امریکہ کا دوسرا چہرہ

امریکہ کا دوسرا چہرہ
 امریکہ کا دوسرا چہرہ

  

ایک اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ دہشت گردی کو بڑھانے میں مغربی اور خصوصاً امریکی رقم استعمال ہو رہی ہے۔ اخبار نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ پیرس حملوں کے بعد یہ بحث تو کی جا رہی ہے کہ داعش کو مالی مدد کون کرتا ہے مگر اس پر بحث نہیں کی جاتی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عراق پر قبضے کے بعد دنیا میں دہشت گردی کا گراف کس طرح تبدیل ہوا ہے؟اسرائیل سے امریکہ کے متعلق ایسا کوئی انکشاف آئے تو حیرت ہوتی ہے۔ کیونکہ اسرائیل کا وجود امریکہ کا مرہون منت ہے۔ اکثر امریکی صدور کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب وہ اقتدار میں آتے ہیں تو اسرائیل کے حامی ہوتے ہیں مگر جب وہ اقتدار سے رخصت ہوتے ہیں تو اس کے مخالف بن چکے ہوتے ہیں۔ صدر کارٹر نے اپنے دور حکومت میں مشرق وسطیٰ کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے سوویت یونین کے ساتھ مل کر اس کے متعلق ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا تھا۔ مگر اس وقت کی اسرائیلی حکومت کو یہ پسند نہیں تھا۔ اس لئے مناہم بیگن کے وزیرخارجہ موشے دایان نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل کے مفادات کے خلاف کچھ ہوا تو اسرائیل امریکہ کے ساتھ ہونے والے تمام خفیہ معاہدوں کو منظر عام پر لے آئے گا۔ یہ دھمکی اتنی موثر ثابت ہوئی کہ صدر کارٹر نے اسرائیلیوں کو ناراض نہ کرنے کا فیصلہ کیا مگر اس وقت صدر کارٹر غصے سے پھٹ پڑے تھے جب انہیں بتایا گیا کہ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے امریکہ میں ان کے مخالف سیاستدانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ کارٹر کو شکست کیسے دی جا سکتی ہے؟

امریکہ اسرائیل کو ناراض نہیں کر سکتا۔ مگر کیرن آرمسٹرانگ جیسے دانشوروں کا خیال ہے کہ اسرائیل کے قیام سے درحقیقت مغربی طاقتوں نے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے۔ صلیبی جنگوں کے تجربے سے مغرب یہ سمجھ گیا تھا کہ حریف مسلم ریاستوں کے درمیان عیسائی ریاست کی بقا ممکن نہیں ہے۔ کیرن آرمسٹرانگ کا خیال ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے وجود کے لئے بڑے بڑے چیلنج پیدا ہو جائیں گے۔ اسرائیل نے امریکہ سے تعاون کے خفیہ معاہدے کر رکھے ہیں۔ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ نہ صرف امریکہ کو خفیہ معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ اس کی خواہش پر علاقائی معاملات میں بھی مداخلت کرتا ہے۔

اسرائیلی اخبار نے ایک انتہائی خطرناک بات کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں سچائی ہو مگر امریکہ کی یہ نئی حکمت عملی نہیں ہو گی۔انقلاب ایران کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات بہت خراب ہو گئے تھے اور اس دوران امریکہ نے عراق کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا تھا۔ کچھ عرصہ قبل اینڈریو کاکبرن اور لزلی کاکبرن کی امریکہ اور اسرائیل کے خفیہ تعلقات پر مبنی ایک تہلکہ خیز کتاب "DANGEROUS LIAISON" منظر عام پر آئی تھی۔ اس میں مصنف نے یہ انکشاف کیا تھا کہ اگرچہ اس وقت ایران اور امریکہ کے تعلقات خراب تھے مگر ایران عراق جنگ میں دونوں طرف امریکہ تھا۔ صدام حسین نے جنگ سے پہلے امریکی سفیر سے مشورہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے اس معاملے میں قطر اور اردن کے سربراہان کو بھی اعتماد میں لیا تھا۔ کتاب کے مطابق اس سلسلے میں صدام حسین سعودی عرب بھی گئے تھے اور انہوں نے شاہ فہد سے ملاقات کی تھی۔ شاہ فہد نے رخصت کرتے ہوئے صدام حسین کے تین بوسے لئے تھے اور اسے اپنی بھرپور آشیرباد سے نوازا تھا۔ امریکہ نے عراق کو اسلحہ دیا۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات فراہم کیں۔ مگر دوسری طرف اس نے ایران کی مدد کے لئے اسرائیل سے کہا۔ ایران کے پاس امریکی ساختہ فوجی آلات تھے اور ان میں سے اکثر سپیئرپارٹس نہ ہونے کی وجہ سے بیکار ہو چکے تھے۔ امریکہ کی آشیر باد سے ایران نے اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی شروع کر دی۔

مارچ 1982ء میں نیویارک ٹائمز نے یہ خبر دی کہ اسرائیل نے ایران کو تقریباً 100ملین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا ہے۔ ان میں جہازوں کے ایسے آلات بھی تھے جو امریکہ نے اسرائیل کو فروخت کئے تھے۔ یوں امریکی اسلحہ ایک طرف عراق میں پہنچ رہا تھا تو دوسری طرف ایران سے بھی ڈالر پہنچائے جا رہے تھے۔ صدر صدام حسین کو ایران سے اتنی مزاحمت کی امید نہیں تھی۔ ایرانی بڑے جوش و جذبے سے جنگ میں حصہ لے رہے تھے۔ ایرانی جذبہ شہادت سے سرشار نوجوانوں کو دھماکہ خیز سرنگوں کے علاقے میں بھجواتے تھے اور یہ نوجوان اپنے پاؤں سے ان خطرناک سرنگوں کو صاف کرتے تھے اور اکثر شدید زخمی یا شہید ہو جاتے تھے۔ ان نوجوانوں کے گلے میں پلاسٹک کی بنی ہوئی ایک چابی ہوتی تھی جس کے متعلق انہیں یقین ہوتا تھا کہ یہ جنت کا دروازہ کھول دے گی۔ پلاسٹک کی بنی ہوئی یہ چابیاں اسرائیل میں تیار ہوتی تھیں۔ایک طرف امریکہ ایران کے خلاف بیان بازی کر رہا تھا تو دوسری طرف اسرائیلی وزیردفاع کہہ رہے تھے کہ عراق اسرائیل کا دشمن ہے اور ہمیں یقین ہے کہ بہت جلد ایران کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات بحال ہو جائیں گے۔ ایک اسرائیلی اخبار’’ہرٹز‘‘ کے مطابق ایران کے متعلق اسرائیلی پالیسی محض کاروبار تھی۔ شاہ ایران اسرائیل سے بڑے پیمانے پر اسلحہ درآمد کرتا تھا۔ مگر انقلاب ایران کے بعد جب اسلحہ کی خریداری بند ہوئی تو بہت سی اسرائیلی اسلحہ ساز فیکٹریاں بند ہو گئیں۔ اس علاقے میں بیروزگاری پھیل گئی۔ ایران عراق جنگ نے اسرائیلی معیشت کو ایک نیا موقعہ فراہم کیا تھا۔ اسرائیل نے ایران کی خواہش پر اسلحہ دینا شروع کر دیا۔ اس وقت امریکہ نے ایران کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی لگا رکھی تھی اور امریکہ دوسرے ملکوں پر بھی دباؤ ڈال رہا تھا کہ وہ ایران کو اسلحہ فروخت نہ کریں۔ اس دباؤ کی وجہ سے جنوبی کوریا‘ اٹلی‘ پرتگال‘ سپین اور ارجنٹائن نے ایران کو اسلحہ فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ مگر دوسری طرف اسرائیل امریکہ کی ایما پر ایران کو اسلحہ فروخت کر رہا تھا۔

