چینی طرز کے باہمی انحصار والے صنعتی زونز کو پاکستان میں متعارف کرایا جائے

چینی طرز کے باہمی انحصار والے صنعتی زونز کو پاکستان میں متعارف کرایا جائے

  

لاہور(کامرس رپورٹر)چینی طرز کے باہمی انحصار والے صنعتی زونز کو پاکستان میں متعارف کرایا جانا چاہئے ۔یہ بات پاک چین جوائینٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہی۔اُنہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر انحصار رکھنے والی مربوط صنعتوں کے توسط سے صنعتوں کے درمیان افرادی قوت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ وسائل ،انفراسٹرکچراور توانائی کا تبادلہ بھی عمل میں لانا آسان ہوتا ہے۔صنعتی سمبیاسس( Symbiosis ) ایک ایسا ماڈل ہے جس کے تحت بڑی صنعتیں چھوٹی صنعتوں سے باہمی مفاد کے تحت ایک دوسرے سے جڑی رہتی ہیں ۔فیصل آفریدی نے کہا کہ چین نے سمبیاٹک Symbiotic صنعتی زونز کو متعارف کرانے کیلئے ملک میں بیشترماحول دوست صنعتی پارکس قائم کرنا شروع کر دیئے ہیں جن میں ایک صنعت کا فالتو کچرا پانی وغیرہ اور ضائع شدہ میٹریل دوسری صنعت کے مینوفیکچرنگ عمل میں استعمال کیاجاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے تحت ایسی صنعتوں کو گروپس اور پارکس کی شکل میں اکٹھاکیاگیا ہے جو کہ کسی نہ کسی حوالے سے ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہیں ۔

فیصل آفریدی نے چین کی اس کامیاب پالیسی کو سراہتے ہوئے چین کو صنعتی پیداوار کی دنیا میں "ورلڈ پلانٹ" کا نام دیا۔پاک چین جوائینٹ چیمبر کے صدر نے بتایا کہ چین نے ترجیحی بنیادوں پر جدید تکنیکی ہائی ٹیک ماحول دوست صنعتی پارکس قائم کر کے اپنی صنعتوں کو غیر معمولی رفتار سے ترقی دی۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ 2013ء کے اختتام تک چین 300 کے قریب نیشنل صنعتی پارکس ،210 اکنامک اینڈ ٹیکنالوجیکل دویلپمنٹ ایریازاور تقریبا 113 ہائی ٹیک پارکس قائم کر چکا تھا اورحال میں ہی انڈسٹریل سمبیاسس Symbiosis کے کامیاب شاہکار بھی منظرعام پر آ رہے ہیں ۔فیصل آفریدی نے تجویز دی کہ ایکو انڈسٹریل زونز کو دو طریقے سے پاکستان میں متعارف کرایا جا سکتا ہے ۔ایک طریقی تو یہ ہے کہ چھوٹے صنعتی یونٹس بڑے یونٹس کے وسائل سے مستفید ہوں یا پھر غیر ملکی سرمایہ کاری کی مدد سے نئے سرے سے ما حول دوست صنعتی زونز تعمیر کیئے جائیں جن میں نئی صنعتیں نئی ٹیکنالوجی اور جدید تکنیکوں کے ذریعے مقصد کے حصول کو یقینی بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو عملی طور پہ متعارف کرانے کیلئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس ضمن میں کاربن کریڈٹس یا پھر گرین ٹیکس کریڈٹ جیسی ترغیبات کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں جن کے تحت ماحول دوست مینوفیکچرنگ پراسس اپنانے والی صنعتوں کوٹیکسوں میں رعائت دی جاسکتی ہے۔فیصل آفریدی نے کہا کہ مستحکم صنعتی ماحول کے فروغ اور معیشت کی بحالی کے لئے پاکستانی سیاسی قیادت اور پالیسی سازوں کو تمام امکانات کا تفصیلی جائزہ لینا ہو گا کیونکہ ایک جامع اور منظم صنعتی پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید :

کامرس -