اصل ٹرائل!

اصل ٹرائل!

  

’’ہمارا میڈیا ٹرائل نہ کرو، ہمت ہے تو ہم پر جو بھی الزام ہے، عدالت میں ثابت کرو‘‘۔ سیاسی جماعت کے صف اول کے رہنما ببانگ دہل ایک ٹی وی پروگرام میں یہ فرما رہے تھے اور انداز یہ تھا گویا مجرم وہ نہیں، بلکہ پروگرام دیکھنے والے ہیں ۔ ویسے یہی فقرہ جرائم اور کرپشن میں لتھڑا ہر سیاسی لٹیرا بولتا ہے ،کیونکہ اس کو علم ہوتا ہے کہ کرپشن کا کوئی ثبوت اس نے چھوڑا نہیں اور گواہ کو وہ چھوڑے گا نہیں۔ ہر ایک کو علم ہے کہ ہمارا قانونی نظام اس قسم کا ہے کہ نہ تو مدعی کو کوئی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی گواہوں کو، اب کون ہمت یا بے وقوفی کرے کہ ان خطرناک لوگوں سے الجھے۔۔۔جن لوگوں نے تحفظ دینا ہے ،یا تو وہ خود ان لوگوں سے ملے ہوتے ہیں یا خود انہیں تحفظ درکار ہوتا ہے ۔ دور کیوں جائیے ،ایک شہید صحافی کا کیس ہے کہ تمام گواہ، پراسیکیوٹرسمیت اوپر پہنچا دیئے گئے اور اصل قاتل سزائے موت کا حکم ہونے کے باوجود ابھی زندہ ہیں۔۔۔۔جناب رسول پاکﷺ نے فرمایاکہ تم سے پہلے کے لوگ اس لئے ہلاک ہوگئے کہ وہ کمزوروں پر تو حد قائم کرتے اور بلند مرتبہ لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے۔۔۔ (صحیح بخاری 6787 (

ایمان سے کہیں، کیا اسی صورت کا ہم کو سامنا نہیں ہے؟ مغربی ممالک کو دکھانے کے لئے انسانیت کی ’’چمپئن‘‘ سابقہ پی پی پی حکومت نے سزائے موت پر عمل درآمدروک رکھا تھا۔ پشاور سکول سانحہ کے بعداس پر پابندی اٹھا لی گئی ،لیکن ہوا کیا، عام فوجداری جرائم میں سزایافتہ لوگوں کو تو پھانسی دینا شروع کر دی گئی ،لیکن جن مجرموں نے بیس بیس، پچا س پچاس اور بعض اکیلے فرد نے سو سے بھی زائد لوگوں کو قتل کیا ہوا ہے، ان دہشت گردوں کونہیں چھیڑاگیا،شاید اس لئے کہ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہے اور سیاست میں کسی بھی وقت اسمبلی میں ان کے ووٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے، سو یہ سبھی ایک دوسرے کو دیکھ کر یہی گیت گاتے ہیں ’’نہ تم ہمیں جانو، نہ ہم تمہیں جانیں‘‘ ۔۔۔ زین کیس دیکھ لیں ، مدعی اور درجنوں گواہ جو اس دن ٹی وی چینل پر گلا پھاڑ پھاڑ کر چھوٹی سے چھوٹی بات بھی تفصیل سے بیان کر رہے تھے ،اب کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تو کچھ دیکھا ہی نہیں اور زین کی مظلوم ماں کہہ رہی ہے کہ مَیں طاقتور لوگوں سے دشمنی نہیں لے سکتی،کیونکہ میری دو بیٹیاں بھی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک ’’ڈائیووگرل‘‘ کا معاملہ بڑے شور و زور سے اٹھا تھا۔ وہ بے چاری عزت لٹاکر خود ہی تھانے پہنچ گئی تھی ۔ خادم اعلیٰ بنفس نفیس ساری سڑکیں بند کر واکر اس مظلوم کو انصاف کی یقین دہانی کرانے اس کے گھر پہنچے۔ پولیس نے کراچی کے ریلوے سٹیشن پر فرار ہوتے ہوئے ایک مجرم کو گرفتار بھی کیا ،جس نے ہر چینل پر اپنے جرم کا اقرار بھی کیا،لیکن بعد میں کیا ہوا ! وہی زین کی ماں والا معاملہ ۔ لڑکی نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ اس شخص کو نہیں جانتی، سو معاملہ یا مقدمہ ’’ٹائیں ٹائیں فش ہوا‘‘

