دو لاپتہ افراد کی ہلاکت کا انکشاف، حراستی مرکز کی انتظامیہ کیخلاف مقدمہ کا حکم ، منگل کو 33لاپتہ افراد پیش کرنے کاحکم ، عدم پیشی کی صورت میں قانون اپنا راستہ بنائے گا: سپریم کورٹ

دو لاپتہ افراد کی ہلاکت کا انکشاف، حراستی مرکز کی انتظامیہ کیخلاف مقدمہ کا ...

بندے حساس اداروں کے پاس ہیں ، کسی بھی حدتک جائیں گے،دونوں افراد کی موت طبعی نہیں: عدالت عظمیٰ

دو لاپتہ افراد کی ہلاکت کا انکشاف، حراستی مرکز کی انتظامیہ کیخلاف مقدمہ کا حکم ، منگل کو 33لاپتہ افراد پیش کرنے کاحکم ، عدم پیشی کی صورت میں قانون اپنا راستہ بنائے گا: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے حکومت کو آخری مہلت دیتے ہوئے 33لاپتہ افراد کو منگل کو ساڑھے گیارہ بجے تک پیش کرنے کاحکم دے دیااورواضح کیاکہ عدم پیشی کی صورت میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور مقدمات کے لیے تیار رہیں ۔عدالت نے حکم دیاکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل کو کیس سے الگ کرنے کے لیے وزارت دفاع کی طرف سے خط لکھنے والے افسراور دولاپتہ افراد کی حراست کے دوران ہلاکت کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے ۔ عدالت نے کہاکہ منگل تک لاپتہ افرادیا ایف آئی آر کی کاپیاں پیش کریں ، حساس اداروں نے تسلیم کیاہے کہ بندے اُن کی تحویل میں ہیں ، ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان ومال کا تحفظ ہے ، اب صورتحال سنگین ہوگئی ہے ، بندے مرناشروع ہوگئے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے تحریری حکم نامے میں کہاکہ حکومت اوراس کے ذیلی ادارے کو اختیار نہیں کہ آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی کرے ، ، کوئی شہری جرائم میں ملوث ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کریں ، سمجھتے ہیں کہ یہ زیادہ طاقتور ہیں ، انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کسی حدتک بھی جائیں گے ۔پیر کوچیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کی ۔دوران سماعت وزارت دفاع کی طرف سے اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے بتایاکہ دولاپتہ افراد دوران حراست انتقال کرگئے ہیں ،رات کو وزیر دفاع نے بتایا کہ ایک لاپتہ شخص دسمبر 2012ءجبکہ دوسرا جولائی 2013ءمیں فوت ہوا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مرنے والوں کے نام اور 10 سینٹر میں مرے اس کی معلومات فراہم کی جائیں ،ان افراد کی ہلاکت نے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا، اگر اس کے بعد کچھ رہ گیا ہے تو بتادیں، اگر کوئی شخص کسی ایجنسی کی حراست میں مرے تو یہ قتل ہے ،اس موقع پر خبر سنتے ہی ایک لاپتہ شخص یاسین کا بھائی محب خان کمرہ عدالت میں بے ہوش ہو گیا اور حالت غیر ہونے پر عدالتی حکم پر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع نے 28 نومبر کو لاپتہ افراد پیش کرنے کا یقین دلایا تھا، لوگوں کو مارنا ہے تو پھر تفتیشی مراکز بند کردیں، اب یہ دیکھنا ہے کہ حکومت ایکشن لیتی ہے یانہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیکرٹری دفاع کو بیان پیش کرنے کی ضرورت نہیں،انہیں عدالتی فیصلہ پر عمل کرنا ہے، انٹرن منٹ سینٹر میں قیدیوں سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے،ایسا نہ ہو کل باقی لوگوں کے مرنے کی خبر بھی آ جائے۔ایڈیشنل سیکرٹری دفاع نے تحریری بیان میں کہا کہ دونوں لکی مروت کے حراستی مرکز میں مرے، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ وہ سینٹر ہے جس کو وفاق کنٹرول کرتا ہے، جو مر گیا ہے اس کا حال احوال دے دیا باقی کہہ رہے ہیں ہمارے پاس نہیں۔ایڈیشنل سیکرٹری دفاع نے کہا کہ یہ دونوں قیدی قدرتی موت مرے ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ جس لمحہ ریاست قانون شکن ہو جائے تو دوسرے کو کیسے کہے گی کہ قانون پر عمل کرے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لکی مروت سینٹر کے افسران کے خلاف مقدمہ درج کریں اور ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے۔ ایڈیشنل سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ میتیں ورثا کے حوالہ کر دی گئیں اور انہوں نے بھی قانونی کارروائی نہیں کی، وزارت دفاع کی جانب سے مزید ایک دن کی مہلت دینے کی استدعابھی کی گئی۔ اٹارنی جنرل سے مکالمے کے دوران چیف جسٹس نے قرار دیا کہ وزارت دفاع کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے لاپتہ یاسین شاہ کو پیش کرنے پر عدالت کو گمراہ کیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درست بیان دیا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں وزارت دفاع سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کیس واپس لینے کا کہا گیا ہے، چیف جسٹس نے قرار دیا معاملہ پانچ اگست سے زیر التوا ہے،سیکرٹری دفاع آج بھی التوا مانگ رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے وزیردفاع خواجہ آصف کو فوری طورپر طلب کرتے ہوئے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی ۔ سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وزیردفاع نے کہاکہ اُنہیں چارج سنبھالے تین دن ہوئے ہیں ، عدالتی حکم پر عمل درآمد کریں گے لیکن کچھ وقت لگے گاجس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ایک دن بھی نہیں ملے گا، اس سے پہلے کہ مزید آگے بڑھیں ، لاپتہ افراد کو آج ہی پیش کریں ، اگر کوئی آپ کا حکم نہیں مانتاتو آپ عدالت کو لکھ کردیں ۔چیف جسٹس نے خبردار کیاکہ اگر لاپتہ افراد کو پیش نہ کیاگیاتو مزید کارروائی کریں گے ، صورتحال سنگین ہوچکی ہے ، اب بندے مرناشروع ہوگئے ہیں ، حراستی مرکز میں موت نہیں بلکہ قتل ہواہے ۔ استفسار پر خواجہ آصف نے عدالت کو بتایاکہ 43حراستی مراکز ہیں جس پر عدالت کاکہناتھاکہ ایک شخص جولائی میں آپ کی حکومت کے دوران مرا، آپ کی حکومت اِس ہلاکت کی ذمہ دار ہے ۔چیف جسٹس کاکہناتھاکہ مسلسل عدالت سے عدم تعاون کیاجارہاہے ، حکومت بھی خاموش ہے ، ہم آپ کو اس طرح بلانانہیں چاہتے ،33لاپتہ افراد کو آج ہی پیش کریں ۔ خواجہ آصف نے عدم تعاون کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ عدالت جب بھی بائے ، وہ حاضرہونے کوتیار ہیں ، دوافراد کا انتقال ہوچکا، باقی اللہ کرے کہ زندہ مل جائیں ، لاپتہ افراد سے متعلق قانون سازی بھی کررہے ہیں ، ایک دوروز میں ہونیوالے اسمبلی اجلاس میں بل پیش کردیاجائے گاجس پر چیف جسٹس کاکہناتھاکہ پہلے لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں ، پھرقانون سازی کرتے رہنا، مرنیوالے دونوں افراد کی موت طبعی نہیں تھی ، وہ قبرستان میں چلے گئے ہیں ، اب قانون قانون سازی کاکیافائدہ ؟ ہم نے حکم لکھوادیاہے کہ صورتحال سنگین ہوچکی ہے ، لاپتہ افراد کو آج ہی پیش کریں اور سماعت ملتوی کردی ۔سماعت تیسری مرتبہ شروع ہوئی تووزیردفاع خواجہ آصف نے کہاکہ وزیراعظم بیرون ملک تھے اور نئے آرمی چیف کا آج پہلاد ن ہے ، ایک دودن مہلت دے دیں جس پر چیف جسٹس کاکہناتھاکہ جنرل اشفاق پرویزکیانی کے دورمیں لاپتہ افراد کو ہیلی کاپٹرپر لایاگیاتھا، آپ کا ذاتی حیثیت میں احترام کرتے ہیں لیکن اُنہوں نے آپ کی بات سننی ہے اور نہ سنیں گے ،یہ اپنے آپ کو زیادہ طاقتورسمجھتے ہیں ،انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کسی بھی حدتک جائیں گے ، سچی بات کرنیوالوںکو ایسی سزائیں نہیں دی جاسکتیں ۔عدالت نے خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیاکہ یہ ملک میں کیاہورہاہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو کیس سے ہٹانے کے لیے خط لکھنے کی جرات کس افسر نے ؟ وزات دفاع کیسے اٹارنی جنرل کو خط لکھ سکتی ہے ، قانون ہم نے نہیں ، اٹھارہ کروڑ عوام کے نمائندوں نے بنایاہے،ہم نے آج جو فیصلہ کرناتھا، وہ نہیں کررہے ۔عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہاکہ منگل تک لاپتہ بندے یا ایف آئی آر پیش کریں ،حساس اداروںنے تسلیم کرلیاہے کہ بندے اُن کے پاس ہیں ، ریاست کی بنیادی ذمہ دارشہریوں کے جان ومال کا تحفظ ہے ، حکومت یا اُس کے ذیلی ادارے کواختیار نہیں کہ آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی کرے ۔ عدالت نے کہاکہ کوئی شہری جرئم میں ملوث ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کریں ، دوافراد کے قتل کا مقدمہ درج کریں ۔ سپریم کورٹ نے حکم دیاکہ منگل کو دن ساڑھے گیارہ بجے تک سیکریٹری دفاع خود 33لاپتہ افراد پیش کریں اور عدم پیشی کی صورت میں قانون اپناراستہ خود بنائے گا۔بعدازاں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ لاپتہ افراد کامعاملہ حساس ہے ، وزیراعظم کے سامنے مسئلہ اُٹھائیں گے ، ایسی کوئی بات نہیں کریں گے جو عدالت کی ناراضی کا باعث بنے ۔

مزید :

اسلام آباد -Headlines -