنے کی تحریک ہوئی، کم از کم کالم کی تعریف پر سو فیصد پورا اترتا ہے۔  ٭

مزید :

کالم -