پاکستان میں اقلیتوں سے حسن سلوک

پاکستان میں اقلیتوں سے حسن سلوک
 پاکستان میں اقلیتوں سے حسن سلوک

  

پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر ضرور بنا‘ مگر اس نظریے کی بنیاد اسلام پر ہے جو انسانوں کے درمیان تفریق کا قطعی قائل نہیں۔قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ پاکستان میں کوئی مسلمان نہیں ، کوئی عیسائی نہیں،کوئی ہندو نہیں ،کوئی سکھ نہیں ، سب پاکستانی ہیں اور ان کے حقوق مساوی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ متروکہ وقف املاک کا محکمہ تو ایک عرصے سے موجود چلا آرہا ہے‘ مگرصدیق الفاروق نے اس میں نئی جان ڈالی اور اقلیتوں کو ایک نیا افتخار بخشا ہے۔ پاکستان میں نہ صرف سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک اور ان کے ساتھیوں کی یادگاریں موجود ہیں‘ بلکہ رنجیت سنگھ کی مڑھی بھی موجود ہے۔حسن ابدال میں پنجہ صاحب کے آثار بھی سکھوں کیلئے متبرک ہیں۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین صدیق الفاروق نے بابا گورو نانک کے 547 ویں جنم دن کی تقریبات کا جائزہ لینے کے لئے گورودوارہ جنم استھان کا دورہ کیا اور بیرون و اندرون ملک سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں سے مسائل سنے اور انہیں فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی۔صدیق الفاروق نے سکھ یاتریوں سے فراہم کی گئی سہولتوں کے بارے بھی دریافت کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سکھ یاتریوں کی رہائش کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لئے آئندہ سال نیا بلاک اور 50 مزید نئے کمرے بنائے جائیں گے‘کیونکہ بھارت سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ یاتری ہمارے مہمان ہیں‘ جن کی بہترین خدمت ہمارا مذہبی، اخلاقی اور سماجی فرض ہے۔۔۔ سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات کے حوالے سے پلان ترتیب دیا گیا تاکہ تقریبات کے موقعہ پرملک اوربیرون ملک سے آنے والے سکھ یاتریوں کواپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے حوالے سے تمام سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کووہی حقوق حاصل ہیں جوکسی بھی شہری کوحاصل ہیں۔ حکومت کی جانب سے گوردوارہ پنجہ صاحب میں دو کروڑ، ننکانہ صاحب میں تین کروڑ، کرتار پور نارووال میں ایک کروڑ، جبکہ گورودوارہ ڈیرہ صاحب میں دو کروڑ روپے کی لاگت سے ترقیاتی کام جاری ہیں جو جلد مکمل ہو جائیں گے۔بیرون ملک سے آنے والے سکھوں نے پاکستان میں ہاؤسنگ اور زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے‘ جس پر ٹرسٹ بورڈ نے انہیں ہاؤسنگ پراجیکٹ کیلئے زمین دینے کی پیشکش کی ہے۔

پنجاب حکومت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے مستحق افراد میں ان کے تہواروں پر امدادی چیک تقسیم کرتی ہے جو انتہائی مستحسن اقدام ہے‘ لہٰذا اس سال وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت پر بابا گورو نانک کے جنم دن کے حوالے سے سکھ کمیونٹی اور ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے بھی امدادی چیک جاری کئے گئے ہیں۔۔۔ دوسری طرف بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے،اس کی بھیانک مثالیں موجود ہیں۔اقلیتوں کے ساتھ بھارتی حکومت اور انتہا پسندوں کا نفرت انگیز رویہ جاری ہے۔ حال ہی میں عالمی تجارتی میلے کے آخری روز پاکستان اور بنگلہ دیش کے تاجروں کے 99 سٹال لگانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے مالکان پر 50,50 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا اور سامان ضبط کرلیا گیا۔ عالمی تجارتی میلے میں پاکستان کے تاجر 25 سال سے سٹال لگا رہے ہیں۔ پاکستانی تاجر ’’وی اے ٹی‘‘ ڈیوٹی کی مد میں ہمیشہ سے ٹیکس دیتے آرہے ہیں۔

اس بار بھی پاکستانی تاجروں نے ٹیکس ادا کیا تھا، لیکن بھارتی حکومت نے بغیر پیشگی اطلاع کے نظام میں تبدیلی کی اور پھر غیر ملکی تاجروں کو اپنے نئے قواعدو ضوابط سے آگاہ بھی نہیں کیا،جس کے باعث پاکستانی اور بنگالی تاجروں کے پاس ’’پین کارڈ‘‘ نہیں تھا،وہ آن لائن رجسٹریشن نہیں کرواسکے۔ یہ تو بھارتی ٹریڈ آرگنائزیشن کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ غیر ملکی تاجروں کو نئے قواعد و ضوابط سے آگاہ کرتی، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تاجروں کا کوئی قصور نہیں۔ بھارتی حکومت کو اپنی ٹریڈ آرگنائزیشن کو اس حوالے سے مطلع نہ کرنے کی سزا دینی چاہئے۔ بھارتی حکومت نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تاجروں کو,50 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کر کے ان کا سامان بھی ضبط کر لیا ہے، جو سراسر زیادتی ہے۔ تاجر برادری آئندہ بھارتی سرزمین پر کسی بھی میلے میں شریک نہ ہونے کا اعلان کرے۔۔۔ اس وقت بھارت عدم برداشت کے باعث تباہی کے دہانے پر ہے۔ کسی وقت بھی انتہا پسند ہندو وہاں خون خرابہ کرسکتے ہیں۔ کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے‘ لیکن بھارتی انتہا پسندوں نے ارجنٹائن کی ٹیم کے میچ جیتنے پر اس پر پتھراؤ کیا‘ جس کے باعث ارجنٹائن کے کھلاڑیوں نے میچ کھیلنے سے ہی نکار کردیا۔

بھارتی حکومت کے ناروا رویے سے صرف بھارتی شہری ہی نالاں نہیں، بلکہ ہمسایہ ممالک بھی اس کی متشدد پالیسی کی زد میں آرہے ہیں۔ نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈومیں سکولوں کے ہزاروں بچوں نے رنگ روڈ پر انسانی زنجیر بنا کر مہیسسی لسانی اقلیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ نیپالی حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت مہیسی اقلیت کی حمایت کر رہا ہے، تاہم بھارتی حکومت اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ اس نے سرحد کو بند کیا ہوا ہے۔ نیپال میں 60 فیصد ادویات بھارت سے آتی ہیں ، اس کے علاوہ تیل، خوراک اور دیگر اشیاء بھی بھارت ہی سے نیپال آتی ہیں۔نیپال بھارت سرحد بند ہونے کی وجہ سے تیل، خوراک اور ادویات کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔کھٹمنڈو میں ہونے والے مظاہرے میں بچوں نے’’ سرحدی بندش ختم کرو۔۔۔ تعلیم ہمارا حق ہے۔۔۔ ہم بھارت کے سامنے نہیں جھکیں گے‘‘ کے نعرے لگائے۔

مزید :

کالم -