چین نے غذائی قلت کا ناقابل یقین حل ڈھونڈ نکالا، گوشت کہاں سے اکٹھا کیا جائے گا؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

چین نے غذائی قلت کا ناقابل یقین حل ڈھونڈ نکالا، گوشت کہاں سے اکٹھا کیا جائے ...
چین نے غذائی قلت کا ناقابل یقین حل ڈھونڈ نکالا، گوشت کہاں سے اکٹھا کیا جائے گا؟ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر کے ممالک اپنی گوشت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جانوروں کی فارمنگ پر توجہ دیتے ہیں مگر چین نے اس مسئلے کا بھی انوکھا حل ڈھونڈ نکالا ہے۔اس نے کلوننگ(غیرجنسی طور پر ڈی این اے کے ذریعے نئے جانور پیدا کرنا یا مصنوعی طریقے سے جانور پیدا کرنا)کے ذریعے جانوروں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔باقی دنیا میں ایک بحث چل رہی ہے کہ کیا مصنوعی طریقے سے پیدا کیے گئے جانوروں کا گوشت کھانا اخلاقی طور پر اور حفظان صحت کے حوالے سے درست ہے یا نہیں۔ مگر چین نے اس بحث میں پڑے بغیر ان جانوروں کی افزائش کے منصوبے پر کام شروع بھی کر دیا ہے۔

مزید جانئے: مقابلہ حسن کے بعد نہایت عجیب مقابلہ ،مردوں کا تانتا بندھ گیا ،جھگڑے اور دھاندلی کے الزامات

اس مقصد کے لیے چین نے بیجنگ سے 100میل کے فاصلے پر 20کروڑ یوآن(تقریباً 3ارب روپے)کی لاگت سے دنیا کا سب سے بڑا کمرشل اینمل کلوننگ سنٹر کرے گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ 2016ءمیں یہ سنٹر کام شروع کر دے گا۔ یہ منصوبہ بویا لائف(BoyaLife)نامی کمپنی بنا رہی ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ژوژیاﺅچن نے برطانوی اخبار”دی گارڈین“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم ایک ایسے راستے پر سفر کرنے جا رہے ہیں جس پر اس سے پہلے کوئی نہیں گیا۔ ہم ایک ایسا ادارہ بنانے جا رہے ہیں جس کی مثال اس سے قبل دنیا میں موجود نہیں۔ہماری کمپنی اس سنٹر کے ذریعے سالانہ 1لاکھ گائیوں کے ایمبریو پیدا کرے گی۔ ہمیں امید ہے کہ ہم چین کی گوشت کی ضرورت کا 5فیصد فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -