نئے آئینی مسودہ کیخلاف احتجاج ، مصر کا التحریرسکوائر پھر میدان جنگ بن گیا

نئے آئینی مسودہ کیخلاف احتجاج ، مصر کا التحریرسکوائر پھر میدان جنگ بن گیا
نئے آئینی مسودہ کیخلاف احتجاج ، مصر کا التحریرسکوائر پھر میدان جنگ بن گیا

  

قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) مصرکا التحریرسکوائر ایک مرتبہ پھر میدان جنگ بن گیاہے جہاں نئے آئینی مسودے کے خلاف احتجاج کرنیوالے معزول صدر مرسی کے حامیوں اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں۔قاہرہ کے تحریرسکوائرمیں محمد مرسی کے سینکڑوں حامیوں نے مظاہرہ کیا۔ سیکورٹی فورسزنے مظاہرین کو تحریرچوک سے منتشرکرنے کیلئے آنسوگیس کا بے دریغ استعمال کیا جبکہ مظاہرین نے فورسزپر پتھراو¿ کیا۔ مصر کے آئین ساز پینل نے نئے آئین کے مسودے کی منظوری دے دی ہے جس پرجنوری میں ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ نئے آئین کے اطلاق کے چھ ماہ بعد ملک میں صدارتی انتخابات ہوں گے۔ نئے آئین میں فوج کے اختیارات میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے جس کے خلاف معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے۔ گزشتہ رات قاہرہ میں مظاہرین او پولیس کی جھڑپیں ہوئیں، سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ دوسری جانب قاہرہ یونیورسٹی کے سیکڑوں طلبہ نے گزشتہ روز کے مظاہروں میں سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے طالب علم کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے میں حصہ لیا۔

مزید :

بین الاقوامی -