پاک افغا تعلقات کی ئی جہتیں

پاک افغا تعلقات کی ئی جہتیں

پاکستا اور افغا ستا ے ام عمل میں مُلا برادر کے کردار، دہشت گردی سے مٹ ے، دو طرفہ تعلقات اور باہمی تجارت کے فروغ پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کو دہشت گردی سے پاک دیکھ ا چاہتے ہیں۔ قیام ام کے لئے مل کر کوششیں کرتے رہیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد واز شریف ے واضح کیا ہے کہ پُرام افغا ستا ، پاکستا کے مفاد میں ہے۔ پاکستا افغا ستا کی ہر مرحلے پر حمایت جاری رکھے گا۔ امریکی اڈوں کے بارے میں فیصلہ بھی کابل حکومت ہی کرے گی۔ افغا ستا تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ افغا ستا میں پائیدار ام کے لئے سیاسی تصفیہ ہو ا چاہئے۔ افغا ستا خود مختار ملک ہے۔افغا عوام اپ ی قسمت کا فیصلہ خود کریں۔ افعا فریقی مذاکراتی عمل کا میاب ب ائیں۔2014ءکے بعد بھی تعاو جاری رکھیں گے۔ افغا صدر جسے چاہیں ملُا برادر کی ملاقات کے لئے بھیج سکتے ہیں۔ ا خیالات کا اظہار ا ہوں ے ہفتہ کو افغا ستا کے دورہ کے موقعہ پر افغا صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کا فر س میں کیا۔ دو وں رہ ماﺅں ے اپ ی ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی سمیت باہمی دلچسپی کے دوسرے امور پر تبادلہ خیالات کیا۔ واز شریف ے کہا کہ افغا عوام ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ 2014ءکے بعد افغا عوام اپ ے فیصلے خود کریں گے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دو وں ممالک کو مل کر کوششیں کر ا ہوں گی۔ پاکستا افغا ستا سے اچھے دوستا ہ تعلقات چاہتا ہے۔ پاکستا افعا عوام اور افغا قیادت کے درمیا ام فارمولے کی حمایت جاری رکھے گا۔ افغا ستا کے صدر کرزئی ے کہا کہ دو وں ملک دہشت گردی کی لع ت کا شکار ہیں اور ہمیں مل کر ہی اس سے جات حاصل کر ا ہو گی۔

اس حقیقت سے کسی کو ا کار ہیں ہو سکتا کہ افغا ستا اور پاکستا کی حکومتیں باہمی تعاو ہی سے دو وں ملکوں میں دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتی ہیں۔ دو وں ملکوں کے درمیا تجارت اور اقتصادی تعاو علاقائی ام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ام کوششوں میں ملا برادر کے کردار کو تسلیم کر ے کا مطلب دو وں ملکوں کی طرف سے ملا عمر اور طالبا کی ام عمل میں اہمیت کو تسلیم کر ا ہے۔ اب 2014ءمیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی افواج افغا ستا سے واپس جا ے کے بعد اس وقت تک افغا ستا میں ام قائم ہیں ہو سکتا جب تک کہ وہاں تمام موثر اور اہم گروہوں کی شمولیت کے ساتھ ایک وسیع الب یاد حکومت قائم ہیں ہو جاتی ۔ امریکہ ے حامد کرزئی کی حکومت کی فوج کی تربیت کا ا تظام کیا ہے اور اسے مسلح کر کے حکومت کے دفاع کے قابل ب ا ے کی کوشش کی ہے، لیک اس کے باوجود اس بات کے قوی امکا ات موجود ہیں کہ صرف امریکہ کی تربیت یافتہ یہ فوج ہی کرزئی حکومت کا تحفظ ہیں کر سکتی، اگر طالبا یلغار کے بعد اس حکومت کا تختہ الٹ کر دوبارہ اپ ی حکومت قائم کر ے میں کامیاب ہیں ہوتے تو کم از کم اسی حالت میںطالبا مخالف حکومت کا قائم رہ ا ممک ہیں ہو گا۔ افغا ستا ایک بار پھر خا ہ ج گی کا شکار ہو جائے گا، جس سے افغا عوام مسلسل مسائل و مصائب کا شکار رہیں گے اور د یا کی دوسری اقوام کے مقابلے میں کھڑے ہیں ہو سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ بھی افغا ستا سے واپس جا ے سے پہلے طالبا اور دوسرے گروہوں سے مذاکرات چاہتا ہے تاکہ وہاں ایک مستحکم اور سب کے لئے قابل قبول حکومت چھوڑ کر جائے۔ ایک مستحکم حکومت ہی افغا ستا کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر لے جا سکتی ہے، جس کے بعد افغا عوام ئے دور میں داخل ہو کر عالمی ام میں اپ ا کردار ادا کر سکیں گے۔ اگر ایسا ہ ہو سکا، تو جہاں افغا وں کی آءدہ سلوں کا مستقبل تباہ ہو گا، وہاں افغا ستا سے دہشت گردی اور عالمی دہشت گرد ی کی پشت پ اہی کا سلسلہ بھی ب د ہیں ہو سکے گا،

 یہ امر کسی کے لئے بھی باعث اطمی ا ہیں ہو گا۔ ا ہی حقائق کے پیش ظر ہ صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خطے میں مستقل ام کا قیام بہت اہمیت رکھتا ہے، بلکہ دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہو ے والے پاکستا اور افغا ستا کے لئے اس کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہے۔ وزیراعظم پاکستا کی طرف سے افغا ستا کے لویہ جرگہ اور افغا حکومت کے درمیا ہو ے والے سمجھوتے کی حمایت کا اعلا ایک طرح سے افغا ستا کے عوام کی خواہشات اور فیصلوں کا احترام ہے۔ خود پاکستا میں ایک م تخب جمہوری حکومت قائم ہے اور پاکستا افغا ستا کے ام کے لئے وہاں بھی جمہور ی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے، جس کے لئے ہم وہاں مختلف گروہوں کے درمیا سیاسی تصفیہ کے حق میں ہیں۔ یہ بات ہر کسی پر واضح کئے جا ے کی ضرورت ہے کہ اب کو ئی گروہ بھی اپ ی دہشت گردی یا عسکری طاقت کے بل پر افغا ستا میں اقتدار پر قبضہ ہیں کر سکے گا۔ طالبا کو بھی افغا ستا میں اس لئے عوامی تائید و حمایت حاصل ہے کہ ا سے امریکہ اور ا کی اتحادی افواج ے طاقت کے بل بوتے پر اقتدار چھی لیا تھا۔ طالبا کی حکومت بھی افغا ستا میں رہی اور حامد کرزئی کی حکومت کو بھی افعا عوام ے دیکھ لیا۔ اب کسی ایک فارمولے پر متفق ہو جا ے کے بعد وہاں ا تخابات کرائے جا ے کی ضرورت ہے تاکہ عوام اکثریت رائے سے اپ ے ماءدوں اور حکومت کا ا تخاب کر سکیں۔ اس سب کچھ کے لئے ہر گروہ کا جمہوریت پر متفق ہو ا ضروری ہے۔ صاف ستھرے اور م صفا ہ ا تخابات ہر اصول اور ہر اخلاقی تقاضے کے مطابق سیاسی اور حکومتی مسائل کا درست اور جائز حل ہیں۔ اس اصول کو تسلیم کر ے کے باوجود اکثر جمہوری معاشروں کے ا تخابات میں دھ دھو س اور دھا دلی سے ا تخابات جیت ے کی کوشش کی جاتی ہے، لیک م صفا ہ ا تخابات کے ذریعے حقیقی ماءدے م تخب ہو کر اقتدار کے ایوا وں میں پہ چ جائیں اور پھر مخالف گروہ م تخب ہو ے والوں کا حق حکومت کھلے دل سے تسلیم کر لیں ، ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے تعاو کریں تو کوئی بھی قوم اور ملک تیزی سے ترقی اور خوشحالی کے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ ساری قوم کے معاملات اس وقت بگڑ جاتے ہیں جب کچھ گروہ اور جماعتیں جمہوری اصولوں اور ا صاف پر مب ی راستوں کو چھوڑ کر ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض گروہی اور جماعتی مفادات ہی پراڑ ے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹوں اور دشواریوں پر صرف عوام میں اچھے اخلاق و کردار اور روش ضمیری پیدا کر ے ہی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس معاشرے میں بددیا تی، رشوت، کرپش اور بداخلاقی کا دور دورہ ہو، تو اس صورت میں صاف ستھری اور ا صاف پر مب ی جمہوریت اور حقیقی قیادت کا سام ے آ ا ممک ہیں رہتا۔ ایسے حالات میں ہر وہ گروہ اقتدار چھی ے کی کوشش کرتا ہے جو اپ ی دا ست میں خود کو دوسروں سے بہتر اور اقتدار کا زیادہ مستحق تصور کرتا ہے یا جو زیادہ طاقت اور وسائل کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ افعا ستا اس وقت ایسے ہی گروہوں کے دباﺅ میں ہے۔ وہاں ہ کبھی جمہوریت رہی ہے ہ جمہوری اقدار سے لوگ آش ا ہیں۔ سب گروہوں کا کسی سیاسی تصفیے پر پہ چ ا مشکل ہے، لیک مغربی طاقتوں، پاکستا اور موجودہ افغا حکومت کی خواہش اور کوشش سے یہ کام ممک ہوجا ے کی قوی توقعات کی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ اس وقت افغا عوام اہم موڑ پر کھڑے ہیں، ا ہیں جمہوریت یا مزید طویل عرصہ تک کی بدام ی اور ا تشار میں سے ایک راستہ م تخب کر ا ہو گا۔ مغربی طاقتیں بھی افغا ستا میں ام چاہتی ہیں اور پاکستا بھی افغا ستا کے ام کو اپ ے مفاد میں قرار دی ے کے علاوہ اس سلسلے میں ہر طرح کے تعاو و معاو ت کے لئے تیار ہے۔ اب یہ افغا ستا کے ا در سرگرم مختلف مسلح گروہوں اور ا کے حامی افراد پر م حصر ہے کہ وہ اپ ے حق میں موجود اس تعاو و امداد کی فضا کا کس طرح سے جواب دیتے ہیں؟

آئی کی بالا دستی کا عزم

چیف جسٹس آف پاکستا جسٹس ا فتخار محمد چودھری ے کہا ہے کہ آئی کی بالا دستی ہر صورت میں یقی ی ب ائیں گے۔ ا ہوں ے کہا کہ عدلیہ آءدہ چ د د وں میں آئی ی دائرہ کار میں رہ کر اپ ے مقاصد کا تعی کرے گی۔ا صاف تک رسائی، سستے اور فوری ا صاف کی فراہمی کوب یادی حق تسلیم کیا جا چکا ہے۔آئی اس ب یادی حق کو تحفظ دیتا ہے۔ ہم آج ایک بار پھر عدلیہ کے آئی کی بالادستی اور قا و کی حکمرا ی کے غیر مت زلزل عزم کو برقرار رکھ ے کا اعادہ کرتے ہیں۔ عدلیہ ے اس امر کو یقی ی ب ایا ہے کہ تمام اختیارات کا استعمال آئی کے دائرہ اختیار اور آئی ی اقدار کے ا در رہ کر ہو۔ عدلیہ ے بہت سے مت ازعہ معاملات پر دیئے گئے فیصلوں پر ہ صرف عالمی احترام کمایا ہے،بلکہ عدلیہ کے لئے عوام کی عزت اور احترام بھی کمایا ہے۔ ا خیالات کا اظہار چیف جسٹس ے لاہور میں سپریم کورٹ رجسٹری کی تزئی شدہ عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں بلاشبہ سپریم کورٹ آف پاکستا کو د یا میں عزت اور وقار کا مقام حاصل ہو ا ہے ۔ آئی کی بالا دستی کے لئے سپریم کورٹ ے بے مثل کام کیا ہے، لیک سستے اور فوری ا صاف کی فراہمی ابھی تک عوام کی دسترس سے باہر ہے۔ ا صاف کے حصول کے لئے عدالتوں سے رجوع کر ے والے غریب اور مفلس عوام ساری عمر کے لئے عدالتوں میں خواری برداشت کر ے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ سستے اور فوری ا صاف کا کوئی سوچ بھی ہیں سکتا۔ محترم چیف جسٹس کی طرف سے اس بات کی شا دہی کی بہت اہمیت ہے کہ کہ سستے اور فوری ا صاف کی فراہمی کو ب یادی حق تسلیم کی جا چکا ہے اور آئی اس ب یادی حق کو تحفظ دیتا ہے، لیک عملاً بھی تک اس آئی ی ضرورت کو پورا ہیں کیا جا سکا۔ اگر ماتحت عدالتیں اللہ کا خوف اور اپ ے فرض کی ادائیگی کا جذبہ اپ ے دِلوں میں پیدا کر لیں تو شاید اس ب یادی آئی ی حق کے لئے عوام کی دستگیری کر سکیں۔ اس کے لئے سپریم جوڈیشل کو سل کی طرف سے ماضی میں حکومت کو بھیجی گئی سفارشات پر جب تک عمل ہیں ہوتا، اس وقت تک کسی بہتری کی توقع ہیں کی جا سکتی۔ چیف جسٹس کی ریٹائرم ٹ میں دس د باقی ہیں امید کر ی چاہئے کہ عدلیہ اس عرصہ میں اپ ے مقاصد کا تعی کر ے کا کام بھی مکمل کر لے گی۔        ٭

پاک افغا تعلقات کی ئی جہتیں

پاکستا اور افغا ستا ے ام عمل میں مُلا برادر کے کردار، دہشت گردی سے مٹ ے، دو طرفہ تعلقات اور باہمی تجارت کے فروغ پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کو دہشت گردی سے پاک دیکھ ا چاہتے ہیں۔ قیام ام کے لئے مل کر کوششیں کرتے رہیں گے۔ وزیراعظم میاں محمد واز شریف ے واضح کیا ہے کہ پُرام افغا ستا ، پاکستا کے مفاد میں ہے۔ پاکستا افغا ستا کی ہر مرحلے پر حمایت جاری رکھے گا۔ امریکی اڈوں کے بارے میں فیصلہ بھی کابل حکومت ہی کرے گی۔ افغا ستا تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ افغا ستا میں پائیدار ام کے لئے سیاسی تصفیہ ہو ا چاہئے۔ افغا ستا خود مختار ملک ہے۔افغا عوام اپ ی قسمت کا فیصلہ خود کریں۔ افعا فریقی مذاکراتی عمل کا میاب ب ائیں۔2014ءکے بعد بھی تعاو جاری رکھیں گے۔ افغا صدر جسے چاہیں ملُا برادر کی ملاقات کے لئے بھیج سکتے ہیں۔ ا خیالات کا اظہار ا ہوں ے ہفتہ کو افغا ستا کے دورہ کے موقعہ پر افغا صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کا فر س میں کیا۔ دو وں رہ ماﺅں ے اپ ی ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی سمیت باہمی دلچسپی کے دوسرے امور پر تبادلہ خیالات کیا۔ واز شریف ے کہا کہ افغا عوام ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ 2014ءکے بعد افغا عوام اپ ے فیصلے خود کریں گے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دو وں ممالک کو مل کر کوششیں کر ا ہوں گی۔ پاکستا افغا ستا سے اچھے دوستا ہ تعلقات چاہتا ہے۔ پاکستا افعا عوام اور افغا قیادت کے درمیا ام فارمولے کی حمایت جاری رکھے گا۔ افغا ستا کے صدر کرزئی ے کہا کہ دو وں ملک دہشت گردی کی لع ت کا شکار ہیں اور ہمیں مل کر ہی اس سے جات حاصل کر ا ہو گی۔