ایک واقعہ نہیں کئی واقعات ہیں کہ اخبارات کی سرخیاں چیخ رہی ہوتی ہیں کہ دیکھو فلاں مقتدر ہستی کے بیٹے نے فلاں لڑکی پر تیزاب پھینک دیا ہے، فلاں طالب علم کو کچل دیا ہے ،کیونکہ وہ اس کی ریس لگاتی گاڑی کے نیچے آگیا تھا۔ حکمرانوں کے نمائندگان یا ترجمان بھی فوراً میدان میں آجاتے ہیں کہ ہم اس شخص کو عبرت کا نشان بنا دیں گے ،لیکن ہوتا الٹ ہے، عبرت کا نشان مظلوم ہی بنتا ہے اور ظالم ایک نئے شکار کی تلاش میں نکل جاتا ہے۔۔۔جناب رسول پاکﷺ کے فرمان کے مطابق اگر بطور قوم ہمیں ہلاک ہونے سے بچنا ہے تو نظام میں تبدیلی لا نا ہوگی ۔ جن لوگوں پر کرپشن اور جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہوں ، جب تک وہ الزامات سے صاف اور بری نہ ہوں، انہیں حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، وگرنہ وہ اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر خود کوالزامات سے بری کروا لیں گے، جیسا کہ ایک سابق حکمران نے کیا ہے کہ ساری دنیا نے دیکھا کہ ان کا نمائیدہ برطانیہ میں تعینات ہائی کمشنر جنیوا میں کرپشن کے ثبوت غائب کرنے کے لئے ٹرنکوں میں بھر کر لے جارہا ہے ۔اب عدالت نے موصوف کو اس نکتے پر بری کردیا ہے کہ استغاثہ نے کاپی کاغذات پیش کئے ہیں ،لیکن اصل کاغذات پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اب ان کے حامی بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ اوئے:’’ہمارا میڈیا ٹرائل نہ کرو، ہمت ہے تو ہم پر جو بھی الزام ہے عدالت میں ثابت کرو‘‘۔۔۔ عوام کے ایک ادنیٰ نمائندے کی حیثیت سے مَیں ان کا دعویٰ تسلیم کرتے ہوئے اپنی شکست کا اعتراف کرتا ہوں کہ ’’ آپ جیتے ہم ہارے‘‘۔ آپ نے کرپشن کرکے جو دولت سمیٹی، وہ آپ کے اکاؤنٹ میں چلی گئی، اﷲپاک آپ کو عمر حضر عطاء فرمائے ،تاکہ آپ اس دولت سے لطف اندوز ہوسکیں ۔ رہ گیاسود سمیت اس کرپشن کا حساب ، وہ اب ’’ہم عوام‘‘ ہی ادا کریں گے۔ کہاں سے کریں گے ،اس کی فکر نہ کریں،وہ ہے نہ آپ اورہم سب کا مائی باپ ’’آئی ایم ایف‘‘ ۔ وہ بڑے اچھے طریقے سے اسحاق ڈار کو ’’بریف‘‘ کر رہا ہے۔ آپ نے جو کرپشن کی وہ ہم دنیا کی کسی عدالت میں ثابت نہیں کرسکتے، البتہ ایک اوپر والی عدالت رہ گئی ہے ،جہاں ہم نے آپ کا مقدمہ پیش کردیا ہے ۔ جہاں ’’اصل ٹرائل‘‘ ہوگا۔ دیکھتے ہیں وہاں لطیف کھوسہ اور جناب فاروق نائیک کون سے دلائل دیتے ہیں !!

مزید :

کالم -