اس ڈکیت کی کہانی جسے عدالت نے سزا تو سنادی لیکن پولیس اسے جیل میں ڈالنا بھول گئی، حقیقت سامنے کیسے آئی؟ انتہائی دلچسپ کہانی

اس ڈکیت کی کہانی جسے عدالت نے سزا تو سنادی لیکن پولیس اسے جیل میں ڈالنا بھول ...
اس ڈکیت کی کہانی جسے عدالت نے سزا تو سنادی لیکن پولیس اسے جیل میں ڈالنا بھول گئی، حقیقت سامنے کیسے آئی؟ انتہائی دلچسپ کہانی

  

نیویارک(نیوزڈیسک)پاکستان میں پولیس سے غلطیوں کا ہونا ایک معمول ہے اور لوگوں کو پولیس کے ناروا سلوک کا نشانہ بننا پڑتاہے لیکن امریکہ میں ایک بار ایسا بھی ہوا کہ ایک ڈکیت کو عدالت نے سزاسنادی لیکن پولیس کی ایک معمولی غلطی سے وہ شخص جیل نہ گیا۔

تفصیلات کے مطابق مائیکل اینڈریسن کوعدالت نے 2000ءمیں ڈکیتی کرنے کے الزام میں میسوری سٹیٹ جیل میں13سال قیدکی سزا سنائی تھی تاہم کچھ عرصے بعد وہ ضمانت پر رہا ہوگیا۔تاہم مئی 2002ءمیں اس کی نظر ثانی کی درخواست مستردہوگئی لیکن ایک معمولی غلطی کی وجہ سے اس کوحراست میں نہ لیا گیااور جیل حکام یہی سمجھتے رہے کہ وہ جیل میں قید ہے جبکہ وہ جرم کرنے کے باوجودآزادی کے مزے لوٹتا رہا۔اس بات کا علم نہ ہوسکا کہ ایسی کونسی کلیریکل غلطی تھی جس کی وجہ سے اسے حراست میں نہ لیا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس غلطی کا اس وقت علم ہوا جب جیل حکام نے اس کی سزا کا وقت پوراہونے پر اسے جیل سے آزاد کرنے کے لئے تلاش کیا۔غلطی کا اندازہ ہونے پر اسے 25جولائی 2013ءکو دوبارہ گرفتار کرلیاگیا اور نہ صرف امریکی بلکہ بین الاقوامی میڈیا بھی اس کیس پر گہری نظر رکھنے لگااور لوگ مختلف آراءمیں بٹ گئے،کچھ کا کہنا تھا کہ اسے اب حراست میں نہیں لیاجاسکتا جبکہ کچھ کی رائے مختلف تھی۔تاہم کئی اپیلوں کے بعد مئی2014ءمیں اسے رہا کردیا گیالیکن اسی سال مائیکل کو ایک اور کیس میں ملز ہونے پر گرفتار کیا گیا لیکن پھر وہ رہا ہوگیا۔

مزید جانئے: روس کی خوبصورت ترین سیاستدان کو اپنے ہی شوہر نے دھماکے سے اڑادیا، انتہائی افسوسناک وجہ بھی سامنے آگئی

پولیس کاکہنا ہے کہ مائیکل اپمنے ایک دوست کے ساتھ مل کر اگست1999ءمیں برگر کنگ کی دکان لوٹنے میں ملوث تھااور پولیس دوماہ تک اس کی نگرانی کرتی رہی اوربالآخر اسے گن پوائنٹ پر دکان لوٹنے پر گرفتار کرلیاگیا۔پولیس کو اس کے اپارٹمنٹ سے کوئی گن تو نہ ملی لیکن ایک بروشر ملا جس میں گن کے بارے میں معلومات تھیں اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس کے پاس گن تھی جس کی وجہ سے عدالت نے اسے مجرم گردانتے ہوئے 13سال کی قید کی سزا سنائی لیکن وہ اپیل میں گیا اور ضمانت پر رہاہوگیا تاہم اس کی ضمانت منسوخ ہوگئی لیکن پولیس کی غلطی سے اسے تب تک گرفتار نہ کیا گیا جب تک اس کی رہائی کی تاریخ نہ آگئی اور پولیس اور جیل حکام کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -