رمادی شہر کو داعش سے چھڑانے کیلئے عراقی فوج بڑے آپریشن کیلئے تیار

رمادی شہر کو داعش سے چھڑانے کیلئے عراقی فوج بڑے آپریشن کیلئے تیار

  

بغداد(کے پی آئی)عراق کی فوجی کمان نے مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی میں مقیم شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔الرمادی پر داعش نے مئی سے قبضہ کررکھا ہے اور عراقی سکیورٹی فورسز اس شہر کا کنٹرول واپس لینے کے لیے ایک بڑی کارروائی کی تیاری کررہی ہیں۔عراقی میڈیا کے مطابق الرمادی کے جنوبی علاقے حمیرہ میں مقیم خاندانوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں۔البتہ مزید کوئی ہدایت یا تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ الرمادی پر دوبارہ قبضے کے لیے عراقی سکیورٹی فورسز کب التوا کا شکار آپریشن شروع کریں گی۔امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے ہفتے کے روز الرمادی کے نزدیک داعش کے ٹھکانوں ،اسلحہ ڈپوں اور اہم اہداف پر سات حملے کیے تھے۔داعش کے جنگجووں نے اس سال مئی میں عراقی فوج کو شکست دینے کے بغداد سے ایک سو پندرہ کلومیٹر مغرب میں واقع الرمادی پر قبضہ کیا تھا۔تب وہاں عراقی فوجی اپنی چوکیوں کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر گئے تھے۔عراقی فورسز نے حالیہ مہینوں کے دوران الرمادی کے شمال اور مغرب میں واقع بعض علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہاں سے داعش کے جنگجووں کو پسپا کردیا ہے۔صوبہ الانبار میں عراقی فوج کے شانہ بشانہ شیعہ ملیشیاں پر مشتمل الحشد الشعبی کے جنگجو بھی داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں۔الحشد الشعبی کے ترجمان احمد الاسعدی اور عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے مئی کے وسط میں داعش کے الرمادی پر قبضے کے وقت کہا تھا کہ شہر کو آیندہ دنوں میں دوبارہ فتح کر لیا جائے گا۔

لیکن ساڑھے چھے ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ داعش کو شکست نہیں دے سکے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -