شمع اور شہزاد کے قاتلوں کو عبرت ناک سزا کیوں ضروری ہے؟

شمع اور شہزاد کے قاتلوں کو عبرت ناک سزا کیوں ضروری ہے؟
شمع اور شہزاد کے قاتلوں کو عبرت ناک سزا کیوں ضروری ہے؟

  

سب سے پہلے تو کوٹ رادھا کشن قصور کے مقتول شمع اور شہزاد کے لواحقین سے اظہار تعزیت، اینٹوں کے بھٹے کی دہکتی آگ میں پھینکنے والوں کے اس بہیمانہ عمل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس طرح کے دلخراش واقعات و سانحات ہمیں دور جہالت کی یاد دلاتے ہیں کہ کس طرح اس دور میں لوگ اپنے بچوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔ آج کے اس دور میں لوگوں سے اس طرح کی توقع ان کے عقل و خردپر ماتم کرنے کے مترادف ہے۔ علماء، میڈیا، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے بجا طور پر اس انسانیت سوز اور پر فتن واقعہ کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس ناجائز قتل کے قاتلوں کو قرار واقعی، عبرت ناک اور قابلِ مثال سزا دی جائے۔ یہ سزا بہت سے پہلوؤں سے ضروری ہے، جن میں سے چند ایک وجوہات درج ذیل ہیں۔

-1 شمع اور شہزاد کے قاتلوں کوکیفر کردار تک پہنچانااس لئے ضروری ہے کہ آئندہ یہ مثال قائم ہو جائے کہ کوئی شخص کسی کے خلاف ایسی مذموم حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ سزائیں واضح ہوں اور قوانین قائم ہو جائیں تاکہ عدالتوں کو ان قوانین کے عملی نفاذ اور فیصلہ لینے میں کوئی لیت و لعل سے کام نہ لینا پڑے۔

-2تا کہ مزدوروں، یومیہ اُجرت کے ملازموں اور ملازمتوں کے حقوق کو قانونی تحفظ حاصل ہو سکے۔ لیبر لاز کے عملی نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

-3اقلیتوں کے حقوق کو آئینی تحفظ مل سکے۔ اُنہیں بھی دیگر شہریوں کی طرح حقوق حاصل ہو سکیں خاص طور پر حق مذہب و حق عبادت اور حق ملازمت قانون کی نظر میں قابل تحفظ بن سکیں۔

-4دین اسلام کا اصل چہرہ، جو امن و سلامتی اور ہم آہنگی پر مبنی ہے لوگوں کے سامنے آ سکے اور اس کا آفاقی پیغام دُنیا کو واضح کیا جا سکے۔

-5اقلیتوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کا کماحقہ تحفظ ہو سکے۔

-6جبری مشقت اور غلامانہ رویئے کے طرز عمل کو قابل سزا اور ناقابل معافی جرم تصور کیا جا سکے۔

-7وطن عزیز پاکستان کا سوفٹ اور مساویانہ امیج اُبھر کر سامنے آ سکے۔

-8انتہا پسندی، تنگ نظری اور کمزوروں کو حقیر سمجھنے کی سوچ کا خاتمہ کیا جا سکے۔

-9بین الاقوامی برادری کو یہ باور کرایا جا سکے کہ پاکستان میں تمام طبقہ فکر کے لوگوں کو آئینی و قانونی حقوق حاصل ہیں اور یہاں قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔

-10اقلیتیں اور مظلوم طبقات اپنے آپ کو محفوظ سمجھ سکیں۔ ظالم اور اعلیٰ طبقات اپنے آپ کو جواب دہی کا پابند بنا سکیں۔ کمزوروں کے خلاف ظلم وجبریت اور نا انصافی کا خاتمہ ہو۔

-11 انسانی وقار، اقدار اور روایات کو اُجاگر کیا جا سکے۔

-12نچلے طبقے کا استحصال قابل گرفت جرم قرار پا سکے۔

-13معاشرے میں لحاظ، پیار محبت اور امن و آشتی کے جذبات پنپ سکیں۔

-14تاکہ اقلیتیں، دلجمعی سے ملکی ترقی میں کماحقہ کردار ادا کر سکیں۔

-15 آئندہ کسی کو ایسا گھناؤنا جرم کرنے کی جرأت نہ ہو سکے اور ایسے جرائم کا خاتمہ کیا جا سکے۔

-16ہرجگہ بشمول بھٹہ مزدورکو حکومت سے منظور شدہ تنخواہ، الاؤنسز، پنشن، سوشل سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ بھٹہ مزدوروں کی باقاعدہ رجسٹریشن ہو، یونینیں انتخابات کے لئے فعال ہوں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ کوٹ رادھا کشن کے اس انسانیت سوز واقعہ کو بنیاد بنا کر اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہو سکے۔ میڈیا، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس سلسلے میں مربوط اور پائیدار کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ اس واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے، نہ ہی مذہب سے اس کا کوئی تعلق ہے۔ یہ سراسر انسانی حقوق اور انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اس کو اس تناظر میں دیکھتے ہوئے اس سے سبق حاصل کیا جا سکے اور اسے آئندہ کے لئے قابل مثال بنا دیا جائے، ورنہ آج اگر مصلحت کے تحت اس واقعہ کودبا دیا گیا تو کل اس سے بھی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے جس سے ملک کی بدنامی تو ہو گی ہی، ہمارے اپنے معاشرے کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ جہاں احساس نام کی کوئی چیز نہیں رہے گی اور آئندہ بھی ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے اور ہم جگ ہنسائی اور دُنیا میں باعث تماشام بنتے رہیں گے۔

مزید :

کالم -