بلال یٰسین کے ٹوٹکے

بلال یٰسین کے ٹوٹکے
بلال یٰسین کے ٹوٹکے

  

میرے ایک پبلشر دوست نے کہا کہ وہ میرے اک اور دوست، صوبائی وزیر خوراک بلال یٰسین کے ٹوٹکوں کی کتاب شائع کر نا چاہتا ہے، اس نے یقین کا اظہار کیا کہ بلال یٰسین کے ٹوٹکے آپا زبیدہ کے ٹوٹکوں کی طرح ہاتھوں ہاتھ بکیں گے بلکہ ہو سکتا ہے انہیں کھانے پکانے سے لے کر خواتین کے مسائل حل کرنے والے کسی چینل پر خصوصی پروگرام کی میزبانی بھی مل جائے۔ دانشور تو وہ ماشاءاللہ بچپن سے ہی تھے مگر وزیر خوراک بننے کے بعد انہوں نے سستی اور کارگر تجاویز کی بوری ہی کھول دی ہے۔ کچھ مہینے پہلے ٹماٹر مہنگے ہوئے تو انہوں نے تجویز دے دی کہ ٹماٹروں کی جگہ ہانڈی میں دہی ڈال لیا جائے اور اس کے بعد آلووں سمیت تمام سبزیاں مہنگی ہو گئیں۔۔۔ میں نے وزیر موصوف سے پوچھا کہ سبزیاں تو تمام مہنگی ہیں مگر حیرت انگیز طور پر کیلے تیس سے پچاس روپے درجن کے درمیان مل رہے ہیں۔ کیا آپ ناظرین کو کیلوں کا سالن بنانے کی اچھی تراکیب بتا سکتے ہیں، بلال یٰسین برا منا گئے، کہنے لگے کہ انہوں نے تو ٹماٹر نہ خریدنے کا مشورہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کی روشنی میں دیا تھا کہ جو شے مہنگی ہو جائے، اسے خریدنا بند کر دو اور ایک ٹی وی چینل کی خاتون رپورٹر نے پوری بات بیان ہی نہیں کی، صرف یہی چلایا جاتا رہا کہ انہوں نے ٹماٹروں کی جگہ دہی استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اس کے باوجود اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بلال یٰسین کے پاس مہنگی سبزیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی ٹوٹکا نہیں ہے تو وہ غلطی پرہے۔ انہیں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے زراعت، صنعت اور دیگر محکموں کے اوپر قائم وزیروں کی ایک کمیٹی کا سربراہ بھی بنایا ہے اور انہوں نے پولیس کا استعمال کرتے ہوئے نئے آلووں کا ریٹ آدھا کر دیا ،بہرحال پولیس تو ان کاایک عارضی ٹوٹکا ہے مگر یہ بات ماننے والی ہے کہ اس نے کام دکھا دیا ہے ۔اصل ٹوٹکا تو انہوں نے ابھی آزمایا ہی نہیں، وہ ٹوٹکا کچن گارڈننگ ہے۔ یعنی عوام گھروں کے صحنوں میںاور چھتوں پر خود ہی سبزیاں اگا لیں، گھر کے اپنے آلو ، ٹماٹر، لیموں ہوں گے تو بازار والوں کوکون پوچھے گا لیکن اب وزیر صاحب کو کون بتائے کہ کچن گارڈننگ بھی کوئی سستا نسخہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر لاہور کے سینکڑوں ، ہزاروں گھروں میں صحن جیسی عیاشی نہیں ہے لہذا انہیں چھتوں پر یا گیراج وغیرہ میں گملے رکھ کے سبزیاں اگانی پڑیں گی اور انہیںکیا پتا کہ مٹی کس بھاو¿ ملتی ہے۔ پہلے گملے چاہیے ہوں گے اور پھر ان گملوں کو بھرنے کے لئے سینکڑوں روپے تو مٹی کے لئے ہی درکار ہوں گے۔ ہاں وہ کہتے ہیں کہ بیج اور مشورے مفت ہوں گے۔

اصل میں یہ ٹوٹکے آزمانے کی ضرورت ہی اس وقت پیش آتی ہے جب ہمارے پاس معاملات کو صحیح انداز میں چلانے کے لئے کوئی ترکیب موجود نہیں ہوتی۔ میں نے بلال یٰسین سے پوچھا کہ کیا حکومت پنجاب کے پاس یہ سٹڈی موجود ہے کہ پنجاب کے نو سے دس کروڑ عوام کو سال بھر کون سا غلہ کتنی مقدار میں درکار ہو گا، اس کے لئے کتنی زمین پر کون سے فصل اگانی چاہیے، اس فضل کی بیج، کھاد، پانی اور جراثیم کش ادویات کی صورت میں ضروریات کیاہوں گی اور کسان کو اس کا کیا مول دیا جائے گا۔ اگر ہم نے یہ سب کچھ اوپن مارکیٹ پر ہی چھوڑ دینا ہے تو پھر کھلے بازار میں ہر کوئی ایسے ہی لوٹ مار کرتا ہے جیسے اب ہو رہی ہے۔ بلال یٰسین کے پاس اس سوال کا دو وجوہات کی بنا پر کوئی جواب نہیں تھا، پہلی وجہ یہ تھی کہ یہ کام محکمہ زراعت کا ہے ، محکمہ خوراک کا نہیں، کبھی یہ دونوں محکمے ایک ہی وزارت کے ماتحت ہوا کرتے تھے مگرایک دور میں زیادہ سے زیادہ وزیروں کو کھپانے کے لئے یہ علیحدہ علیحدہ وزارتیں بن گئیں بلکہ ایگریکلچرل مارکیٹنگ کا وزیر بھی الگ مقرر کر دیا گیا۔ اب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ زرعی اجناس کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں مارکیٹ کمیٹیوں کا بنیادی اور اہم کردار ہوتا ہے مگر اس کے چالیس کے لگ بھگ اہم عہدے دار ٹھیک ٹھاک قسم کی کرپشن میں ملوث ہیں اور انہیں وزیراعلیٰ شہباز شریف نے عہدوں سے ہٹانے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ مجھے نہیں علم کہ وزیر خوراک کا مارکیٹ کمیٹی کا ٹوٹکا کب چلے گا کیونکہ فی الحال تو پولیس نے ان کی وہ تمام توقعات پوری کر دی ہیں جو وہ ضلعی حکومتوں، پرائس کنٹرول کمیٹیوں، مارکیٹ کمیٹیوں اور نجانے کون کون سے دیگر محکموں سے لگائے بیٹھے تھے۔ پولیس کی قیمتیں کم کروانے میں شاندار کامیابی دیکھتے ہوئے میرا دل کہہ رہا ہے کہ حکومت اب شہر بھر میں تجاوزات کا خاتمہ بھی متعلقہ ایس ایچ اوز کے حوالے کر دے، ٹاو¿ن انتظامیہ جو تجاوزات سالہا سال میں قائم کرواتی اور ختم کرنے میں بھی سالہا سال ہی لگا دیتی ہے، پولیس صرف تین دنوں میں ان تجاوزات سے سڑکوں کو صاف کر دے گی۔

سبزیوں کی مہنگائی میں حکومتی منصوبہ بندی اور گرفت کی عدم موجودگی بہرحال سب سے پہلی وجہ ہے مگر کیا ہم دوسری وجوہات سے صرف نظر کر سکتے ہیں۔ آلوو¿ں کو ہی دیکھ لیں، دو سال ان کا اچھا ریٹ نہیں لگا تو اس برس کاشتکاروں نے اسے کاشت ہی نہیں کیا۔جب مارکیٹ میں آلوضرورت سے اڑھائی لاکھ ٹن کم پہنچا تواس کا ریٹ چڑھ کے سو روپے تک پہنچ گیا۔ کاشت کار نے سوچا کہ نجانے کب یہ ریٹ گر جائے لہذا اس نے دھڑا دھڑ چھوٹا آلو نکال کے بیچنا شروع کر دیا،ا س کانقصان یہ ہوا کہ جہاں ایک ایکڑ سے سو بوری آلو لیا جا سکتا تھا ، جلد بازی میں منافعے کی خواہش نے وہاں سے پچاس بوری ہی نکالا اور بیچ ڈالا کیونکہ کسان ایک بوری کا پانچ سے چھ ہزار روپیہ لے کر جیب میں ڈال رہا تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ مجموعی قومی پیداوار میں مزید کمی واقع ہو گی۔

یہاں ایک ٹوٹکا اور بھی ہے اور وہ ہماری زرعی تعلیم اور تحقیق کے لئے قائم جامعات ہیں۔ میں نے اپنی بہت ہی مشہورایگریکلچر یونیورسٹی کے محترم وائس چانسلرسے پوچھا کہ میں دنیا بھر کی تحقیق پر مبنی خبریں پڑھتا ہوں اور اگر میڈیا میں کوئی تحقیق اور کامیابی خبر کی صورت نظر نہیں آتی تو ہماری زرعی یونیورسٹی کی نہیں آتی۔ ہم اپنی فی ایکڑ پیداوار کا موازنہ امریکہ تو کیا انڈیا سے بھی نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس کاشتکار کی آمدنی بڑھانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اس کی پیداوار کو مہنگا کر دیا جائے حالانکہ یہی آمدنی دو دیگر طریقوں سے بھی بڑھائی جا سکتی ہے، پہلا یہ کہ حکومت ایگریکلچرل ان پٹس کی قیمتوں کو کنٹرول اور کم کرے، کسان کے اخراجات کم ہوں گے تو اس کا منافع بڑھ جائے گا اور دوسرے یہ کہ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی طرف توجہ دی جائے، مثال بہت سادہ ہے کہ اگر ایک کسان ایک ایکڑ سے تیس بتیس من پیداوار لے رہا ہے تودنیا کے جدید ممالک میں ساٹھ سے پینسٹھ من لی جا رہی ہے۔ یہی حال گندم کا ہے جس کی امدادی قیمت پچھلے چند برسوں میں دوگنا سے بھی زیادہ کر دی گئی ہے، اب کسان یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ اس کے ان پٹس سستے ہوں، اس کی پیداوار میں اضافہ ہو ، وہ کہتا ہے کہ گندم کی فی من امدادی قیمت پندرہ سو روپے کر دی جائے تاکہ آٹے کا بیس کلو کا تھیلا جو آٹھ سو روپے کا مل رہا ہے، وہ ہزار روپے پر پہنچ جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ پنجاب اس وقت خیبر پختونخواکی آٹے کی ضرورت بھی پوری کر رہا ہے، وہاں کی حکومت اپنی ضروریات کی پانچ فیصد گندم بھی ذخیرہ نہیں کر سکی تھی۔

مجھے یاد آیا کہ بلال یٰسین کے ٹوٹکوں میں رمضان بازار بھی تو شامل ہیں جہاں واقعی صفائی ، قیمتوں اور سیکورٹی کو یقینی بنایا گیا تھا مگر وہاں بھی ایشو یہی تھا کہ جو چیز یقینی نہیں تھی وہ اشیائے ضرورت کی وافر فراہمی تھی ، کبھی اک چیز شارٹ ہو جاتی تو کبھی دوسری ،اب شہر بھر میں کنٹرول پرائس پر اشیاءفراہم کرنے کے لئے بازار بھی اسی ٹوٹکے کی اگلی کڑی ہیں۔اس وقت پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ٹوٹکا بھی خوب کام دکھا رہا ہے مگر سوال تو یہ کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ اتھارٹی صرف لاہور ہی کے لئے ہے یا دوسرے شہروں میں حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری کروائی جانی چاہئے۔ آج کی تحریر تو صرف اک سند کے طور ہے کہ بلال یٰسین کے ٹوٹکے کم از کم فی الحال آپا زبیدہ کے ٹوٹکوں سے زیادہ کارگر ثابت ہو رہے ہیں لہذا کیا وہ میرے پبلشر دوست کو اجازت دیں گے کہ وہ ان کے ٹوٹکوں پر مشتمل اک کتاب شائع کر کے خود بھی منافع کمائیں اور کوکنگ چینل والوں کو بھی بلال یٰسین کا رستہ دکھائیں ۔

مزید :

کالم -