پینٹاگون کا دردِ سر!

پینٹاگون کا دردِ سر!
 پینٹاگون کا دردِ سر!

  

اقبال کی نگاہ، سیاسیاستِ عالم پر کتنی گہری تھی اس کا اندازہ کرنے کے لئے قاری کو صرف شعر فہمی ہی کی ضرورت نہیں، بلکہ تاریخ فہمی کی ضرورت اس سے بھی زیادہ ہے۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں زمانے کے نشیب و فراز کا ادراک عطا کرتا ہے اور قرآن حکیم کا مطالعہ کیجئے تو اس کو سمجھنے کے لئے بھی جب تک تاریخِ انسانی کا عہدوار (Chronological) شعور نہ ہو، خدا کے اس کارخانہء شش جہات میں فطرت کی کارفرمائیاں سمجھ میں نہیں آ سکتیں۔ اسی لئے تو جگہ جگہ ارشادِ باریٰ تعالیٰ ہے کہ کیا تم فلاں بات میں غور نہیں کرتے؟ فلاں مظہر کی طرف نظر نہیں دوڑاتے؟ فلاں منظر کا نظارہ نہیں کرتے؟۔۔۔ حضرتِ آدم سے لے کر عہد نبویﷺ تک کون سا عہد ہے جس کا تذکرہ قرآن میں نہیں ملتا؟۔۔۔ بعض اقوام کا سرسری ذکر ہے تو بعض کی تفصیلات دی گئی ہیں اور پھر ان سے اسباق اخذ کئے گئے ہیں۔ مطالعہء تاریخ بھی میری نگاہ میں مطالعہ ء قرآن ہی کا ایک جزو ہے۔ یعنی قرآن فہمی، تاریخ فہمی کی متقاضی ہے۔۔۔

اور تاریخ کیا ہے؟

تاریخ آپ کی اپنی داستان ہے۔ تخلیقِ آدم سے عہدِ حاضر تک کی ٹائم لائن کا سرسری سا جائزہ لیں تو آپ پر کھلے گا کہ انسان ایک تسلسل سے آگے بڑھ رہا ہے، اور جون جوں آگے بڑھ رہا ہے، علوم و معلومات کے نئے آفاق اس پر وا ہوئے چلے جا رہے ہیں۔ انسان نے اگر آج ستاروں پر کمندیں ڈالنا شروع کی ہیں تو یہ احکامِ خداوندی ہی کی تکمیل تو ہے۔

1950ء کے عشرے میں جب سوویت یونین نے پہلا سپتنک (Sputnik) سیارہ چھوڑ کر خلاؤں کی تسخیر کاآغاز کیا تھا تو روسیوں کو آپ لاکھ ملحد کہتے رہیں انہوں نے یہ سیارہ خلا میں بھیج کر فرمانِ باریٰ تعالیٰ ہی کی بجاآوری کی تھی۔ یہ بات دوسری ہے کہ زبان سے وہ خدا کے وجود کے منکر تھے۔ لیکن جو کام وہ کررہے تھے وہ خدا ہی کے عین مین زیرِ احکام کر رہے تھے۔ بظاہر کسی روسی باشندے پر کوئی صحیفہء آسمانی نازل نہیں ہوا۔ لیکن جن اقوام پر صحیفے نازل ہوئے، ان کی قدیم و جدید تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے۔۔۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ عشّاق، نہ نہ کرتے بھی پیار کر بیٹھتے ہیں۔۔۔ اور پھر کہتے ہیں:

زباں سے فرمائے جا رہے ہیں نہ کوئی اپنا نہ ہم کسی کے

سنا ہے لیکن بنوکِ مژگاں بھی اک ستارہ مچل رہا ہے

خلاؤں کی تسخیر کے اس ملحدانہ روسی پروگرام کو بھی میں انسان کی اشک بار آنکھوں کا ایک ستارہ سمجھتا ہوں جو سوویٹ رہنماؤں کی آنکھوں پر مچلا اور اب جوں جوں وقت آگے نکل رہا ہے، ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات ہوتی جا رہی ہے!

