سمگلنگ کے ناسور پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں

سمگلنگ کے ناسور پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں

  

لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ سمگلنگ کے ناسور پر قابو پانے کے لیے انتہائی سخت اقدامات اٹھائے کیونکہ اس کی وجہ سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر اربوں ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد نے کہا کہ سمگلنگ ہماری معاشی نشوونما کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے، افغانستان، ایران، چین اور بھارت سے سمگل شدہ اشیاء ایک سیلاب کی طرح آرہی ہیں ، چونکہ ان پر کوئی ڈیوٹی یا ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا لہذا سستی ہونے کی وجہ سے صارفین انہیں مقامی اشیاء پر ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی مارکیٹیں سمگل شدہ اشیاء سے بھری پڑی ہیں جس کی وجہ سے مقامی صنعتیں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا بھی بہت غلط استعمال ہورہا ہے اور اس معاہدے کے تحت آنے والی اشیاء کا ایک بڑا حصہ غیر قانونی طور پاکستان میں ہی کھپا دیا جاتا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ اگر حکومت نے سمگلنگ کی روک تھام کے لیے فوری اور سخت اقدامات نہ اٹھائے تو صورتحال مزید خراب ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں کی زیادہ شرح سمگلنگ کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہی ہے لہذا حکومت اْن اشیاء پر ڈیوٹیاں اور ٹیکس کم کرے جو سمگلنگ کے لیے کشش رکھتی ہیں۔ شیخ محمد ارشد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا بھی ازسرنو جائزہ لے کیونکہ یہ سمگلنگ کا ایک بڑا ذریعہ بن کر پاکستانی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق 2001سے 2009ء کے دوران افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی وجہ سے قومی خزانے کو 35ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بارڈرز پر جدید سکینرز نصب کرے تاکہ غیرملکی مصنوعات سمگل ہوکر ملک میں نہ آسکیں اور چیک پوائنٹس پر ایماندار اور باصلاحیت افسران تعینات کیے جائیں۔ سمگل شدہ مال فروخت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے کیونکہ یہ ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچارہے ہیں۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ سمگلروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا اور انہیں سخت سزا دینا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ اپنے ذاتی فائدے کے لیے قومی مفادات کو داؤ پر لگارہے ہیں۔

مزید :

کامرس -