اس حقیقت سے کسی کو ا کار ہیں ہو سکتا کہ افغا ستا اور پاکستا کی حکومتیں باہمی تعاو ہی سے دو وں ملکوں میں دہشت گردی کا خاتمہ کر سکتی ہیں۔ دو وں ملکوں کے درمیا تجارت اور اقتصادی تعاو علاقائی ام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ام کوششوں میں ملا برادر کے کردار کو تسلیم کر ے کا مطلب دو وں ملکوں کی طرف سے ملا عمر اور طالبا کی ام عمل میں اہمیت کو تسلیم کر ا ہے۔ اب 2014ءمیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی افواج افغا ستا سے واپس جا ے کے بعد اس وقت تک افغا ستا میں ام قائم ہیں ہو سکتا جب تک کہ وہاں تمام موثر اور اہم گروہوں کی شمولیت کے ساتھ ایک وسیع الب یاد حکومت قائم ہیں ہو جاتی ۔ امریکہ ے حامد کرزئی کی حکومت کی فوج کی تربیت کا ا تظام کیا ہے اور اسے مسلح کر کے حکومت کے دفاع کے قابل ب ا ے کی کوشش کی ہے، لیک اس کے باوجود اس بات کے قوی امکا ات موجود ہیں کہ صرف امریکہ کی تربیت یافتہ یہ فوج ہی کرزئی حکومت کا تحفظ ہیں کر سکتی، اگر طالبا یلغار کے بعد اس حکومت کا تختہ الٹ کر دوبارہ اپ ی حکومت قائم کر ے میں کامیاب ہیں ہوتے تو کم از کم اسی حالت میںطالبا مخالف حکومت کا قائم رہ ا ممک ہیں ہو گا۔ افغا ستا ایک بار پھر خا ہ ج گی کا شکار ہو جائے گا، جس سے افغا عوام مسلسل مسائل و مصائب کا شکار رہیں گے اور د یا کی دوسری اقوام کے مقابلے میں کھڑے ہیں ہو سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ بھی افغا ستا سے واپس جا ے سے پہلے طالبا اور دوسرے گروہوں سے مذاکرات چاہتا ہے تاکہ وہاں ایک مستحکم اور سب کے لئے قابل قبول حکومت چھوڑ کر جائے۔ ایک مستحکم حکومت ہی افغا ستا کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر لے جا سکتی ہے، جس کے بعد افغا عوام ئے دور میں داخل ہو کر عالمی ام میں اپ ا کردار ادا کر سکیں گے۔ اگر ایسا ہ ہو سکا، تو جہاں افغا وں کی آءدہ سلوں کا مستقبل تباہ ہو گا، وہاں افغا ستا سے دہشت گردی اور عالمی دہشت گرد ی کی پشت پ اہی کا سلسلہ بھی ب د ہیں ہو سکے گا،

 یہ امر کسی کے لئے بھی باعث اطمی ا ہیں ہو گا۔ ا ہی حقائق کے پیش ظر ہ صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خطے میں مستقل ام کا قیام بہت اہمیت رکھتا ہے، بلکہ دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہو ے والے پاکستا اور افغا ستا کے لئے اس کی اہمیت سب سے بڑھ کر ہے۔ وزیراعظم پاکستا کی طرف سے افغا ستا کے لویہ جرگہ اور افغا حکومت کے درمیا ہو ے والے سمجھوتے کی حمایت کا اعلا ایک طرح سے افغا ستا کے عوام کی خواہشات اور فیصلوں کا احترام ہے۔ خود پاکستا میں ایک م تخب جمہوری حکومت قائم ہے اور پاکستا افغا ستا کے ام کے لئے وہاں بھی جمہور ی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے، جس کے لئے ہم وہاں مختلف گروہوں کے درمیا سیاسی تصفیہ کے حق میں ہیں۔ یہ بات ہر کسی پر واضح کئے جا ے کی ضرورت ہے کہ اب کو ئی گروہ بھی اپ ی دہشت گردی یا عسکری طاقت کے بل پر افغا ستا میں اقتدار پر قبضہ ہیں کر سکے گا۔ طالبا کو بھی افغا ستا میں اس لئے عوامی تائید و حمایت حاصل ہے کہ ا سے امریکہ اور ا کی اتحادی افواج ے طاقت کے بل بوتے پر اقتدار چھی لیا تھا۔ طالبا کی حکومت بھی افغا ستا میں رہی اور حامد کرزئی کی حکومت کو بھی افعا عوام ے دیکھ لیا۔ اب کسی ایک فارمولے پر متفق ہو جا ے کے بعد وہاں ا تخابات کرائے جا ے کی ضرورت ہے تاکہ عوام اکثریت رائے سے اپ ے ماءدوں اور حکومت کا ا تخاب کر سکیں۔ اس سب کچھ کے لئے ہر گروہ کا جمہوریت پر متفق ہو ا ضروری ہے۔ صاف ستھرے اور م صفا ہ ا تخابات ہر اصول اور ہر اخلاقی تقاضے کے مطابق سیاسی اور حکومتی مسائل کا درست اور جائز حل ہیں۔ اس اصول کو تسلیم کر ے کے باوجود اکثر جمہوری معاشروں کے ا تخابات میں دھ دھو س اور دھا دلی سے ا تخابات جیت ے کی کوشش کی جاتی ہے، لیک م صفا ہ ا تخابات کے ذریعے حقیقی ماءدے م تخب ہو کر اقتدار کے ایوا وں میں پہ چ جائیں اور پھر مخالف گروہ م تخب ہو ے والوں کا حق حکومت کھلے دل سے تسلیم کر لیں ، ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے تعاو کریں تو کوئی بھی قوم اور ملک تیزی سے ترقی اور خوشحالی کے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ ساری قوم کے معاملات اس وقت بگڑ جاتے ہیں جب کچھ گروہ اور جماعتیں جمہوری اصولوں اور ا صاف پر مب ی راستوں کو چھوڑ کر ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض گروہی اور جماعتی مفادات ہی پراڑ ے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹوں اور دشواریوں پر صرف عوام میں اچھے اخلاق و کردار اور روش ضمیری پیدا کر ے ہی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس معاشرے میں بددیا تی، رشوت، کرپش اور بداخلاقی کا دور دورہ ہو، تو اس صورت میں صاف ستھری اور ا صاف پر مب ی جمہوریت اور حقیقی قیادت کا سام ے آ ا ممک ہیں رہتا۔ ایسے حالات میں ہر وہ گروہ اقتدار چھی ے کی کوشش کرتا ہے جو اپ ی دا ست میں خود کو دوسروں سے بہتر اور اقتدار کا زیادہ مستحق تصور کرتا ہے یا جو زیادہ طاقت اور وسائل کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ افعا ستا اس وقت ایسے ہی گروہوں کے دباﺅ میں ہے۔ وہاں ہ کبھی جمہوریت رہی ہے ہ جمہوری اقدار سے لوگ آش ا ہیں۔ سب گروہوں کا کسی سیاسی تصفیے پر پہ چ ا مشکل ہے، لیک مغربی طاقتوں، پاکستا اور موجودہ افغا حکومت کی خواہش اور کوشش سے یہ کام ممک ہوجا ے کی قوی توقعات کی جا رہی ہیں۔ بلاشبہ اس وقت افغا عوام اہم موڑ پر کھڑے ہیں، ا ہیں جمہوریت یا مزید طویل عرصہ تک کی بدام ی اور ا تشار میں سے ایک راستہ م تخب کر ا ہو گا۔ مغربی طاقتیں بھی افغا ستا میں ام چاہتی ہیں اور پاکستا بھی افغا ستا کے ام کو اپ ے مفاد میں قرار دی ے کے علاوہ اس سلسلے میں ہر طرح کے تعاو و معاو ت کے لئے تیار ہے۔ اب یہ افغا ستا کے ا در سرگرم مختلف مسلح گروہوں اور ا کے حامی افراد پر م حصر ہے کہ وہ اپ ے حق میں موجود اس تعاو و امداد کی فضا کا کس طرح سے جواب دیتے ہیں؟

آئی کی بالا دستی کا عزم

چیف جسٹس آف پاکستا جسٹس ا فتخار محمد چودھری ے کہا ہے کہ آئی کی بالا دستی ہر صورت میں یقی ی ب ائیں گے۔ ا ہوں ے کہا کہ عدلیہ آءدہ چ د د وں میں آئی ی دائرہ کار میں رہ کر اپ ے مقاصد کا تعی کرے گی۔ا صاف تک رسائی، سستے اور فوری ا صاف کی فراہمی کوب یادی حق تسلیم کیا جا چکا ہے۔آئی اس ب یادی حق کو تحفظ دیتا ہے۔ ہم آج ایک بار پھر عدلیہ کے آئی کی بالادستی اور قا و کی حکمرا ی کے غیر مت زلزل عزم کو برقرار رکھ ے کا اعادہ کرتے ہیں۔ عدلیہ ے اس امر کو یقی ی ب ایا ہے کہ تمام اختیارات کا استعمال آئی کے دائرہ اختیار اور آئی ی اقدار کے ا در رہ کر ہو۔ عدلیہ ے بہت سے مت ازعہ معاملات پر دیئے گئے فیصلوں پر ہ صرف عالمی احترام کمایا ہے،بلکہ عدلیہ کے لئے عوام کی عزت اور احترام بھی کمایا ہے۔ ا خیالات کا اظہار چیف جسٹس ے لاہور میں سپریم کورٹ رجسٹری کی تزئی شدہ عمارت کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں بلاشبہ سپریم کورٹ آف پاکستا کو د یا میں عزت اور وقار کا مقام حاصل ہو ا ہے ۔ آئی کی بالا دستی کے لئے سپریم کورٹ ے بے مثل کام کیا ہے، لیک سستے اور فوری ا صاف کی فراہمی ابھی تک عوام کی دسترس سے باہر ہے۔ ا صاف کے حصول کے لئے عدالتوں سے رجوع کر ے والے غریب اور مفلس عوام ساری عمر کے لئے عدالتوں میں خواری برداشت کر ے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ سستے اور فوری ا صاف کا کوئی سوچ بھی ہیں سکتا۔ محترم چیف جسٹس کی طرف سے اس بات کی شا دہی کی بہت اہمیت ہے کہ کہ سستے اور فوری ا صاف کی فراہمی کو ب یادی حق تسلیم کی جا چکا ہے اور آئی اس ب یادی حق کو تحفظ دیتا ہے، لیک عملاً بھی تک اس آئی ی ضرورت کو پورا ہیں کیا جا سکا۔ اگر ماتحت عدالتیں اللہ کا خوف اور اپ ے فرض کی ادائیگی کا جذبہ اپ ے دِلوں میں پیدا کر لیں تو شاید اس ب یادی آئی ی حق کے لئے عوام کی دستگیری کر سکیں۔ اس کے لئے سپریم جوڈیشل کو سل کی طرف سے ماضی میں حکومت کو بھیجی گئی سفارشات پر جب تک عمل ہیں ہوتا، اس وقت تک کسی بہتری کی توقع ہیں کی جا سکتی۔ چیف جسٹس کی ریٹائرم ٹ میں دس د باقی ہیں امید کر ی چاہئے کہ عدلیہ اس عرصہ میں اپ ے مقاصد کا تعی کر ے کا کام بھی مکمل کر لے گی۔        ٭

مزید : اداریہ