مطالعہ ء تاریخ کے ساتھ ساتھ جغرافیہ کا مطالعہ بھی تاریخ فہمی ہی کی ایک شاخ ہے۔جیوگرافی دو الفاظ کا مرکب ہے۔۔۔۔ جیو (GEO)کا مطلب ہے ’’زمین‘‘ اور گرافی (Graphy) کا معنی ہے علم۔۔۔ یعنی زمین کا علم جغرافیہ ہے۔ اور زمین کا علم، زمین کی تاریخ ہی تو ہے۔ انسان اور زمین کا رشتہ اٹوٹ ہے۔ وہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے اور اسی میں ابدی نیند سو جائے گا۔لہٰذا انسان کی تاریخ، زمین کی تاریخ کے ساتھ یوں منسلک و مربوط ہے کہ ایک کو دوسرے سے جدا کرکے نہ دیکھا جا سکتا ہے ، نہ سمجھا جا سکتا ہے۔

اور قوم کیا ہے؟۔۔۔ یہ انسانوں کے ایک گروہ ہی کا کا نام تو ہے۔ اقوامِ عالم کی نشوونما اور ان کے ہمہ جہتی فروغ کے لئے معاشرتی علوم وجود میں آئے۔انہی معاشرتی علوم اور سماجی سرگرمیوں میں جنگ بھی شامل ہے۔ دانشورانِ جنگ و جدال نے جنگ کو اسی لئے ایک سماجی سرگرمی (Social Activity) سے تعبیر کیا ہے۔ کبھی ایک قوم آگے آتی ہے تو کبھی دوسری۔ اس عروج و زوالِ اقوام کا دورانیہ طے نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ میں ایک بار پھر قارئین کی توجہ اقبال کی طرف دلانا چاہوں گا:

جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا، وہ عالمِ پیر مر رہا ہے

جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا ہے قمار خانہ

تاریخی اور جغرافیائی علوم کے تناظر میں اگر قرآنِ مجید کا مطالعہ کیا جائے تو ایک دوسرا جہانِ معنی کھل جائے گا۔ حیرت ہے کہ اس موضوع پر بہت کم کام ہوا ہے۔ قرآن کو صرف ایک مذہبی اور آسمانی کتاب نہ سمجھا جائے بلکہ یہ تو ام الکتاب یعنی کتابوں کی ماں ہے ۔اس کے بطن میں علوم و فنونِ انسانی کے اَن گنت ’’بچے‘‘ موجود تھے(اور ہیں) بعض اب تک ڈلیور ہو چکے ہیں اور بعض کی ڈلیوری ہنوز باقی ہے۔ جن بچوں کو ابھی ڈلیور ہونا ہے، ان کی تعداد اور استعدادِ جسمانی و ذہنی کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ دیکھئے بابا ذہین شاہ تاجی نے اس مضمون کو کہاں سے اٹھا کر کہاں پہنچا دیا ہے:

خاک سے لالہ و گل، سنبل و ریحاں نکلے

تم بھی پردے سے نکل آؤ کہ ارماں نکلے

میں نے جب کالم کی پہلی سطر لکھی تھی تو ذہن میں تھا کہ روس اور ترکی کے حالیہ سٹینڈ آف کے تناظر میں اس سوال کو قارئین کے سامنے رکھوں گا کہ آیا یہ کشیدگی کسی تیسری عالمی جنگ کا باعث بنے گی یا نہیں؟ لیکن انسانی ذہن کی کارفرمایاں ملاحظہ کریں کہ بات کہاں سے نکلی اور کہاں جا پہنچی۔پہلی عالمی جنگ (1914-18ء) تو اقبال نے بچشم خود دیکھی اور دوسری عالمی جنگ (1939-45ء) سے ایک ڈیڑھ برس پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔ لیکن پہلی جنگ کے واقعات دیکھ کر انہوں نے دوسری جنگ کی جو شاعرانہ پیشگوئی کی تھی وہ ہمارے سامنے ہے۔ان کا ’’شاخِ نازک‘‘ والا شعر یاد کیجئے اور پھر ان کے انتقال کے صرف سات برس بعد اگست 1945ء کو جوہری جنگ کی ابتداء کی طرف نظر دوڑایئے تو آپ کو یقین آنے لگے گا کہ مغرب نے جو آشیانہ اس شاخ پر بنایا ہے وہ کتنا کمزور اور ناپائیدار ہے۔ دنیا کی کسی اخبار،رسالے یا میگزین کو اٹھا کر دیکھ لیں۔ الیکٹرانک میڈیا کا کوئی سا نیوز چینل کھول لیں، آپ کو یہ سوال ہر جگہ لکھے نظر آئیں گے کہ ترکی اور روس کی اس کشمکش کا اختتام کیا ہوگا؟۔۔۔ کیا اس جنگ کا دائرہ پھیلے گا؟۔۔۔ کیا اس کی انتہا جوہری جنگ ہے؟۔۔۔ یہی وہ عظیم سوال ہیں جو دنیا کی تیسری جنگِ عظیم کے امکان اور عدم امکان کی طرف ہماری سوچوں کو لے جاتے ہیں۔

ترکی، ناٹو کا رکن ہے۔۔۔ ناٹو، سرد جنگ کے دوران تو اگرچہ کوئی گرم ایکشن نہ دکھا سکی لیکن یہ گرم ایکشن اس نے سرد جنگ کے ختم ہو جانے کے بعد عراق، افغانستان، لیبیا اور شام میں ضرور دکھایا۔ تاہم یہی ناٹو، کوریا (شمالی کوریا)کی طرف نہیں جا سکی، نہ ہی یہ پاکستان کا رخ کر سکی ، اور نہ ہی ساؤتھ چائنا سمندر میں ’’اترنے‘‘ کا اسے حوصلہ ہوا۔ یقیناًان اطراف کا رخ ’’ناٹو‘‘ نے اس لئے نہیں کیا کہ ایسا کرنے سے جوہری جنگ کے آغاز کا خطرہ تھا۔ اور تو اور ایران کہ جو ہنوز جوہری لباس کے تانے بانے بن رہا تھا، اس کی طرف نکلنے کی ہمت بھی اس کو نہ ہو سکی۔بنابریں میں نہیں سمجھتا کہ یہ ناٹو اب ’’جوہری روس‘‘ کا رخ کرے گی۔ اس کے ایک رکن (ترکی) نے روس کا ایک طیارہ تو مار گرایا ہے لیکن اس کے بعد ’’چَپ چَپاں‘‘ سی ہو گئی ہے۔۔۔ روس، اس حرکت کا ترکی کو کیا جواب دینے والا ہے اور پھر ناٹو کے اس رکن کے خلاف روس کا جواب الجواب کیا ہوگا، یہ سب کچھ ابھی پردۂ اخفا میں ہے۔ روس نے اگرچہ ’’کمر میں چھرا گھونپنے‘‘ اور ’’خطرناک نتائج کے لئے تیار رہنے‘‘ کا مژدہ، ترکی کو سنا دیا ہے لیکن یہ قطرہ کب گہر بنتا ہے، اس کا مشاہدہ ہنوز باقی ہے۔ بظاہر تو امریکہ اور اس کے جنم جنم کے اتحادیوں کا جوڑا (برطانیہ اور فرانس) ترکی کو ہلہ شیری دے رہا ہے لیکن اگر کل کلاں، روس نے ترکی کے خلاف کوئی ایسا جوابی وار کر دیا جو ٹرکش F-16 کے وار سے زیادہ کارگر ہوا تو امریکہ اور اس کے جڑواں اتحادیوں کو ہزار بار سوچنا پڑے گا کہ معاملے کو مزید آگے بڑھانا ہے یا یہیں روک دینا ہے۔ امریکہ کا ٹریک ریکارڈ اگرچہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنی اندھی طاقت کے گھمنڈ میں بگٹٹ (Reckless) بھاگتا اور عاقبت نااندیشی سے کام لیتا ہے۔ اس کو زعم ہے کہ اس کی سرزمین پر اب تک کبھی حملہ نہیں ہوا۔ اور آئندہ بھی نہیں ہوگا۔ لیکن نہ صرف روس بلکہ روس کے بعد چین اور چین کے بعد شمالی کوریا کے پاس بھی آج ایسے میزائل موجود ہیں جو چشم زدن میں امریکہ کے ہر کونے پر ترازو ہو سکتے ہیں۔۔۔ اور یہ ایک الگ موضوع ہے ۔

آیا امریکی میزائل شکن نظام، امریکی سرزمین (Mainland) کو کسی مخالف میزائل حملے سے بچا سکے گا یا نہیں، یہی وہ سوال ہے جو آج کل پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کے ناخداؤں کے لئے دردِ سر بنا ہوا ہے:

دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا

مزید :

کالم -