مئی 1982ء میں ایریل شیرون نے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ وہ امریکہ کی اجازت سے ایران کو اسلحہ فروخت کر رہے ہیں مگر امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس سے انکار کر دیا۔ امریکیوں کے اس طرز عمل کی وضاحت کرتے ہوئے اسرائیلی جنرل ٹامیر نے بتایا کہ ’’انقلاب کے بعد امریکیوں نے سوچا کہ انہوں نے ایران کو سوویت یونین سے بچانا ہے۔‘‘ انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ سوویت یونین نے ایران میں مداخلت کی تو گلف کی بندرگاہوں پر قبضہ کر لیں گے۔ اس کے بعد ایران پر حملہ کریں گے اور پھرایران کو تقسیم کر دیں گے۔ افغانستان کے بعد امریکی سوویت یونین کو کسی صورت میں بھی ایران میں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ جنرل ٹامیر کے مطابق ہم نے ایران کو جو کچھ بھی بھجوایا اس کے لئے امریکہ کی اجازت حاصل کی۔ ایران نے اسرائیل سے ہی اسلحہ نہیں خریدا تھا بلکہ اس نے سوویت یونین سے فوجی ٹرک خریدے اور شمالی کوریا اور چین سے اسلحہ حاصل کیا۔ جنگ میں ایک مرحلے پر صدام حسین کو علم ہو گیا کہ اسرائیل ایران کی مدد کر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے آمادہ ہے بشرطیکہ اسرائیل ایران کو اسلحہ کی فراہمی بند کر دے۔ اس وقت جب اسرائیلی اسلحہ ساز فیکٹریاں ایران کے لئے اسلحہ تیار کر رہی تھیں تو اس وقت مصر میں اسلحہ ساز فیکٹریاں دن رات کام کر رہی تھیں اور مصری امریکہ کی اجازت سے اسلحہ عراقیوں کو فروخت کر رہے تھے۔

اینڈریو کاکبرن اور لزی کاکبرن کے مطابق امریکہ نے نہ صرف دونوں طرف اسلحہ کی فراہمی کو یقینی بنایابلکہ اس نے عراق اور بعض مواقع پر ایران کو بھی خفیہ معلومات فراہم کیں۔ ایک سینئر اردنی اہلکار کے مطابق امریکہ دو سال تک ہمارے توسط سے عراق کو انٹیلی جنس فراہم کرتا رہا۔ اس کے بعد اس نے یہ کام اپنے سفارتخانے کے ذریعے کرنا شروع کر دیا۔ فروری 1986ء میں امریکہ نے عراق کو ایک غلط اطلاع فراہم کی جس کے نتیجے میں بصرہ کے قریب عراق کو بھاری نقصان ہوا۔ صدام حسین اس پر بہت ناراض ہوا اس کا خیال تھا کہ اسے جان بوجھ کر غلط اطلاعات فراہم کی گئی تھیں۔ بہرحال یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جنوری 1981ء میں صدر ریگن کو عراقی فوجی تنصیبات اور نقل و حرکت کے متعلق خفیہ اطلاعات ایران کو فراہم کرنے کی اجازت دے دی تھی۔جس وقت ایران اور عراق جنگ لڑ رہے تھے اس دوران امریکہ کی بھرپور آشیرباد سے اسرائیلی طیاروں نے عراق کے ایٹمی ری ایکٹروں پر حملہ کر کیانہیں مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

دو معتبر امریکی اخبار نویسوں کی تحریر کردہ اس کتاب کو پڑھ کر اندازہ ہوتاہے کہ امریکہ ایران اور عراق دونوں کو لڑا رہا تھا۔ وہ اسرائیل کو دولت کمانے کے مواقع بھی فراہم کر رہا تھا اور اس نے اس دوران اسرائیل کو عراق کا ایٹمی ری ایکٹر تباہ کرنے کے لئے بھی آشیرباد دی۔ ایران عراق جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ دونوں ملکوں کا اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ نے اپنی اس حکمت عملی سے لاکھوں انسانوں کو قتل کیا۔ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی دوستی سے تو انکار ممکن نہیں ہے۔ مگر مشرق وسطیٰ کے کسی ملک نے اصل صورتحال کا ادراک کرنے کی کوشش نہیں کی۔ سب نے کسی نہ کسی انداز میں اس میں حصہ لیا اور فائدہ یا نقصان اٹھایا۔ مگر کسی نے امریکہ کا آلہ کار بننے سے انکار نہیں کیا۔ امریکہ نے ایران اور عراق دونوں کو سزا دی۔ اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ پر الزام لگا کر حق ادا ہو گیا۔ سب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ آخر لوگ امریکہ کی آشیرباد سے اپنے ہم مذہبوں پر ہتھیار اٹھانے کے لئے کیسے تیار ہو جاتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے درست جواب کی ماضی کی نسبت آج کہیں زیادہ ضرورت ہے۔عالم اسلام کی بقاء اور ترقی کا راز امن و سلامتی میں ہے۔ جب تک اسلامی ممالک میں آگ و خون کا کھیل جاری رہے گا‘ مغرب کی معیشت کی مضبوطی کے سامان پیدا ہوتے رہیں گے۔ عالم اسلام کے راہنماؤں کو امن اور صرف امن کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہ آج کا نوشتہ دیوار ہے۔

مزید :

کالم -