جیفری بائیکاٹ نے قومی ٹی 20ٹیم میں تجربات کو احمقانہ قرار دیدیا

جیفری بائیکاٹ نے قومی ٹی 20ٹیم میں تجربات کو احمقانہ قرار دیدیا

  

لندن (آئی این پی)انگلینڈکے معروف کمنٹیٹر جیفری بائیکاٹ نے پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں تجر بات کو احمقانہ قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی حرکتیں تو کرکٹ سے نابلد افرادہی کرسکتے ہیں، پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا دیگر ٹیموں سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا اس وقت پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم ناصرف تجربہ کار ہے بلکہ اس کا کمبی نیشن بہت مضبوط ہے ، ون ڈے اور ٹوئنٹی20میچوں میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔موجودہ پاکستانی ٹیسٹ ٹیم میں ہر نمبر پر کھلاڑی کو پتہ ہے کہ اس کا کردار کیا ہے تاہم محدود اوورز کی کرکٹ میں صورتحال یکسر مختلف ہے جہاں کسی کو اپنے کردار کا کچھ معلوم ہی نہیں۔اگر میں کپتان یا ٹیم مینجمنٹ میں ہوں تو میں سیریز کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہی فیصلے کروں گا۔میرے خیال میں مستقبل اور بڑے ایونٹ کے لئے تجربات کچھ نہیں ہوتے اور پھر تجربات اگر بڑے ایونٹ کے لئے ہیں تو اس کے لئے اے ٹیم ہے اور اے ٹیم کو ان ممالک میں بھیجنا چاہیے، جہاں بڑا ایونٹ ہورہا ہے۔اگر آپ کہیں کہ دبئی یا شارجہ میں آپ کھلاڑیوں کو آزما کر انگلینڈ میں کھیلے جانے والی چیمپئنز ٹرافی یا ورلڈ کپ میں کارکردگی دکھائیں گے تو مجھے آپ کی کرکٹ کی سمجھ پر بس133 ہنسی ہی آسکتی ہے کیونکہ بے جان وکٹوں پر بیٹنگ و بالنگ اور بات ہے جبکہ انگلینڈ کی وکٹوں پر بالنگ اور بیٹنگ دوسری بات ہے، انگلینڈ میں گیند جتنا سوئنگ ہوتا ہے اتنا کسی اور ملک میں نہیں ہوتا تو میرے خیال میں پاکستان کو مستقل تجربات سے باہر آنا چاہئے اور پھر ایک دو کھلاڑیوں پر کبھی کبھار ہی تجربات کئے جانے چاہئیں۔مجھے کوئی بتائے گا کہ یہ کیاحکمت عملی ہے؟ مجھے تو یہ بات کبھی بھی سمجھ نہیں آئے گی اور اگر میں پاکستانی ٹیم کا کھلاڑی ہوتا تو میں کہتا کہ آپ اپنے تجربات کرلیجئے۔میں بعد میں کھیل لوں گا جب آپ کے تجربات ختم ہوجائیں میں اس نمبر پر ہی کھیلوں گا۔

َکیونکہ اگر آپ مجھے ایک دن اوپنر اور اگلے دن مڈل آرڈر میں بھیج دیں گے تو میں نہ تو ٹیم کے کام کا رہوں گا اور نہ ہی مجھے خود کھیلنے میں مزا آئے گا۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -